سانحہ بلدیہ کے بعد حکومت کومستعفی ہوجانا چاہیے منورحسن

جماعت اسلامی کی طرف سے 50لاکھ روپے کی مالی امدادکا اعلان، جائے وقوع کا دورہ


Staff Reporter September 16, 2012
امیر جماعت اسلامی منور حسن آتشزدگی کا شکار فیکٹری کے دورے کے دوران دعائے مغفرت کر رہے ہیں۔ فوٹو: ایکسپریس

جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سیدمنورحسن نے کہا ہے کہ بلدیہ ٹائون کی گارمنٹ فیکٹری میں رونما ہونے والے آتشزدگی کے واقعے کے بعد صوبائی حکومت کو مستعفی ہوجانا چاہیے اور عوام سے معافی مانگنی چاہیے۔

بھتہ خوروں نے300 گھرانوںکے چراغ گل کردیے ہیں' بلدیہ ٹائون کا سانحہ بھتہ خوری کاشاخسانہ ہے جماعت اسلامی ابتدائی طورپر 50لاکھ روپے سے سانحے کے متاثرین کی مالی مدد کرے گی۔ ان خیالات کااظہار انھوں نے بلدیہ ٹائون میں آتشزدگی کے واقعے کی جائے وقوع کادورہ کرنے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ جماعت اسلامی کراچی کے امیر محمد حسین محنتی' سیکریٹری نسیم صدیقی اور دیگر بھی موجودتھے۔

سیدمنورحسن نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مزید کہاکہ پاکستان میں رونما ہونے والا آتشزدگی کا یہ بہت بڑا واقعہ ہے، کئی دن گزرنے کے باوجود ابھی تک قیاس آرائیوں سے کام لیا جارہا ہے' واقعے کے بعد پہلا کام یہ ہونا چاہیے تھاکہ صوبائی حکومت مستعفی ہوجاتی اور سندھ حکومت میں شامل اتحادی جماعتیں عوام سے معافی مانگتیں مگر شہر میں بھتہ خوروں کی حکومت ہے 'بھتہ خوروں نے 300 سے زائد جانوںکوچھین لیا ہے۔ انھوں نے کہاکہ محض ایک وزیر کے استعفی دینے سے کچھ نہیں ہوگا۔