معاشی شفافیت عوامی ریلیف ناگزیر

وزیراعظم نواز شریف کی ہدایت کی روشنی میں اوگرا نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں فوری طورپر کمی کردی ہے


Editorial April 01, 2014
ڈالر کی قیمت 98 روپے کے آس پاس ہونے کی وجہ سے درآمدات پر مثبت اثر پڑے گا. فوٹو: فائل

وزیراعظم نواز شریف کی ہدایت کی روشنی میں اوگرا نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں فوری طورپر کمی کردی ہے، پٹرول کی قیمت میں1.72 روپے، ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 2.90 روپے، ایچ اوبی سی کی قیمت میں4.66 روپے،لائٹ ڈیزل کی قیمت میں5.16 روپے جب کہ مٹی کے تیل کی قیمت میں5.61 روپے فی لٹر کمی کی گئی ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا فیصلہ پیر کو وزیراعظم ہائوس میں وزیراعظم نوازشریف سے وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار کی ملاقات میں کیا گیا ۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اطلاق آج سے ہوگا۔

اس بنیادی اقتصادی حقیقت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ عالمی معیشت کا زیادہ تر انحصار پٹرولیم مصنوعات اور اس سے حاصل ہونے والی توانائی کے بیش بہا وسائل سے ہے، جس ملک نے اپنے وسائل پر بھروسہ اور اپنی افرادی قوت سے استفادہ کیا وہ اقتصادی اور سماجی میدان میں زقندیں بھرتا رہا، آج دنیا کا معاشی انجن پٹرولیم مصنوعات کا محتاج ہے، لیکن ساتھ ہی متبادل توانائی کے نت نئے سستے وسائل کے استعمال کی جستجو میں لگی ریاستیں توانائی بحران کے خاتمے کی تگ ودو میں مصروف ہیں اوراقتصادی اہداف تک رسائی کو قومی خوشحالی کی کلید سمجھتی ہیں ۔ مگر ہماری معیشت کا ایک المیہ تو یہ ہے کہ اسے عدم شفافیت کے باعث پیدا شدہ قیاس آرائیوں،الزامات اور تضادات کا سامنا ہے، ادھر ملک میں تشدد ، لاقانونیت اور انتہا پسندی کے عفریت نے سیاسی و معاشی استحکام کے حصول کو اقتصادی صحرا کے طویل اور اعصاب شکن مسافت کا روپ دے دیا ہے۔

شاید ہی کسی ملک کی معاشی صورتحال کے بارے میں مبصرین ، اقتصادی ماہرین اور سیاست دان اس قدر مہیب تبصرے اور سویپنگ ریمارکس دیتے ہوں جتنے مایوس کن اشارے وہ ملکی معیشت کے نشیب و فراز کے بارے میں دیتے ہیں ۔ معاشی روایت سی بن گئی ہے کہ ہر نئی حکومت کا پہلا تبصرہ '' خزانہ خالی ہے'' سے شروع ہوتا ہے۔ مالیاتی خسارے ، اربوں کے قرضوں اور بد عنوانی کے سرطان سے اٹھنے والی چہ مگوئیوں اورتجزیوں کی گرم بازاری نے ملکی معیشت کو عوامی اعتماد سے کاٹ کر الگ کردیا ہے اور دوسری وجہ عوام کے لیے ریلیف کے نام سے اشرافیائی معاشی ترجیحات اور بجٹ کی شماریاتی جعل سازیاں ہیں ۔تاہم یہ خوش آیند بات ہے کہ وزیر خزانہ نے وزیراعظم کو ملک کی مجموعی اقتصادی صورتحال سے آگاہ کیا.

ان کا کہنا ہے ڈالر کی قیمت 98 روپے کے آس پاس ہونے کی وجہ سے درآمدات پر مثبت اثر پڑے گا جب کہ وزیراعظم نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے اعلان کے بعد تمام وزرائے اعلیٰ کوخط لکھا ہے جس میں ڈالرکے مقابلے میں روپے کی قدر میںاضافے سے تیل کی درآمدی قیمتوں میں5 فیصد کمی کی نشاندہی کرتے ہوئے وزیراعظم نے ہدایت کی ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قدرے ارزاں درآمدی قیمتوں اور سستی سفری قیمتوں کا فائدہ عوام کو بھی پہنچنا چاہیے، یہ حکومت کی دردمندی کا ثبوت ہے کہ اس کی ترجیحات میں عام آدمی واپس آگیا ہے۔ عوام ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں کمی کی توقع رکھتے ہیں، ٹرانسپورٹیشن کے اخراجات میں کمی سے بھی توقع ہے کہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بھی واضح کمی واقع ہوگی ، اب ملک بھر میں بسوں ، منی بسوں ، سوزوکیوں، پک اپس ، کوچز، رکشوں اور گڈز ٹرکوں کے کرایوں میں کمی نظر آنی چاہیے۔

