من پسند چیئرمین ایس ای سی پی لانے کیلیے شرائط تبدیل

ایک مخصوص گروپ لابنگ کررہا ہے،کئی اداروں کوکمیشن کے دائرے سے نکال دیاگیا


Irshad Ansari March 28, 2014
ساراعمل مشکوک ہوگیا،ذرائع،سپریم کورٹ کی ہدایت کیخلاف نہیں گئے،سیکریٹری خزانہ فوٹو: فائل

سپریم کورٹ کے حکم پر قائم کردہ کمیشن اورفرگوسن کی تجاویزکے برعکس نئے سرے سے چیئرمین سیکیورٹیز اینڈایکسچینج کمیشن آف پاکستان کی ریکروٹمنٹ کاعمل شروع کردیا گیاہے۔

نئے چیئرمین کی تقرری کیلیے قابلیت کی شرائط میںتبدیلی سے تقرری کاسارا عمل شکوک و شبہات کاشکار ہوگیا ہے۔چیئرمین ایس ای سی پی کے عہدے کیلیے دوبارہ اشتہار دیکراہلیت کیلیے تجربے کی حد20سال سے کم کرکے 10سال کردی گئی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ وزارت خزانہ من پسند افرادکو نوازنا چاہتی ہے، ایس ای سی پی میں ڈپٹی ڈائریکٹر تک کے عہدے کی تعیناتی کیلیے اہلیت کے معیار میں تجربہ کی حد10سال مقرر ہے ،حکومت نے ایس ای سی پی کے کمشنرزکی تعیناتی کیلیے تجربے کی حد10سال مقررکی ہے اور انہی کمشنرز میں سے ایک کو چیئرمین ایس ای سی پی تعینات کیاجاتاہے۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ مسلم لیگ کے رہنمااوروفاقی وزیر خواجہ آصف کی ایک درخواست پرسپریم کورٹ نے اہم اداروں کے سربراہان کی تعیناتیوں کیلیے کمیشن بنانے کی ہدایت کی تھی،حکومت نے عبدالرؤف چوہدری کی سربراہی میں کمیشن بناکراسے اہم اداروں کے سربراہان کی تقرریوں کااختیار دیا تھا،مذکورہ کمیشن نے امیدواروں کے ٹیسٹ انٹرویوزکے ذریعے شارٹ لسٹنگ کیلیے ایک فرم فرگوسن کی خدمات لی ہیں۔ذرائع کا کہناہے کہ چیئرمین ایس ای سی پی کے عہدے کیلیے پہلے بھی درخواستیں لی گئیں جن پرمذکورہ فرم فرگوسن نے امیدواروں کے انٹرویوکرکے 7نام شارٹ لسٹ کرکے کمیشن کو بھجوائے،کمیشن نے3نام فائنل کرکے وزارت خزانہ کو بھجوائے تھے ۔ذرائع کا کہنا ہے اصولی طور پر وزارت خزانہ کی طرف سے مذکورہ3ناموں پر مشتمل پینل کی سمری حتمی منظوری کیلیے وزیراعظم کو بھیجی جانی چاہیے تھی۔

یہ عمل ابھی جاری تھا کہ وفاقی حکومت نے ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے ایس ای سی پی اور مسابقتی کمیشن میں تعیناتی کوکمیشن کے دائرہ کارمیں آنے والے اداروں کی لسٹ سے نکال دیا اور ان اداروں کے سربراہان کی تعیناتی براہ راست کرنے کافیصلہ کیا۔23مارچ کو وزارت خزانہ نے دوبارہ اشتہاردیاجس میں ایس ای سی پی کے 3کمشنرز اور ایک ممبر، صدر زرعی ترقیاتی بینک اور انفرا اسٹرکچر پروجیکٹ ڈیولپمنٹ فسیلٹی کے سی ای اوکی تعیناتی کیلیے خواہشمند ماہرین سے 15دن کے اندر اندر درخواستیں طلب کی گئیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ چیئرمین ایس ای سی پی اور چیئرمین مسابقتی کمیشن کی تقرریوں میں بدنیتی اس بات سے ظاہر ہوتی ہے کہ ان اہم عہدوں کیلیے تجربے کی حدکم کرکے کم کرکے10سال کردی گئی ہے ۔توقیر صادق کو چیئرمین اوگرا بنانے کے کیس میں ایک الزام یہ بھی تھا کہ ان کا تجربہ کم تھا ۔اس ضمن میں وزارت خزانہ کے حکام کا کہنا ہے کہ ایک مخصوص گروپ چیئرمین ایس ای سی پی اور چیئرمین مسابقتی کمیش کی تعیناتیوں کے حوالے سے اثرورسوخ استعمال کرکے اپنی مرضی کے لوگ تعینات کرنے کیلیے لابنگ کررہا ہے حالانکہ سپریم کورٹ نے فیصلہ دیاتھاکہ کسی بھی اہم قومی ادارے کے سربراہ کی تقرری کمیشن کی منظوری کے بغیر نہیں کی جاسکتی ۔اس حوالے سے جب وفاقی سیکریٹری خزانہ ڈاکٹر وقار مسعود سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے کہا کہ چیئرمین ایس ای سی پی اور چیئرمین مسابقتی کمیشن کے عہدے کیلیے درخواستیں طلب کی گئی ہیں ،درخواستیں ملنے کے بعد ان عہدوں پر نئے چیئرمینوں کی تعیناتیوں کا عمل شروع کیا جائے گا جب ان سے پوچھاگیا کہ کمیشن کے بجائے خصوصی کمیٹی ان تقرریوںکیلیے کیوں بنائی گئی ہے تو انھوں نے کہا کہ ہم سپریم کورٹ کی کسی ہدایت کیخلاف نہیں جارہے، یہ کمیٹی بھی اعلیٰ عدالت کے فیصلے کی روشنی میں بنائی گئی ہے۔