گڈگورننس کے لیے وزیراعظم کا درست فیصلہ

سول سروس میں سنجیدگی سے اصلاحات عمل میں لائی جا رہی ہیں جس میں استعداد کار‘ تربیت اور مناسب مسابقےکو مدنظر رکھا جائیگا


Editorial April 05, 2014
سول سروس میں سنجیدگی سے اصلاحات عمل میں لائی جا رہی ہیں جس میں استعداد کار‘ تربیت اور مناسب مسابقےکو مدنظر رکھا جائیگا فوٹو: فائل

وزیراعظم پاکستان میاں محمد نوازشریف نے پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروسز گروپ (سابقہ ڈی ایم جی گروپ) کے 19 افسران کی گریڈ20 سے21میں ترقی روک لی اور 26 افسران کو گریڈ21 میں ترقی دینے کی منظوری دے دی ہے۔ سینٹرل سلیکشن بورڈ نے اپنے فروری کے اجلاس میں45 افسروں کو گریڈ 21 میں ترقی دینے کی سفارش کی تھی جس پرفیصلہ کرتے ہوئے جمعہ کو وزیراعظم نے صرف 26 افسروں کی ترقی کی منظوری دی جب کہ 19افسروں کا کیس سینٹرل سلیکشن بورڈکوواپس بھیجتے ہوئے ہدایت کی کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق اجتماعی بصیرت مدنظررکھتے ہوئے ترقی کافیصلہ کیاجائے۔ یہ سیٹیں سینٹرل سلیکشن بورڈکی نئی سفارش تک خالی رہیں گی۔ اطلاعات کے مطابق سینٹرل سلیکشن بورڈ کو ان افسروں کے کیس واپس بھجواتے ہوئے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو بتایا کہ وہ بورڈ کی سفارشات کو جائز اور منصفانہ نہیں سمجھتے کہ اس کی سفارشات کو قبول کر لیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ عوامی مفاد میں صرف بہترین ساکھ کے حامل افسران کو ہی ترقی ملنا چاہیے۔ وزیراعظم کے اس فیصلے کی وجہ سے سینٹرل سلیکشن بورڈ کے کردار اور موثریت پر سوالات بھی پیدا ہو گئے ہیں۔ یاد رہے کہ سینٹرل سلیکشن بورڈ نے اپنے آخری اجلاس میں صرف چند ہی افسران کو نظرانداز کیا تھا۔

دوسری جانب اسی روز جب سینٹرل سلیکشن بورڈ کا اجلاس ہوا تھا' ملٹری کمانڈرز کا بھی اجلاس ہوا تھا۔ اس اجلاس کا مقصد بریگیڈیئر رینک کے افسروں کو ترقی دینا تھا۔ اس اجلاس میں زبردست طریقے سے ترقی کے کیسز کو کم کیا گیا تاکہ صرف بہترین افسران ہی کو ٹو اسٹار جرنیل کے طور پر ترقی مل سکے۔ وزیراعظم پاکستان نے فوج کے اسی طریقہ کو پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا ہے۔ وزیراعظم نے جن افسران کی ترقی روکی ہے ان میں سجادبھٹہ، منظرحیات، لالہ فضل الرحمان، احمد یار خان، ذوالقرنین عامر، نوید کامران، اقبال بابلانی، آفتاب مانیکا، اسلم حیات، جاوید نثار، عمران افضل چیمہ ، میاں اعجاز، عبدالجلیل، فاروق احمدخان، اطہرحسین سیال، راشدبشیرمزاری، ثاقب علیم اور مختارحسین شامل ہیں جب کہ ترقی پانے والوں میں یاسمین مسعود، علی رانجھا، رضوان بشیر، آفتاب حبیب، طارق مسعود، علی ظہیرہزارہ، شجاعت علی، اوریا مقبول جان عباسی، محسن حقانی، اعجازعلی خان، شعیب احمدصدیقی، زاہدسعید، شاہدتارڑ، حماداویس آغا، الطاف ایزد،شاہ صاحب، ارباب عارف، سیمانجیب، حسن اقبال، سرداراحمدنوازسکھیرا، مظفرمحمود،اﷲ بخش،یونس ڈھاگہ، شمائل احمدخواجہ ،مصباح تونیو اور ٹیپو مہابت شامل ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ موجودہ حکومت نے گڈگورننس یا اچھی حکمرانی کے لیے سرکاری افسروں کی تقرری اور تنزلی کے حوالے سے موثر اصلاحات نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور چونکہ سول بیورو کریسی حکومتی کارکردگی کی سب سے اولین ذمے دار ہوتی ہے لہٰذا سب سے پہلے اس شعبے میں اصلاحات لانے کا فیصلہ ہوا ہے۔ سول افسروں کا انتخاب بنیادی طو رپر ایک مقابلے کے امتحان یعنی سی ایس ایس کے ذریعے ہوتا ہے جو پبلک سروس کمیشن آف پاکستان کے زیراہتمام کیا جاتا ہے۔ یہاں ترقی کے لیے سنیارٹی واحد بنیاد ہوتی ہے جس میں سروس کی کوالٹی' اختراعات کی اہلیت یا ذاتی کردار کی یکجہتی کو شاذ و نادر ہی پیش نظر رکھا جاتا ہے۔

19ویں گریڈ تک ترقی سرکاری محکمے داخلی طور پر کرتے ہیں تاہم گریڈ 20 تک اور اس سے اوپر کی ترقی کے لیے سینٹرل سلیکشن بورڈ (سی ایس بی) وزیراعظم کی زیرصدارت ہونے والے اجلاس میں فیصلہ کرتا ہے۔ گزشتہ روز وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف نے 20ویں اور 21ویں گریڈ میں ترقی کے لیے 18 کیسز نظرثانی کے لیے واپس بھجوائے تاکہ ان افسروں کی یکجہتی' اہلیت' مہارت اور استعداد کار کا جائزہ لے کر ان کے بارے میں فیصلہ کیا جائے۔ وزیراعظم کا نکتہ نظر ہے کہ ترقیاں صرف ملازمت کی مدت کی بنیاد پر ہی نہیں ہونی چاہئیں بلکہ ان کی استعداد کار کا ایک باقاعدہ نظام کے تحت جائزہ لیا جانا چاہیے جس طرح کہ پاک فوج میں ہوتا ہے لہٰذا سول بیورو کریسی کے لیے بھی اس طرح کے نظام کی پابندی کی جانی چاہیے۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ سی ایف بی کے حالیہ اجلاس میں وزیراعظم نے ''سفارش'' کی بناء پر دی جانے والی ترقیوں پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔ وزیراعظم کے اس فیصلے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اب اچھی حکمرانی کی ابتداء ہو جائے گی نیز حکومت قوم کی خدمت کے لیے صحیح معنوں میں باصلاحیت اور کوالیفائیڈ افسروں کو سامنے لانا چاہتی ہے۔ گزشتہ سال وزیراعظم نواز شریف نے دفتر خارجہ میں سول افسروں سے خطاب کرتے ہوئے صاف صاف الفاظ میں کہا تھا کہ اب اشرافیہ کا کروفر مزید قابل قبول نہیں ہے بلکہ حکومتی ملازمت کا اصل مقصد شہریوں کی خدمت کرنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سول سروس میں سنجیدگی سے اصلاحات عمل میں لائی جا رہی ہیں جس میں استعداد کار' تربیت اور مناسب مسابقے کو مدنظر رکھا جائے گا۔ یہ اصلاحات ہر سطح پر کی جائیں گی۔ اب ہر سرکاری ملازم کو اپنی کارکردگی بہتر بنانے پر توجہ دینی ہو گی۔