روزانہ 700 سے 800 موبائل فون چھینے جاتے ہیں سربراہ سی پی ایل سی

شکایات صرف 15 فیصد واقعات کی درج کرائی جاتی ہیں، پولیس میں کرپشن کی شکایات حد سے تجاوز کر گئی ہیں


Staff Reporter April 27, 2014
پولیس ایکٹ میں ترامیم کے لیے قانون سازی کی ضرورت ہے، تفتیش کے نظام کو مربوط اورخفیہ کیمروں کو درست کیا جائے۔ فوٹو: فائل

محکمہ پولیس کو سیاسی دباؤ سے پاک اور پولیس ایکٹ میں ترامیم کے لیے قانون سازی کی ضرورت ہے ، جب تک پولیس کو جدید وسائل فراہم نہیں کیے جائیں گے، امن کا قیام ممکن نہیں۔

ان خیالات کا اظہارمقامی ہوٹل میں سینٹر فار ریسرچ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز کے تحت پولیس کو درپیش چیلنجز اور ان کا حل اور قانون میں اصلاحات کے عنوان سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کیا، سیمینار سے پیپلز پارٹی کے سینیٹر ڈاکٹر کریم خواجہ ، سابق آئی جی سندھ نیاز احمد صدیقی ، ڈی آئی جی ٹریننگ اظہر رشید خان ، پاکستان تحریک انصاف کے رکن سندھ اسمبلی حفیظ الدین ، سی پی ایل سی کے سربراہ احمد چنائے سینئر صحافی ادریس بختیار اور دیگر نے بھی خطاب کیا ، سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر کریم خواجہ نے کہا کہ پوری دنیا میں پولیس فرنٹ لائن ہوتی ہے ، پہلے پولیس ملزم کو گرفتار کرتی ہے اور پھر تفتیش مکمل کر کے اس کا مقدمہ عدالت میں بھیجا جاتا ہے۔

موجودہ پولیس کے قانون میں اصلاحات ہونی چاہئیں ، پولیس ایکٹ 1861 اور 2002کو ملا کر ایک نیا ایکٹ بنایا جائے، جس کو قانونی شکل دے کر منظوری کے لیے اسمبلی میں پیش کیا جاسکتا ہے اس حوالے سے وہ ہر ممکن تعاون کریں گے،سابق آئی جی نیاز احمد صدیقی نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قانون پر عملدرآمد کے لیے ضروری ہے کہ حکمران سے لے کر ایک عام آدمی تک سب کو قانون کا پابند کیا جائے اور احتساب کا نظام قائم ہونا وقت کی ضرورت ہے ہر شہری کا حق ہے کہ اس کے ساتھ قانون کے مطابق سلوک کیا جائے اور اسے قانونی تحفظ دیا جائے،انھوں نے بتایا کہ عدالت میں اقبال جرم نہیں بلکہ ثبوت کی ضرورت ہوتی ہے،تفتیش کے نظام کو مربوط بنانے کی ضرورت ہے۔

انھوں نے کہا کہ جہاں قانون کی بالادستی نہیں ہوتی وہاں حالات خراب ہوجاتے ہیں ، پولیس کو جدید وسائل دینے کی ضرورت ہے ،سی پی ایل سی کے سربراہ احمد چنائے نے کہا کہ پورے ملک میں بلدیاتی انتخابات نہیں ہورہے ہیں ، جس کی وجہ سے بعض مسائل کا سامنا ہے ، پولیس کے نظام میں نچلی سطح تک تبدیلی کی ضرورت ہے ،شہرمیں روزانہ 700سے 800 موبائل فون روزانہ چھینے جاتے ہیں جبکہ شکایات صرف 15فیصد واقعات کی درج کرائی جاتی ہیں ، انھوں نے کہا کہ معاشرے کو اگر بہتر بنانا ہے تو سب کو اپنا کردار مثبت بنانا ہوگا ، انھوں نے کہا کہ پولیس کے بے تحاشہ اختیارات کو محدود کرنے کی ضرورت ہے تاکہ پولیس کی عام شہریوں کو تنگ کرنے کی شکایات کو دور کیا جاسکے۔

انھوں نے کہا کہ پولیس کے خفیہ کیمروں کو بہتر بنایا جائے اور آپریٹر کو چاہیے کہ جہاں جرم ہورہا ہے وہ فوری طور پر اسٹینڈ بائی پولیس پارٹی کو بتائے تاکہ ان کا قلع قمع کیا جا سکے ہر تھانے کی سطح پر موٹر سائیکل سواروں کو بھی تعینات کرنے کی ضرورت ہے ،جو فوری طور پر جرم کی کی جگہ پر پہنچ سکے ، عوام کی شکایات کے ازالے کے لیے پولیس سیفٹی کمیشن بنانے کی ضرورت ہے ، ڈی آئی جی ٹریننگ پولیس اظہر رشید نے کہا کہ 2002 اور 1861 میں پولیس ایکٹ بنائے گئے تھے قانون میں بہتری کی ہر وقت ضرورت رہتی ہے۔

تحریک انصاف کے رہنما حفیظ الدین نے کہا کہ پولیس کے موجودہ رویے سے ہر شہری خوفزدہ رہتا ہے پولیس میں کرپشن کی شکایات حد سے تجاوز کر گئیں ہیں ، جب تک گواہوں کے تحفظ کے بل پر عملدرآمد نہیں ہوگا جرائم میں کمی نہیں آئے گی،پولیس کو سیاسی دباؤ سے آزاد کرنے کی بہت ضرورت ہے ، صحافی ادریس بختیار نے کہا کہ اس وقت سب سے اہم ضرورت پولیس کے مکمل ڈھانچے کو تبدیل کرنا ہے، سیمینار سے سی آر ایس ایس کے ڈائریکٹر امتیاز گل نے کہا کہ پولیس میں چیک اینڈ بیلنس کا نظام موجود ہونا ضروری ہے ۔