تحفظ بل انسانی حقوق کے خلاف ہےاسلامی نظریاتی کونسل

ایسے قوانین لائے جارہے ہیں جن کی شریعت اورقانون اجازت نہیں دیتا،اسی لیے مخالفت کی


Numainda Express April 16, 2014
دوسری شادی کے لیے پہلی بیوی سے مشورہ بہترلیکن شرعاً پابندی نہیں، محمد خان شیرانی ۔ فوٹو : فائل

اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین اورجے یو آئی بلوچستان کے امیررکن قومی اسمبلی مولانامحمدخان شیرانی نے کہاہے کہ حکومت نے قبائلی جرگے کوبائی پاس اورتحفظ پاکستان بل بغیرمشاورت کے لاکر دوریوں کی ابتدا کی ہے یہ بل انسانی حقوق کے کھلی خلاف ورزی ہے ایسے قوانین لائے جارہے ہیں ۔

جن کی شریعت اورقانون اجا زت نہیں دیتاہے اسی وجہ سے جے یوآئی نے مخالفت کافیصلہ کیاہے۔ان خیالات کا اظہارانھوں نے ایک تقریب میں کیا۔مولانا شیرانی نے کہاکہ ہم امن مذاکرات کی کامیا بی کیلیے دعاگوہیں۔ اسلامی نظریاتی کونسل آئینی ادارہ ہے اگردوسری شادی کے لیے پہلی بیوی سے مشورہ کیاجائے توبہترہے لیکن شرعی طورپرکوئی پابندی نہیں اورقانونی طورپربھی کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔انھوں نے کہا کہ ہم دینی قوتوں کے اتحادکے حامی تھے اور ہیں، خیبرپختونخوا میں حکومت گرتی ہے یاباقی رہتی ہے ہمیں اس سے کوئی سروکارنہیں ،انھوں نے کہا کہ کونسل کی اراکین بعض حساس مسئلوں پرابھی تیارنہیں ہوئے جس دن وہ میرے ہمنوا بنے تو بہت سے مسائل پررائے دینگے۔مولاناشیرانی نے کہا کہ روس کے ٹوٹنے کے بعد مسلمانوں کونشانہ بنایا گیا۔ عالمی سطح پرمسلمانوں کودہشت گرد ثابت کرنیکی کوشش کی جارہی ہے۔