شہری علاقوں میں ٹرانسپورٹ مافیا کسی قسم کی کمی نہ کرنے پر اڑ جاتی ہے، وہ پولیس کو لاکھوں کروڑوں کے بھتے تو دیتی ہے مگر عام مسافروںکو پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ نہیں اٹھانے دیتی ۔ صوبائی حکومتیں کرایوں میں کمی لانے کے لیے اپنی رٹ قائم کریں ۔وزیراعظم نوازشریف نے وزرائے اعلی کومخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ آپ اس سلسلے میں ذاتی طور پردلچسپی لیتے ہوئے صورتحال پرنظر رکھیں تاکہ قیمتوںمیں کمی کا فائدہ عام آدمی کو پہنچایا جا سکے ، یوں اب گیند چاروں صوبائی انتظامیہ کے کورٹ میں ہے۔ واضح رہے کہ مقامی مارکیٹ میں گزشتہ ایک ماہ کے دوران روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں8 روپے تک کمی ہوئی ہے ، یکم اپریل سے پٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتیں اس طرح ہوں گی، پٹرول 110.03روپے فی لٹر سے کم ہوکر108.31روپے، ہائی اسپیڈڈیزل کی قیمت 116.75 روپے سے کم ہوکر113.85روپے،ایچ اوبی سی کی قیمت 141.23 روپے سے کم ہوکر136.57روپے،لائٹ ڈیزل 100.22سے کم ہوکر95.06 روپے اورمٹی کے تیل کی قیمت 106.76روپے سے کم ہوکر101.15 روپے ہوگئی۔

اس خوش آیند فیصلے کے عوامی زندگی پر یقیناً مثبت اثرات مرتب ہونے کی ضرورت ہے جب کہ معاشی ضروریات کی تکمیل کے لیے ارباب اختیار کو عالمی دوروں میں ملکی معیشت کے استحکام، سرمایہ کاری کے نئے ذرایع اور فنانشل مارکیٹوں تک رسائی حاصل کرنا ہوگی، غیر ملکی دورے نتیجہ خیز اقتصادی ، مالیاتی ، پیداواری اور سماجی ترقی و عوامی خوشحالی کی نوید لے کر آئیں تب ملکی معیشت اپنے پیروں پر کھڑی ہوسکے گی۔ اس لیے امید کی جانی چاہیے کہ وزیر اعظم نواز شریف 9 اپریل سے 11 اپریل تک چین کاجو 3 روزہ دورہ کریں گے اس میں پاک چین اقتصادی تعاون کے حوالے سے دوطرفہ معاہدوں پر دستخط کے علاوہ اب تک کی پیشرفت کا جائزہ بھی لیا جائے گا۔ دوسری طرف جاپان کے نائب وزیر خزانہ اور پاکستان کے دورے پر آیا ہوا ترک سرمایہ کاروں کے ایک وفد کا منگل کو وزیر اعظم نواز شریف سے ملاقاتوں کا شیڈول طے تھا ،ان رابطوں سے ملکی معیشت میں سرمایہ کاری اور دو طرفہ مشترکہ منصوبوں کی تکمیل کی نئی راہیں کھلنا چاہئیں۔

وزیر خزانہ کے غیر ملکی دوروں کا بھی ملک کو فائدہ ہونا چاہیے۔لوڈ شیڈنگ بند ہونیکی کوشش تیز ہونی چاہیے تاکہ ملک میں جلد سے جلد بجلی کی فراہمی کا نظام مستحکم ہو۔چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ مسٹر جسٹس عمر عطا بندیال نے بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کے خلاف درخواست پر تمام ڈسٹری بیوشن کمپنیوں سے لوڈ شیڈنگ کا شیڈول مانگ لیا جب کہ گردشی قرضے کا آڈٹ کرانے اور آڈیٹر جنرل پاکستان کو بھی نوٹس جاری کرتے ہوئے 7اپریل تک رپورٹ طلب کر لی۔ درخواست گزار کے مطابق حکومت نے عدالت میں 6 گھنٹے لوڈ شیڈنگ کی یقین دہانی کرائی لیکن دیہی علاقوں میں 18 اور شہروں میں 10 گھنٹے لوڈ شیڈنگ کی جا رہی ہے۔ نہ صرف جنوبی پنجاب بلکہ ملک بھر میں بد ترین لوڈ شیڈنگ جاری ہے جس نے معمولات زندگی درہم برہم کر کے رکھ دیے ہیں۔

ادھرخیبر پختونخواکے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا ہے کہ کرپشن کے خلاف سخت اقدامات اور سرکاری مشینری میں زیادہ سے زیادہ شفافیت لانے کے ثمرات ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں ۔ وہ اسلام آباد میں ڈونرز کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے جس میں 22 امدادی اداروں کے سربراہوں اور متعلقہ ممالک کے سفراء نے شرکت کی ۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت امن و امان یقینی بنانے کے لیے پولیسنگ اور سیکیورٹی فورسز کی تشکیل نو کر رہی ہے، صوبائی حکومت نے تبدیلی اور اصلاحا ت کا جامع ایجنڈا شروع کیا ہے، ہم نے ان اقدامات کو قانونی ڈھال بھی مہیا کی ہے جس کی بدولت امدادی اداروں کو بھی یقین ہو گیا ہے کہ اُن کی ٹیکس رقم یہاں شفاف اور منصفانہ انداز میں خرچ ہو گی ۔ شفافیت کی اسی قسم کی مثالیں باقی صوبوں میں بھی قائم ہونا چاہئیں۔حکومت مہنگائی کو کنٹرول کرے، اپنی شاہ خرچیوں پر قابو ہائے، کرپشن کا ہر دروازہ بند ہو گا تب معیشت کے گل اور ثمر عوام کو بھی ملیں گے۔