کے آئی ایچ ڈی کو جدید آلات اور مشینیں فراہم 240 بستروں کا طبی کمپلیکس زیر تعمیر

ای سی جی،ڈائیلائسز،15مانیٹرنگ مشینیں،3وینٹی لیٹرز اور پورٹ ایبل ایکسرے مشین مریضوں کےعلاج کیلیے دستیاب ہونگی، بریفنگ


Staff Reporter September 16, 2012
سانحہ بلدیہ ٹائون کے لواحقین کو امداد ، بحالی اور روزگار کی فراہمی کیلیے تاجر برادری کے تعاون سے اقدامات جاری ہیں،عشرت العباد کی کے ایم ڈی سی میں میڈیا سے گفتگو، فوٹو: پی پی آئی

KARACHI: گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان نے کہا ہے کہ کراچی انسٹی ٹیوٹ آف ہارٹ ڈیزیزز (کے آئی ایچ ڈی) کو جدید طبی آلات اور مشینوں سے لیس کردیا گیا ہے۔

تاکہ امراض قلب میں مبتلا مریضوں کو علاج معالجے کی بہتر سہولتیں میسر آسکیں، یہ بات انھوں نے کراچی انسٹیٹیوٹ آف ہارٹ ڈیزیزز میں (Coronary Care Unit) CCU کا افتتاح کرتے ہوئے کہی۔

اس موقع پر وزیر صحت سندھ ڈاکٹر صغیر احمد، ایڈمنسٹریٹر کراچی محمد حسین سید، ڈائریکٹر میڈیکل سروسز ڈاکٹر اے ڈی سنجرانی، قائم مقام ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر طاہر حسین سمیت دیگر اعلیٰ افسران اور ماہرین قلب بھی موجود تھے، انھوں نے کہا کہ یہ اسپتال پاکستان کی پہچان بن چکا ہے، کراچی کے علاوہ ملک کے مختلف شہروں سمیت ایران اور افغانستان سے امراض قلب میں مبتلا افراد بھی اسپتال سے رجوع کررہے ہیں۔

240 بستروں پر مشتمل اسپتال کمپلیکس تعمیر ہورہا ہے جس میں امراض قلب میں مبتلا مریضوں کیلیے علاج کی بہتر سے بہتر سہولتیں مہیا کی جائیں گی،گورنر سندھ نے کہا کہ اسپتال کو پوسٹ گریجویٹ انسٹیٹیوٹ کا درجہ حاصل ہو چکاہے، یہاں دو سالہ کارڈیولوجی ڈپلومہ کورس اور تین سالہ میڈیکل، ٹیکنیکل ڈپلومہ کورس شروع کیا جا رہا ہے۔

اس موقع پر ایڈمنسٹریٹر کراچی محمد حسین سید نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ کراچی انسٹی ٹیوٹ آف ہارٹ ڈیزیزز کے CCUII میں ڈائیلائسز مشینیں، ای سی جی مشینیں، 15مانیٹرنگ مشینیں، 3وینٹی لیٹرز اور پورٹ ایبل ایکسرے مشین فراہم کی گئی جبکہ15 بستروں کے اضافے کے ساتھCCUکو سینٹرلی ایئرکنڈیشنڈ کردیا گیا ہے، انھوں نے بتایا کہ مشینوں کی خریداری پر2کروڑ روپے لاگت آئی ہے۔

اسپتال میں ہائی پاور جنریٹر نصب کیے گئے ہیں، انھوں نے بتایا کہ بلدیہ عظمیٰ اسپتال پر20کروڑ روپے سالانہ خرچ کرتی ہے جو ضرورت کے لحاظ سے کم ہے لہٰذا رواں سال اس رقم میں معقول اضافہ کیا جارہا ہے، اسپتال کے قائم مقام ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر طاہر حسین نے بتایا کہ اسپتال کے ریونیو میں اضافے کیلیے شام کے اوقات میں فاسٹ ٹریک کنسلٹنٹ کلینک کا آغاز کیا گیا ہے۔

گورنر سندھ نے اس موقع پر اسپتال میں داخل مریضوں کی عیادت اور ان کی خیریت دریافت کی، علاوہ ازیں کراچی میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج کو3بڑی بسیں عطیہ کرنے کی تقریب کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر سندھ نے کہا ہے کہ سانحہ بلدیہ ٹائون کے لواحقین کو معاوضے کی ادائیگی، متاثرین کی بحالی اور روزگار کی فراہمی کیلیے تاجر برادری کے تعاون سے اقدامات جاری ہیں۔

آئندہ ایسے اندوہناک واقعات سے بچنے اور قواعد وضوابط پر عمل درآمد کیلیے لائحہ عمل تیار کیا جارہا ہے، ڈی این اے ٹیسٹ کیلیے کراچی میں بھی لیبارٹری قائم کی جائے گی، ڈی این اے ٹیسٹ کے بعد لاشوںکی شناخت سے سانحے میں لاپتہ افراد کے عزیز و اقارب کی تشویش ختم ہوجائیگی۔