ایک سال قبل لاپتہ ہونے والے 4 فرانسیسی صحافی ترکی اور شام کی سرحد سے بازیاب

شدت پسند تنظیم کے افراد چاروں صحافیوں کی آنکھوں پر پٹیاں اورہاتھ باندھ کر شام اور ترکی کی سرحد پرپھینک کر فرار ہوگئے


ویب ڈیسک April 19, 2014
چاروں صحافیوں کو شام میں جون 2013 میں داعش نامی عسکریت پسند تنظیم نے یرغمال بنا لیا تھا ۔ فوٹو:رائٹرز

نامعلوم شدت پسندوں نے ایک سال قبل اغوا کئے جانے والے 4 فرانسیسی صحافیوں کو شام اور ترکی کی سرحد پرلا کرچھوڑ دیا۔


غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق گزشتہ سال نامعلوم شدت پسندوں کی جانب سے فرانسیسی صحافی نیکولس ہینن، پیری ٹوریس ، ایڈورڈ الیاس اور ڈیڈئیر فرینکوس کو اغوا کیا گیا تھا جنہیں 10 ماہ قید میں رکھنے کے بعد شام اور ترکی کی سرحد پر چھوڑ دیا گیا، ترکی کے سیکیورٹی اہلکاروں نے جب آنکھوں پر پٹی اور ہاتھ بندھے چارافراد کو دیکھا تو انہیں گھیرے میں لے کر گرفتار کرلیا تاہم تفتیش کے دوران چاروں افراد کو فرانسیسی صحافیوں کی حیثیت سے شناخت کرلیا گیا جس کے بعد ترک حکام نے ان صحافیوں کو فرانسیسی سفارتخانے کے حوالے کردیا۔


دوسری جانب فرانسیسی صدر فرانسس اولاند کا کہنا ہے کہ چاروں صحافیوں نے شام میں ہمت اور بہادری سے اپنی پیشہ وارانہ خدمات انجام دیں اورخوشی کی خبریہ ہے کہ یہ تمام افراد خیریت سے ہیں۔


واضح رہے چاروں صحافیوں کو شام میں جون 2013 میں داعش نامی عسکریت پسند تنظیم نے یرغمال بنا لیا تھا تاہم ان کی بازیابی کس طرح ہوئی اس سے متعلق کوئی معلومات نہیں مل سکیں۔

مقبول خبریں