استعفیٰ یا برطرفی مشکل گھڑی سری نواسن کے سر پر آپہنچی

وکلا آج سماعت سے قبل صدر بورڈ کوبچانے کے قانونی راستے تلاش کرنے میں مصروف


Sports Desk March 27, 2014
وکلا آج سماعت سے قبل صدر بورڈ کوبچانے کے قانونی راستے تلاش کرنے میں مصروف۔ فوٹو: فائل

صدر بھارتی کرکٹ بورڈ این سری نواسن کے سر پر مشکل گھڑی آپہنچی، آج سماعت سے قبل استعفیٰ نہیں دیا تو سپریم کورٹ خود ہی برطرف کرسکتی ہے،وکلا بچاؤ کے قانونی راستے تلاش کرنے میں مصروف ہیں۔

تفصیلات کے مطابق بھارتی سپریم کورٹ نے بی سی سی آئی کے صدر این سری نواسن کو منگل کے روز ہدایت کی تھی کہ وہ خود استعفیٰ دیدیں ورنہ 2 روز میں عدالت خود انھیں برطرف کرسکتی ہے، اب انکی قانونی ٹیم بچائو کے راستے ڈھونڈنے میں مصروف ہے، اس سلسلے میں بورڈ کے اپنے وکلا بھی سر جوڑ کر بیٹھے ہوئے ہیں، ذرائع نے کہاکہ سری نواسن کے پاس ایک آپشن تو یہ ہے کہ وہ خود مستعفی نہ ہوں اور اگر ان کیخلاف عدالت کا فیصلہ سامنے آتا ہے تو اس کیخلاف اپیل کردیں، اس میں کافی وقت لگ سکتا ہے، ایک آپشن یہ بھی ہے کہ عدالت سے فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست کی جائے، اس میں دوبارہ سماعت اور نئے نکات زیر بحث آسکتے ہیں۔

ایک آفیشل کا کہنا ہے کہ اگر وہ استعفیٰ دے دیتے ہیں تو انکی جگہ قائم مقام صدر کا انتخاب ہوگا،اگر آئی پی ایل کی تحقیقات کسی انجام پر پہنچ گئیں تو پھر سری نواسن ستمبر میں شیڈول اگلی مدت کیلیے بھارتی بورڈ کے صدارتی انتخابات میں حصہ لے سکتے ہیں، انھوں نے یہ بھی واضح کیا کہ عدالت ہدایت اور حکم دونوں ہی بی سی سی آئی کی صدارت کیلیے ہیں، ان کا سری نواسن کی تامل ناڈو کرکٹ ایسوسی ایشن میں پوزیشن سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔ دریں اثنا قائمقام صدر کیلیے شیولال یادیو کا نام سامنے آگیا ہے۔