رمضان ریلیف پیکیج کی منظوری

حکومت کی اقتصادی پالیسیوں پراعتماد کا مظہر ہے کہ بہت سی غیرملکی کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کاری کی طرف راغب ہو رہی ہیں


Editorial April 18, 2014
حکومت کی اقتصادی پالیسیوں پراعتماد کا مظہر ہے کہ بہت سی غیرملکی کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کاری کی طرف راغب ہو رہی ہیں. فوٹو رائٹرز/فائل

کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے دو ارب روپے کے رمضان ریلیف پیکیج دینے کی منظوری دے دی ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈارکی زیرصدارت اجلاس میں منظورکردہ رمضان پیکیج کے تحت یوٹیلٹی اسٹورز پر دالیں، چاول، چینی، بیسن، گھی، کوکنگ آئل، کھجوراور مشروبات سمیت 17 بنیادی اشیائے ضروریہ10روپے فی کلو تک ریلیف دینے کی منظوری دی گئی جب کہ یوٹیلٹی اسٹورز پر آٹے پر فی کلو6 روپے کی رعایت فراہم کی جائے گی جب کہ چائے کی پتی پر 50 روپے کلوگرام رعایت دی جائے گی۔ ای سی سی نے سونے کی درآمدکے لیے نظرثانی شدہ پالیسی کی بھی منظوری دے دی ہے جس کے تحت سونے کی درآمد پرعائد پابندی ختم کردی گئی ہے البتہ درآمد کنندہ کسی ایک ماہ کے عرصے میں دس کلو سے زیادہ سونا درآمد نہیں کر سکے گا۔

حکومت کی طرف سے عوام کی سہولت کے لیے رمضان ریلیف پیکیج کا اعلان خوش آیند ہے اس سے متوسط اور نچلے طبقے کو یقیناً فائدہ پہنچے گا۔ حکومت ہر سال رمضان پیکیج کا اعلان کرتی ہے تاکہ اس مقدس مہینے میں عوام کو سستے داموں اشیائے خورونوش میسر آ سکیں مگر اصل مسئلہ اس پر اپنے معنی و مفہوم کے لحاظ سے عملدرآمد کا ہے۔ ہر سال رمضان میں عوام کی جانب سے یہ شکایات سننے میں آتی رہی ہیں کہ یوٹیلٹی اسٹورز پر اشیائے خورونوش قدرے سستی تو کر دی جاتی ہیں مگر ان کے معیار کا قطعی خیال نہیں رکھا جاتا۔ عوامی حلقوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ بہت سی کمپنیاں اور تاجر حضرات رمضان المبارک کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سستی اشیا کے نام پر غیر معیاری اشیا مارکیٹ میں لے آتے ہیں۔

یوٹیلٹی اسٹورز پر تو اشیا کی قیمتیں قدرے کم کر دی جاتی ہیں مگربازاروں میں تمام اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں بلاجواز اضافہ کر دیا جاتا ہے اور عوام کو سستی اشیا فراہم کرنے کے حکومتی دعوے دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں۔ حکومت اگر واقعی عوام کو رمضان ریلیف پیکیج دینا چاہتی ہے تو اسے ان عوامی شکایات پر بھی بھرپور توجہ دینی ہو گی اور جو افراد عوام کی روز مرہ ضروریات زندگی کو مہنگے داموں فروخت کرتے ہیں انھیں قانون کے کٹہرے میں لانا ہو گا۔ اگر منافع خوروں کے خلاف بروقت کارروائی کی جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ عوام کو سستی اشیا نہ مل سکیں۔

