افغان انتخابات دوسرے دور کا امکان

عبداللہ عبداللہ نے 2009ء میں ہونے والے انتخاب میں صدر حامد کرزئی کا مقابلہ کیا تھا اور دوسرے نمبر پر رہے تھے۔۔۔


Editorial April 10, 2014
عبداللہ عبداللہ نے 2009ء میں ہونے والے انتخاب میں صدر حامد کرزئی کا مقابلہ کیا تھا اور دوسرے نمبر پر رہے تھے فوٹو؛فائل

افغانستان کے صدارتی انتخاب میں حصہ لینے والے دو نمایاں امیدواروں اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ کے یہ دعوے سامنے آئے ہیں کہ وہ انتخاب کے دوسرے رائونڈ کے لیے بھی تیار ہیں۔واضح رہے افغان انتخابات میں اگر کوئی امیدوار پچاس فیصد تک یا اس سے زاید ووٹ حاصل نہ کر پائے تو اس صورت میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والے دو امیدواروں میں دوبارہ رائے شماری کرائی جاتی ہے۔ اشرف غنی ورلڈ بینک کے سابق ماہر اقتصادیات ہیں جب کہ عبداللہ عبداللہ نے 2009ء میں ہونے والے انتخاب میں صدر حامد کرزئی کا مقابلہ کیا تھا اور دوسرے نمبر پر رہے تھے۔

تیسرے امیدوار زلمے رسول نے بھی الیکشن میں حصہ لیا ہے' فی الحال یہ تو نہیں کہا جا سکتا کہ کون امید وار کامیاب ہو جائے گا تاہم عبداللہ عبداللہ اور اشرف غنی کے بیانات سے لگتا ہے کہ معاملہ دوبارہ الیکشن تک پہنچ سکتا ہے' عبداللہ عبداللہ شمالی اتحاد کے نمایندہ ہیں' اگر وہ کامیاب ہوتے ہیں تو افغانستان کی پالیسی میں خاصی تبدیلیاں رونما ہو سکتی ہیں اور افغانستان روس اور بھارت کے زیادہ قریب ہو جائے گا جب کہ اشرف غنی افغانستان کے پشتون ہیں' اگر وہ جیتتے ہیں تو پاکستان کے حوالے سے بہتری کی امید کی جا سکتی ہے۔