مندر کے انہدام کے خلاف کے پی ٹی اور دیگر کو نوٹس جاری

عدالت نےہائیکورٹ کےناظرکوکمشنرمقررکرتےہوئےمذکورہ مندراوراطراف کا تفصیلی معائنہ کرکے رپورٹ 7دن میں پیش کرنے کی ہدایت۔


Staff Reporter September 15, 2012
عدالتی حکم پر عمل درآمد نہ کرنے پر چیف سیکریٹری سندھ، سیکریٹری تعلیم اور وی سی سندھ مدرسۃ الاسلام کو توہین عدالت کی درخواست پر نوٹس ۔ فوٹو : فائل

سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کے پی ٹی کو نیٹی جیٹی پل کے نیچے قائم شری لکشمن نارائن مندرکو منہدم کرنے سے روکتے ہوئے سیکریٹری پورٹس اینڈ شپنگ، چیئرمین کے پی ٹی، پورٹ گرینڈ لمیٹڈ، صوبائی وزیر مکیش کمار چائولہ اور ہندو پنچائیت کو 24 ستمبر کیلیے نوٹس جاری کردیے ہیں۔

عدالت نے ہائیکورٹ کے ناظر کو کمشنر مقرر کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ مذکورہ مندر اور اطراف کا تفصیلی معائنہ کرکے7 دن میں رپورٹ پیش کی جائے، درخواست گزار کیلاش وش رام نے زین اے جتوئی ایڈووکیٹ کے توسط سے دائر درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ وہ مذکورہ مندر کی حدود میں قائم کوارٹرز میں رہائش پذیر ہیں اور یہ مندر نیٹی جیٹی پل کے نیچے قیام پاکستان سے قبل تعمیر کیا گیا تھا۔

سمندر کے کنارے واقع یہ مندر ہندو برادری کی متعدد مذہبی رسومات کیلیے اپنی خاص حیثیت رکھتا ہے کیونکہ یہاں سمندر کے کھلے پانی کی سہولت ہے، لیکن کے پی ٹی کی جانب سے پورٹ گرینڈ لمیٹڈ کیلیے یہاں تعمیرات کی جارہی ہیں جن سے مندر کی سمندر میں اترنے والی سیڑھیاں متاثر ہورہی ہیں اور اس طرح ہندو برادری کی مذہبی رسومات کی ادائیگی کیلیے کھلے سمندر تک رسائی ختم کی جارہی ہے۔

جو کہ اقلیتی برادری کے بنیادی حقوق کیخلاف ہے، کے پی ٹی حکام نے اپنی تعمیرات کیلیے مندر کی دیواروں کو منہدم کرنا شروع کردیا جو کہ غیرقانونی عمل ہے، عدالت کے استفسار پر درخواست گزار نے بتایا کہ ہندو برادری کے نمائندے صوبائی وزیر ایکسائز و ٹیکسیشن اور ہندو پنچائیت کے رکن مکیش کمار چائولہ بھی انہدام میں ملوث ہیں۔

عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ صوبائی وزیر اور ہندو پنچایت کو بھی مدعا علیہان میں شامل کیا جائے، عدالت نے مدعا علیہان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے10یوم میں جواب داخل کرنے کی ہدایت کی ہے جبکہ اس دوران مندر کی چار دیواری، سیڑھیوں اور کاریڈو وغیرہ کی اصلی حالت کو تبدیل نہ کیا جائے۔

علاوہ ازیں سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد انور باجوہ کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے عدالتی حکم پر عمل درآمد نہ کرنے پرچیف سیکریٹری سندھ، سیکریٹری تعلیم اور وائس چانسلر سندھ مدرسۃالاسلام کو توہین عدالت کی درخواست پر نوٹس جاری کردیے ہیں، اکبر علی چانڈیو، مسمات شگفتہ خرم اور مسمات صائمہ محمود سمیت 16 درخواست گزاروں نے موقف اختیار کیا ہے کہ انھیں2006 میں سندھ مدرسۃالاسلام میں بحیثیت سنیئر ٹیچر اور لیکچرار تعینات کیا گیا تھا۔

مختلف اوقات میں کنٹریکٹ میں توسیع کی جاتی رہی تاہم18ویں ترمیم کے بعد وزارت تعلیم صوبائی حکومت کو منتقل کردی گئی، 13اکتوبر2011 کو فاضل عدالت نے اپنے حکم میں مدعا علیہان کو ہدایت کی تھی کہ درخواست گزاروں کو مستقل کرنے پر غور کیا جائے۔