غیر صحت مند پانی کی فراہمی کیوں

تھر،چولستان یا جنوبی پنجاب کے پسماندہ اضلاع سمیت ملک کے میٹروپولیٹن شہروں میں صورتحال پانی کے حوالے سےتسلی بخش نہیں


Editorial April 16, 2014
تھر،چولستان یا جنوبی پنجاب کے پسماندہ اضلاع سمیت ملک کے میٹروپولیٹن شہروں میں صورتحال پانی کے حوالے سےتسلی بخش نہیں. فوٹو:رائٹرز/ فائل

ISLAMABAD: کائنات کے عناصر ترکیبی میں پانی کے بغیر زندگی کا تصورکرنا بھی محال ہے ، پانی زندگی کی علامت ہے ،لیکن وطن عزیز میں بنیادی ضروریات کی فراہمی سے ہمیشہ حکومتوں نے صرف نظر کیا ہے، منگل کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے اجلاس میں انکشاف ہوا ہے کہ ملک کے 84اضلاع اور 82تحصیلوںکا پانی پینے کے قابل نہیں ۔ تھر میں ہونے والی اموات کا ایک بڑا سبب قلت آب یا دستیاب آلودہ ترین پانی ہے، جب کہ بارش کا پانی ذخیرہ نہ کرنے کے باعث تھر میں بحران نے شدت اختیارکی ،حد تو یہ ہے کہ بلوچستان کا صرف 0.3فیصد درست، 99.7فیصد پانی ناقابل استعمال ہے، پانی میں جراثیم کی وافر مقدار میں موجودگی لاتعداد جان لیوا بیماریوں کا پیش خیمہ ثابت ہوتی ہے، تھر،چولستان یا جنوبی پنجاب کے پسماندہ اضلاع سمیت ملک کے میٹروپولیٹن شہروں میں صورتحال پانی کے حوالے سے قطعاً تسلی بخش نہیں ہے۔

ملک کی معاشی و اقتصادی ترقی میں صرف صحت مند افراد ہی حصہ لے سکتے ہیں چہ جائیکہ ہم امید رکھیں کہ ایک کثیر آبادی والے ملک میں لاکھوں بیمار افراد کوئی کردار ادا کرسکیں ۔ اسی اجلاس میں سیکریٹری وزارت نے کہا کہ تھر، جنوبی پنجاب اور چولستان سمیت جنوبی علاقوں میں زیر زمین پانی کی وافرمقدارموجود ہے۔ گزشتہ 5برس کے دوران ملک کے 12 ملین ہیکٹر رقبے پر تحقیقات کے نتیجے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ایک لاکھ 70 ہزار ٹیوب ویل لگانے کے باوجود پانی کی مقدار میںکوئی کمی واقع نہیں ہوئی۔

متعلقہ اجلاس کے مندرجات پڑھنے کے بعد اندازہ ہوتا ہے کہ سوال کا جواب بھی سوال ہی میں موجود ہے تو پھر مشکل کا حل کیوں نہیں ڈھونڈا جاتا ،کوئی پھول جیسے بچے تھر سمیت متعدد پسماندہ علاقوں میں سسک کر دم توڑ رہے ہیں ، کوئی ہر دوسرا شخص پیٹ کی بیماریوں میں مبتلا ہے ، صاف پانی کی فراہمی کے لیے حکومت کو چاہیے کہ وہ مختصر اور طویل مدت کے منصوبے جنگی بنیادوں پر بنائے تاکہ پاکستان کے باشندوں کو پانی کا صاف پانی میسر آسکے اور وہ صحت مند فرد کی حیثیت سے ملک کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار بھرپور طریقے سے ادا کرسکیں ۔