فرقہ وارانہ قتل و غارت گری کیخلاف سخت اقدامات کیے جائیں وزیر اعلیٰ سندھ

حالیہ واقعات کی ڈی آئی جی سطح کے افسرسے تحقیقات کرا کرایک ہفتے میں رپورٹ پیش کی جائے،امن وامان کے اجلاس میں ہدایت


Staff Reporter April 13, 2014
کراچی: وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ امن و امان کے حوالے سے اجلاس کی صدارت کررہے ہیں۔ فوٹو: پی پی آٗئی

وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے سندھ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ فرقہ وارانہ قتل و غارت گیری کے خلاف سخت سے سخت اقدامات کریں اور ٹارگٹڈ آپریشن کے مثبت اثرات کو نہ صرف برقرار رکھیں بلکہ اس میں مزید اضافہ کریں۔

یہ ہدایت وزیراعلیٰ سندھ نے آج وزیراعلیٰ ہائوس کراچی میں امن وامان کے متعلق ایک جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دی ۔ انھوں نے آئی جی سندھ پولیس کو ہدایت کی کہ وہ حال ہی میں فرقہ وارانہ قتل وغارت کی ڈی آئی جی رینک کے آفسر سے تحقیقات کرائیں اور ذمے داروں کی نشاندہی کے ساتھ انھیں ایک ہفتے کے اندر رپورٹ پیش کر یں ۔ وزیراعلیٰ سندھ نے انھیں یہ بھی ہدایت کی کہ وہ ایسے حفاظتی اقدامات کریں کہ اس طرح کے واقعات نہ صرف کراچی بلکہ پورے صوبہ سندھ میں دوبارہ رونما نہ ہوسکیں ۔ اجلاس میں صوبائی وزیر اطلاعات و بلدیات شرجیل انعام میمن ، چیف سیکریٹری سندھ سجاد سلیم ہوتیانہ ، پرسنپل سیکریٹری ٹوسی ایم رائے سکندر، سیکریٹری داخلہ ڈاکٹرنیازعلی عباسی، سیکریٹری قانون میرمحمد شیخ ، ایڈووکیٹ جنرل فتاح ملک ، پراسیکیوٹر جنرل شیرمحمد شیخ،آئی جی سندھ پولیس اقبال محمود، ایڈیشنل آئی جی کراچی شاہد حیات،کراچی کے تمام ڈی آئی جیز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران نے شرکت کی۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ قائم علی شاہ نے کہا کہ ٹارگٹڈ آپریشن کے بعد سنگین جرائم میں کافی حد تک کمی آئی ہے لیکن ابھی بھی بہتری کافی گنجائش موجود ہے ، سندھ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے شہر میں جرائم کو مزید کم سے کم کرنے میں اپنا بھرپورکردار ادا کریں۔ڈاکٹروں ، وکیلوں اورکاروباری افرادکو مکمل تحفظ فراہم کریں جنھیں بھتہ خوری جیسے خطرات موجود ہیں۔ کراچی امن وامان کی لحاظ سے ایک حساس شہرہے اوریہاں کسی بھی وقت کسی بھی صورت حال سے نمٹنے کے لیے پولیس اورقانون نافذ کرنے والے اداروں کو مکمل طورپر تیاررہناہوگا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہاکہ ان کی حکومت نے سندھ پولیس کو مضبوط کرنے کے لیے 5 ارب روپے کی اضافی بجٹ فراہم کی اورآئی جی سندھ کوہدایت کی کہ وہ اس بجٹ میں سے بلٹ پروف موبائلز،اے پی سی گاڑیاں، جدید اسلحہ اورخطرے کی نشاندہی کرنے والے آلات کی خریداری کومزید تیزکریں۔

