قحط سے بروقت آگاہی کے باوجود بیورو کریسی نے وزیر اعلیٰ کو آگاہ نہیں کیا فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی رپورٹ

متعلقہ مختار کاروں نے بروقت قحط سالی کی رپورٹ پیش کردی تھی،بیوروکریسی کی نااہلی کے باعث 2ماہ سیکریٹریٹ میں پڑی رہی


Staff Reporter April 05, 2014
وزیراعلی سندھ بیوروکریسی کے آگے بے بس ہیں،معاملہ نوٹس میں آنے کے بعد بھی ان کے احکام پر عملدرآمد نہیں کیاگیا،ذرائع۔ فوٹو: آن لائن/فائل

تھرپارکر میں قحط سالی اور ہلاکتوں کی تحقیقات کیلیے ڈی آئی جی حیدرآباد ثنااللہ عباسی کی سربراہی میں قائم فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں کہاہے کہ محکمہ ریونیوکے متعلقہ افسران نے ستمبر 2013 میں ہی تھرمیں قحط کی نشاندھی کرتے ہوئے اقدامات کرنے کی سفارش کی تھی لیکن ڈپٹی کمشنر سے سیکریٹریٹ تک ان رپورٹس پرفوری کارروائی نہیں ہوئی، جس کی وجہ سے انسانی المیہ پیش آیا۔

توقع ہے کہ یہ رپورٹ8اپریل کوسندھ ہائیکورٹ میں پیش کردی جائے گی ۔ذرائع کے مطابق رپورٹ میں بتایاگیاہے کہ ڈپٹی کمشنرتھرپارکرنے علاقہ آفت زدہ قراردینے کی درخواست تاخیرسے دی، تھرپارکر کے 2 مختارکاروں نے ستمبر2013میں ہی میں قحط کی رپورٹ پیش کی تھی جبکہ حکومت نے ضلع کوآفت زدہ قرار دینے میں تاخیر کی اور2 ماہ8روز لگادیے،رپورٹ میں مزید کہا گیاکہ تھرپارکرکے بارے میں سمری سیکریٹریٹ میں پڑی رہی لیکن منظوری نہیں دی گئی،رپورٹ میں تھرپارکرمیں ہونیوالی ہلاکتوں اورصحت کی سہولیات سے متعلق بتایا گیاکہ سال 2013-14 میں سول اسپتال مٹھی میں 196بچے جاں بحق ہوئے، تھر پارکرمیں ماہر ڈاکٹرزکی 34 میں سے 27 آسامیاں خالی ہیں جبکہ جنرل ڈاکٹرزکی 251 میں سے 163 اسامیاں خالی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ضلعی انتظامیہ نے بچوں کی شرح اموات روکنے پرغفلت کامظاہرہ کیااوردوسری جانب وزیر اعلیٰ سندھ کے واضح احکام پربھی عمل درآمد نہیں کیاگیا،اسی طرح وزیر اعلیٰ کے احکام کے باوجود بیوروکریسی نے سستی اور غفلت برتی اور محکمہ ریلیف،خزانہ ، صحت اور خوراک کی غفلت کے باعث بھی حالات بگڑے،فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی نے بتایا ہے کہ خوراک کی ترسیل کی مدمیں ٹرانسپورٹرز کو 2008-9 کے واجبات بھی ادا نہیں کیے گئے۔مذکورہ رپورٹ جلدہی سندھ ہائی کورٹ میں پیش کردی جائے گی۔واضح رہے کہ سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس مقبول باقرنے سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سیکریٹری عاصم اقبال کی درخواست پرتھرپارکرمیں قحط سالی اور ہلاکتوں کا ازخود نوٹس لیا تھا ،اس سے قبل فاضل عدالت کی جانب سے مقرر کردہ انکوائری افسر ڈسٹرکٹ ایند سیشن جج عمر کوٹ نے اپنی رپورٹ میں بتایا تھا گیا کہ دو عدالتی افسران نے 15مارچ 2014کو قحط سے متاثر ہونے والے علاقوں کا تفصیلی دورہ کیااوراپنی رپورٹ پیش کی۔

جس کے مطابق ضلع عمر کوٹ میں میڈیکل افسران کی شدید کمی ہے جبکہ منظور شدہ401 اسامیوں میں سے 281تاحال خالی ہیں۔ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹراسپتال عمر کوٹ میں کوئی بھی اسپیشلسٹ ڈاکٹر موجود نہیں، اسپیشلسٹ ڈاکٹرزکی تمام اسامیاں خالی ہیں،اسپتال کی عمارت ضلع کا درجہ ملنے کے بعد1993سے تعمیرنہیں کی گئی،اسپتال تعلقہ اسپتال کی عمارت میں قائم جو عمارت تھی وہ 2001میں مسمار کرکے2005میں دوبارہ تعمیر کی گئی مگر 9سال گزرنے کے باوجود مکمل نہیں ہوسکی۔

یہ عمارت انتہائی خستہ حالت میں جو کسی بھی وقت گرسکتی ہے جبکہ یہاں ایکسرے مشین گزشتہ ایک سال سے ناکارہ ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ علاقے میں خواتین اور بچوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے ،اسپتال کے قیام سے اب تک یہاں گائناکولوجسٹ اور چائلڈ اسپیشلسٹ کی اسامیاں خالی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ 4سالوں سے سرکاری اسپتالوں کو مطلوبہ سہولیات فراہم نہیں کی جارہیں اور مشینری کی بھی کمی ہے جبکہ صحت کے بنیادی مراکز میں تمام سہولیات موجود ہیں اور وہاں مشینری بھی موجودہے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ قحط سے متاثر ہونے والے علاقوں مین خوراک کی عدم فراہمی کے باعث25ہلاکتیں ہوئی ہیں۔