ناسا کی جانب سے چاند کی نئی تصاویر جاری
یہ تصاویر چاند سے صرف 130 کلو میٹر کی دوری سے 8210 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گزرتے وقت لیں
ناسا نے چاند کا چکر لگانے کے لیے بھیجے گئے اسپیس کرافٹ اوائن کی جانب سے عکس بند کی گئیں چاند کی نئی تصاویر جاری کردیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق بدھ کے روز امریکی خلائی ادارے ناسا کا اورائن کے ساتھ غیر متوقع طور پر رابطہ منقطع ہوگیا جو 47 منٹ بعد بحال ہوا۔ لیکن آف لائن ہونے سے قبل اسپیس کرافٹ نے چاند کی نئی دلچسپ تصاویر زمین پر بھیجیں۔
(تصویر: ناسا)
مشرقی معیارِ وقت کے مطابق اورائن کے ساتھ رابطہ صبح 1 بج کر 9 منٹ پر منقطع ہوا جس کے بعد ٹیمیں زمین پر مسئلے کو حل کرنے میں لگ گئیں۔ تاہم، مسئلے کے سبب کا تعین کیا جانا ابھی باقی ہے۔
اورائن اسپیس کرافٹ نے گڑھوں سے بھرپور چاند کی سطح کی یہ تصاویر چاند سے صرف 130 کلو میٹر کی دوری سے 8210 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گزرتے وقت لیں۔
جمعے کے روز اس اسپیس کرافٹ کا انجن چلایا جائے گا جس سے اسپیس کرافٹ چاند کے گرد مدار میں پہنچ جائے گا۔ اگر سب کچھ منصوبے کے مطابق ہوا تو اورائن اس مدار میں آئندہ ایک ہفتے تک رہے گا اور پھر یکم دسمبر کو زمین پر واپسی کا رخ کرے گا۔
واپسی پر اس اسپیس کرافٹ کا 11 دسمبر کو 25.5 دنوں کا مشن مکمل کرنے کے بعد بحرالکاہل میں اترنا متوقع ہے۔