فوج اور نواز شریف ایک ہونا چاہتے ہیں پرویز ملک

جنگ بندی میں توسیع ہونے کی امید ہے، پروفیسر ابراہیم، ہماری عادتیں ٹھیک نہیں، صمصام بخاری


Monitoring Desk April 18, 2014
مذاکرات میں حکومتی پالیسی واضح نہیں، شہزاد چوہدری کی ’’کل تک‘‘ میں گفتگو۔ فوٹو: فائل

SINGAPORE: مسلم لیگ (ن) کے رہنما پرویز ملک نے کہا ہے کہ ہم نے ہمیشہ فوج کا احترام کیا ہے۔ خواجگان نے فوج نہیں مشرف کے بارے میں بات کی۔

ایکسپریس نیوزکے پروگرام ''کل تک'' میں میزبان جاوید چودھری سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات میں ہمارا ایک ہی ایجنڈا ہے کہ پاکستان کو پرامن بنانا ہے۔ آج بھی فوج اور نوازشریف ایک ہونا چاہتے ہیں اگر ہم نے ایکشن کرنا ہے تو پھر وہ فوج کو ساتھ ملائے بغیر نہیںہوگا۔ جماعت اسلامی کے رہنما پروفیسر ابراہیم نے کہا کہ طالبان نے کچھ شکایات کو وجہ بناکر جنگ بندی میں توسیع سے انکار کیا ہے۔ میری کوشش ہوگی کہ میں حکومت سے طالبان کی شکایات کا ازالہ کرائوں اور پھر ہم طالبان سے جنگ بندی میں توسیع کی بات کریں گے، شکایات دونوں اطراف میں موجود ہیں۔ پیپلز پارٹی کے رہنما صمصام بخاری نے کہا کہ حکومت نے وہ لوگ نہیں چھوڑے جو طالبان کی ڈیمانڈ تھے۔

اگر ہم اپنی خارجہ پالیسی خود بنائیں ایران کے ساتھ اپنے تعلقات رکھیں، سعودی عرب کے ساتھ اپنے تعلقات رکھیں تو کوئی مسئلہ پیدا نہیںہوگا۔ نریندرمودی کی حکومت اینٹی پاکستان اور اینٹی مسلم ہے اور افغانستان میں عبداللہ عبداللہ کی حکومت ایسی ہوگی جیسے نریندرمودی کا ایک اور گورنر ہو۔ فوج کا حکومت میں آنے کا کوئی ارادہ تو نہیں ہے لیکن ہماری عادتیں ٹھیک نہیں ہیں۔ ایئروائس مارشل (ر) شہزاد چوہدری نے کہا کہ طالبان کے مطالبے بہت واضح تھے ان کی پالیسی بالکل شفاف تھی لیکن حکومت کی پالیسی واضح نہیں تھی۔ امن جیتا جاتا ہے یا پھر امن خریدا جاتا ہے۔ ہم امن خریدنے کی طرف بڑھے لیکن ریاست امن کی صحیح قیمت نہیں ادا کر پائی۔ پاکستان کی فوج بڑی ہے مشرف بڑا نہیں ہے۔