عدالتی تحویل سے 700 مویشی چوری ایس ایچ او سکھن معطل

ڈائریکٹر جنرل رینجرز سندھ کوعدالتی تحویل سے چوری کیے گئے مویشی بازیاب کرانے میں ہر ممکن تعاون کی ہدایت


Staff Reporter April 11, 2014
ڈائریکٹر جنرل رینجرز سندھ کوعدالتی تحویل سے چوری کیے گئے مویشی بازیاب کرانے میں ہر ممکن تعاون کی ہدایت. فوٹو: فائل

LONDON: پولیس کی ملی بھگت سے عدالتی تحویل سے700گائے اور بھینسیں چوری کرلی گئیں، عدالت نے ایس ایچ او سکھن کو معطل کرتے ہوئے آئی جی سندھ کو درخواست میں فریق بنانے کی ہدایت کردی اور ڈائریکٹر جنرل رینجرز سندھ کوعدالتی تحویل سے چوری کیے گئے مویشی بازیاب کرانے میں ہر ممکن تعاون کی ہدایت کی ہے۔

سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس منیب اختر نے یہ حکم محمد افضل کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت کرتے ہوئے جاری کیا،درخواست میں عدالت عالیہ کو بتایا گیا کہ مدعی کا مویشیوں کی دودھ اور گوشت کی صلاحیتوں میں اضافے کی ادویات فراہم کرنے والے ایک تاجر سے تنازع تھا، وہ اسے بھاری سود کے عوض ادویات فراہم کرتا تھا ، مدعی وقتا فوقتا اسکی ادائیگی کرتا تھا ، تاہم تاجر بلیک میل کرتے ہوئے اسے غیر قانونی کاموں میں ملوث کرنا چاہتاتھا ، اس دعوے کی سماعت کرتے ہوئے عدالت نے سندھ ہائی کورٹ کے ناظر کو کمشنر مقرر کرتے ہوئے لانڈھی کے دو کیٹل فارمز پر موجود مویشی کی تفصیلات اور رپورٹ جمع کرنے کی ہدایت کی تھی،ناظر نے 5اپریل کو دونوں کیٹل فارمز کا دورہ کرکے اپنی رپورٹ تیار کرلی تھی۔

رپورٹ کے مطابق دونوں فارمزپر700سے زائد گائے اور بھینسیں موجود تھیں،ناظر نے عدالتی حکم پرمویشی کی حفاظت کیلیے 6 سیکیورٹی گارڈز بھی تعینات کردیے اور مویشیوں کی فہرست تھانہ سکھن کے روزنامچہ میں رپورٹ کے طور پر جمع کرادی،ناظر کی دوسری رپورٹ کے مطابق سیکیورٹی کمپنی کے سپروائزر نے بتایا کہ سکھن پولیس نے فارمز پر تعینات سیکیورٹی گارڈز کو مارپیٹ کر ہٹادیا ،پھر وہاں 60ْ70/افراد نے دھاوا بولا اور مویشی نامعلوم مقام پر لے کرچلے گئے،اس حوالے سے ایس ایس پی ایسٹ اور ایس ایچ او سکھن کو بھی مطلع کردیا گیا تھا مگر آئی جی سندھ، ڈی آئی جی،ایس ایس پی ایسٹ،سچل رینجرز ونگ71،وزیر اعلیٰ ہائوس اور گورنر ہاوس میں قائم ایمرجنسی شکایتی مراکز سے بھی کوئی جواب موصول ہوا اورنہ ہی کوئی کارروائی کی گئی۔

؎عدالت نے آبزروکیا کہ مذکورہ گائے اور بھینسیں عدالت کی تحویل میں تھیں اور اس حوالے سے ناظر نے اپنی رپورٹ بھی تیار کرلی،عدالت نے ناظر کو ہدایت کی جانوروں کی بازیابی کیلیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں، عدالت نے آئی جی سندھ اور ڈی جی رینجرز کو ناظر کے ساتھ تعاون کی ہدایت کی،عدالت نے آبزرویشن دی کہ پولیس کی جانب سے عدم تعاون تشویش ناک ہے ،عدالت نے ایس ایچ او سکھن کو معطل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے اسے آئندہ سماعت پر پیش ہونے کا حکم دیا ،عدالت نے مدعی کے وکیل کو ہدایت کی کہ وہ دعوے میں آئی جی سندھ کو بھی مدعا علیہ کے طور پر شامل کرکے دعویٰ دوبارہ دائر کریں اور سماعت ملتوی کردی۔