ایران کا جوابی اقدام دو جرمن سفارت کار بے دخل کردیے
دونوں سفارت کاروں کو ایران کے داخلی میں جرمنی کی مداخلت کے جواب میں ملک سے بے دخل ہونے کا حکم دیا گیا، حکام
ایران نے دو جرمن سفارت کاروں کو ملک چھوڑ نے کا حکم دے دیا۔
غیرملکی خبررساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق ایران کی جانب سے مذکورہ فیصلہ ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب برلن نے حالیہ ہفتے میں دوہری شہریت کے لیے سزائے موت کے معاملے پر تہران کے سفارتکاروں کو بے دخل کیا تھا۔
ایران کے وزارت خارجہ کے ترجمان ناصر کنانی نے کہا کہ دونوں سفارت کاروں کو ایران کے داخلی اور عدالتی معاملات میں جرمن حکومت کی مداخلت کے جواب میں ملک سے بے دخل ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔
جرمنی نے گزشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ وہ دو ایرانی سفارت کاروں کو دوہری شہریت رکھنے والے جمشید شرماہد کو سنائی گئی سزائے موت کے جواب میں ملک بدر کر رہا ہے، جو کہ امریکی باشندے بھی ہیں۔
چانسلر اولاف شولز نے اس وقت کہا تھا کہ "ایرانی حکومت ہر ممکن طریقے سے اپنے ہی لوگوں سے لڑ رہی ہے اور انسانی حقوق کا کوئی احترام نہیں کرتی ہے۔" علاوہ ازیں جرمنی نے ایران کے جوابی اقدام پر تنقید کی۔
برلن میں وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ "جرمن سفارتکاروں کی بے دخلی من مانی اور بلاجواز ہے، انہوں نے کوئی غلط کام نہیں کیا۔" خیال رہے کہ ایران نے 67 سالہ شرمہد کو 2008 میں جنوبی شہر شیراز میں مسجد میں ہونے والے بم دھماکے میں مجرم قرار دیا ہے جس میں 14 افراد ہلاک اور 300 زخمی ہوئے تھے۔