کہا جاتا ہے کہ دیگر ممالک میں جب خوشی کا کوئی تہوار آتا ہے تو تمام کمپنیاں اور تاجر حضرات عوام کی سہولت کے لیے اشیا سستی کر دیتے ہیں تاکہ غریب لوگ بھی اس خوشی کے موقع پر لطف اندوز ہو سکیں مگر ہمارے ہاں الٹی گنگا بہتی ہے' کسی بھی خوشی کے موقع پر اشیائے ضرورت اس قدر مہنگی کر دی جاتی ہیں کہ غریب آدمی پہلے سے بھی زیادہ مشکلات کا شکار ہو جاتا ہے۔ حکومت یہ دعویٰ کر رہی ہے کہ اس کے اصلاحاتی ایجنڈے کے تحت ملک معاشی ترقی کی راہ پر گامزن ہے اور تمام بڑے اقتصادی اشاریے معاشی ترقی میں بہتری ظاہر کررہے ہیں۔ اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ حکومت ملک کو اقتصادی بحران سے نکالنے کے لیے بھاگ دوڑ کر رہی اور اس مقصد کے لیے غیر ملکی کمپنیوں کو بھی سرمایہ کاری کی دعوت دے رہی ہے۔

حکومت کی اقتصادی پالیسیوں پر اعتماد کا مظہر ہی ہے کہ بہت سی غیر ملکی کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کاری کی طرف راغب ہو رہی ہیں۔ دوسری جانب صورتحال یہ ہے کہ موجودہ حکومت کو آئے ایک سال کا عرصہ بیت گیا ہے مگر عام آدمی کی زندگی میں بہتری کے آثار دکھائی نہیں دے رہے۔ توانائی کا بحران بھی جوں کا توں موجود ہے۔ ابھی گرمیوں کا آغاز ہوا ہے مگر بجلی کی لوڈشیڈنگ میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے' بہت سے شہروں میں لوگوں نے احتجاجی مظاہرے بھی کیے ہیں۔ اگر یہی صورت حال رہی تو امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ گرمیوں میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کا دورانیہ بڑھنے سے لوگوں میں اضطراب مزید بڑھے گا۔ یہ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ توانائی کے منصوبوں کی تکمیل میں ایک عرصہ درکار ہوتا ہے اور فوری طور پر توانائی بحران پر قابو پانا ممکن نہیں ہوتا۔

حکومت کو بھی عوام کی مشکلات کا بخوبی ادراک ہے اور وہ اس عزم کا بارہا اعادہ کر چکی ہے کہ توانائی کے بحران کا حل اس کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔دریں اثنا نجی ٹی وی سے بات چیت کے دوران وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے ڈالر کی گرتی ہوئی قدر کے بارے میں وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ڈالر مزید سستا نہیں ہو گا کیونکہ برآمد کنند گان پہلے ہی پریشان ہیں' جس دن حکومت سنبھالی اس دن بھی ڈالر 98 روپے تھا اور آج ہم اسے 98 سے بھی کم پر لے آئے ہیں۔ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے دعویٰ کیا کہ ہم چاہیں تو ڈالر کو مزید بھی کم کر سکتے ہیں لیکن برآمد کنندگان کی وجہ سے اسے کم نہیں کریں گے۔

ڈالر کی قدر کم ہونے سے معیشت پر خوشگوار اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھی قدرے کمی آئی ہے مگر ٹرانسپورٹ کے کرائے کم نہ ہونے سے عوام کو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا کوئی فائدہ نہیں پہنچا۔ اگر ڈالر کی قدر مزید کم ہوتی ہے تو پاکستان پر بیرونی اور اندرونی قرضوں کا بوجھ بھی خود بخود کم ہو جائے گا' پٹرولیم مصنوعات کے ساتھ ساتھ بہت سی اشیا کی قیمتیں بھی کم ہو جائیں گی اور غیر ملکی کرنسیوں کے مقابلے میں پاکستانی کرنسی کی قدر میں استحکام پیدا ہوگا۔ اگر وفاقی وزیر خزانہ اپنے دعویٰ کے مطابق ڈالر کی قیمت مزید کم کر سکتے ہیں تو انھیں چند برآمد کنند گان کے فائدے کی خاطر مجموعی ملکی معاشی اور عوامی ترقی کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