وزیراعلیٰ سندھ نے آئی جی سندھ پولیس کویہ بھی ہدایت کہ وہ پولیس میں بھرتی ہونے والے عمل کو بھی تیزکریں اورنئے بھرتی ہونے والے پولیس جوانوں کو پاک آرمی کے تعاون سے تربیت دلوائے کیونکہ پولیس کی روایتی تربیت موجودہ حالات سے نمٹنے کے لیے قاصر ہے ۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ صرف گرفتاری اس آپریشن کا حصہ نہیں بلکہ اس کے ساتھ مجرموں کی تحقیقات انھیں عدالتوں میں چالان کرنا اور سزائیں دلوانا بھی اس ٹارگٹڈ آپریشن کے حصے ہیں ۔ انھوں نے افسران کو کہا کہ وہ میڈ یا میں صرف گرفتاری کے اعداد و شماردینے کے ساتھ ساتھ مجرموں کوچالان اور سزائوں کے متعلق بھی تفصیلات سے آگاہ کریں ۔ انھوں نے پراسیکیوٹر جنرل کو ہدایت کی کہ وہ چالان کیے گئے کیسوں کی بھرپور پیروی کریں اور سنگین جرائم کے کیسوں کو کراچی شہرسے باہر منتقل کرنے کے لیے ہوم سیکریٹری سے رجوع کریں۔ انھوں نے پولیس کو ہدایت کہ وہ شہرمیں غیرقانونی واٹر ہائیڈرنٹس کے خاتمے کے لیے ایکشن لیں اورچیف سیکریٹری سندھ کوکہاکہ تجاوزات اورسرکاری زمینوں پر قبضے کے خلاف کارروائی کریں۔

وزیراطلاعات اور بلدیات شرجیل انعام میمن نے اجلاس میں سندھ کی سرحد پر تمام داخلی راستوں اور بڑے شہروں کے داخلی راستوں پر جدید آلات سے آراستہ چیک پوسٹوں کی قیام کی ضرورت پر زور دیا تاکہ سندھ میں اسلحہ بارود کی اسمگلنگ کو روکا جاسکے ۔ انھوں نے مشورہ دیا کہ ہر ماہ سنگین جرائم کے 08 تا 10 کیسوں کو کراچی شہر سے باہر کی عدالتوں میں منتقل کیا جائے تاکہ ان کی محفوظ پیروی کی جاسکے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے آئی جی سندھ پولیس اقبال محمود نے کہا کہ کراچی شہر میں حالیہ فرقہ وارانہ قتل وغارت کے پیچھے تیسری قوت کا ہاتھ ہے جو کراچی میں امن و امان کی بحالی نہیں چاہتی۔ قتل و غارت میں ملوث عناصر کوجلد کورٹ کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

عنقریب 100 بلٹ پروف موبائیلز اور 50 اے پی سی گاڑیاں خریدنے سے کراچی پولیس مزید مو ثرطریقے سے کام کرے گی ۔ اجلاس میں افسران نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ٹارگٹڈ آپریشن کے بعد جرائم میں کافی کمی آئی ہے انھوں نے مثال دیتے ہوئے بتایا کہ جنوری سال 2013 میں ٹارگٹڈکلنگ کے 98 کلنگ کے مقابلے میں جنوری 2014 میں 62 کلنگ ہوئی ، اس طرح فروری 2013 میں 101 کلنگ کے مقابلے میں فروری 2014 میں صرف 60 کلنگ ہوئی جبکہ مارچ 2013 میں 90 ٹارگٹڈ کلنگ کے مقابلے میں مارچ 2014 میں صرف 57 ٹارگٹڈ کلنگ کے واقعات پیش آئے ۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ اس وقت PPO کے تحت 98 مجرم زیر حراست ہے جن میں سے 97 کی JIT کا آرڈرہو گیا ہے ۔ ایڈیشنل آئی جی کراچی شاہد حیات نے بتایا کہ ٹارگٹڈآپریشن کے بعد مختلف جرائم میں 36% سے50% تک کمی آئی ہے ۔