پولیس کی روایتی جلد بازی نے فیکٹری آ گ کو پراسرار بنادیا

تفتیشی ٹیم آگ کی وجہ شارٹ سرکٹ بتارہی ہے جبکہ ماہرین کاموقف برعکس ہے


Staff Reporter September 16, 2012
تفتیشی ٹیم آگ کی وجہ شارٹ سرکٹ بتارہی ہے جبکہ ماہرین کاموقف برعکس ہے

پولیس کے تفتیشی افسران کی روایتی جلد بازی نے سانحہ بلدیہ ٹاؤن کی آگ کو پراسرار بنا دیا۔

آئی جی سندھ کی جانب سے بنائی جانے والی تفتیشی ٹیم کے پولیس افسران آگ کو شارٹ سرکٹ اور بوائلر کا پھٹنا قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر تحقیقاتی افسران و ماہرین اور فیکٹری مالکان کا کہنا ہے کہ آگ شارٹ سرکٹ ، بوائلر یا جنریٹر کے پھٹنے سے نہیں لگی ، شارٹ سرکٹ سے لگنے والی آگ حیرت انگیز طور پر اتنی جلدی نہیں پھیلتی جتنی جلدی اس فیکٹری میں پھیلی ہے، پولیس نے ماضی میں بھی بم دھماکوں کی بڑی وارداتوں کو تفتیش سے قبل ہی خودکش قرار دے کر اپنی جان چھڑانے کی کوشش کی تاہم بعدازاں مذکورہ دھماکے نصب شدہ بم کے نکلے جو پولیس افسران کی قابلیت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

پولیس کے تفتیشی ذرائع کا کہنا بلدیہ ٹاؤن کی فیکٹری میں لگنے والی ہولناک آگ کی تحقیقات کیلیے بنائی جانیوالی پولیس کی تفتیشی ٹیم نے آگ کو شارٹ سرکٹ کا شاخسانہ قرار دے کر اسے پراسرار بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے تفتیشی افسران نے سی سی کیمرہ فوٹیج کی مدد سے آگ کو شارٹ سرکٹ قرار دینے میں حسب روایت جلد بازی کا مظاہرہ کیا ہے جس کی وجہ سے بلدیہ ٹاؤن کی فیکٹری میں لگنے والی آگ نے پراسرار شکل اختیار کرلی ہے فیکٹری کا معائنہ کرنے والے دیگر تحقیقاتی اداروں کے افسران و ماہرین آگ کو نہ تو شارٹ سرکٹ قرار دے رہے ہیں اور نہ ہی بوائلر یا جنریٹر کے پھٹنے کو آگ کا سبب قرار دے رہے ہیں بلکہ وہ تمام پہلوؤں پر انتہائی باریک بینی سے کام کر رہے ہیں تاکہ آگ لگنے کی اصل وجہ تک پہنچا جا سکے ۔

کراچی پولیس کے افسران کی جانب سے ماضی میں بھی اسی طرح کی جلد بازی کا مظاہرہ کیا جاتا رہا ہے جس میں سانحہ یوم عاشورہ لائٹ ہاؤس پر نصب بم کو خودکش قرار دے کر اپنی جان چھڑانے کی کوشش کی گئی تاہم بعدازاں تحقیقات کے بعد انکشاف ہوا کہ مذکورہ بم بوسیدہ مقدس اوراق کے لیے نصب کیے جانے والے بکس میں رکھا گیا تھا جبکہ پولیس کی جلد بازی کی ایسی ہی ایک اور مثال 27 جنوری 2011 کو دیکھنے میں آئی جب چہلم حضرت امام حسین کے موقع پر نیشنل ہائی ملیر ہالٹ کے قریب دہشت گردوں نے ایک موٹر سائیکل پر ایک ڈبہ لگا کر اس میں بم نصب کر کے اور سڑک کے کنارے کھڑی کر کے چلے گئے۔

اس دوران مشتبہ موٹر سائیکل کو دیکھ کر پولیس موٹر سائیکل جائزہ لے رہی تھی کہ بم خوفناک دھماکے سے پھٹ گیا اور قریب ہی کھڑے ہوئے ایک پولیس اہلکار کے جسمانی اعضا سڑک پر پھیل گئی اور پولیس نے بغیر کسی تحقیقات کے بم کو خودکش قرار دے کر ملنے والے سر کو خودکش بمبار کا قرار دے دیا جبکہ وہ پولیس اہلکار تھا جو فرائض کی ادائیگی میں اپنی جان کی بازی ہار گیا اس کے علاوہ شارع قائدین فلائی اوور پر بھی چہلم حضرت امام حسین کے موقع پر سڑک کے کنارے کھڑی ہوئی موٹر سائیکل کے ذریعے بم دھماکا کیا گیا جسے پولیس نے بغیر کسی تحقیقات کے خود کش قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ موٹر سائیکل سوار دہشت گرد عزاداروں کی بس سے ٹکرایا ہے۔

تفتیشی پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ کسی بھی دھماکے کو خودکش قرار دے کر پولیس اپنی نااہلی پر پردہ ڈال دیتی ہے کہ خودکش حملوں کو روکنا کسی کے بھی اختیار میں نہیں تاہم پولیس کے تفتیشی افسران کی جانب سے بلدیہ ٹاؤن کی فیکٹری میں لگنے والی ملکی تاریخ کی ہولناک آتشزدگی کو اتنی جلد بازی میں شارٹ سرکٹ قرار دینا نہ صرف حیران کن ہے بلکہ اس کی وجہ سے آگ کا لگنا بھی پراسراریت اختیار کرتا جا رہا ہے۔