رچرڈ پائی بس نے ویسٹ انڈین کرکٹ کی بحالی کا فارمولا دے دیا

رچرڈ پائی بس نے ڈومیسٹک اسٹرکچر میں تبدیلی اورکھلاڑیوں کو ابتدائی مرحلے پر کنٹریکٹ دینے کی سفارش کی ہے۔


Sports Desk April 28, 2014
رچرڈ پائی بس نے ڈومیسٹک اسٹرکچر میں تبدیلی اورکھلاڑیوں کو ابتدائی مرحلے پر کنٹریکٹ دینے کی سفارش کی ہے۔ فوٹو: فائل

رچرڈ پائی بس نے ویسٹ انڈین کرکٹ کے تن مردہ میں جان ڈالنے کا فارمولا پیش کردیا، فرسٹ کلاس اسٹرکچر کو یکسر تبدیل کرنے کی تجویز دے دی۔

کھلاڑیوں کو ابتدائی سطح سے کنٹریکٹ دینے کی سفارش کی گئی ہے، بورڈ کے لیے اہم تجاویز کو نظر انداز کرنا مشکل اور عملدرآمد کرنا دشوار ہوگا۔ تفصیلات کے مطابق ویسٹ انڈیز نے اپنی کرکٹ میں بہتری اور ڈومیسٹک اسٹریکچر کی بحالی کیلیے انگلینڈ سے تعلق رکھنے والے رچرڈ پائی بس کو گذشتہ نومبر کو ڈائریکٹر آف کرکٹ مقرر کیا ، وہ ماضی میں دو مرتبہ پاکستان کرکٹ ٹیم کی بھی کوچنگ کرچکے ہیں، انھیں شروع میں ویسٹ انڈین کرکٹ کو سمجھنے میں کچھ دقت ہوئی مگر پھر نہ صرف انھوں نے اس کا اچھی طرح جائزہ لیا بلکہ اس کی خامیوں کا بھی اندازہ لگایا، جن کو دور کرنے کیلیے انھوں نے اپنی جامع رپورٹ بورڈ کو جمع کرادی ہے۔

رچرڈ پائی بس نے فرسٹ کلاس کرکٹ اسٹرکچر میں تبدیلی کی سفارش کرتے ہوئے اسے ڈبل رائونڈ میں منعقد کرانے کو کہا ہے،90 کھلاڑیوں کو کنٹریکٹ دینے کو کہا گیا ہے کہ تاکہ کھیل میں زیادہ پروفیشنلزم آئے، انھوں نے اپنی رپورٹ میں تخمیہ لگایا ہے کہ بورڈ کو نئے پلان کے تحت اسٹاف اور پلیئرز پر 2.8 ملین خرچ کرنا پڑیں گے، 7 لاکھ 50 ہزارڈالر فرسٹ کلاس اور ون ڈے ٹورنامنٹس پر آنے والے اخراجات پر صرف ہوں گے، 3 لاکھ ڈالر اے اسکواڈ میں شامل کھلاڑیوں کے معاوضوں کی صورت میں ادا ہوں گے۔ رپورٹ میں اسپانسر شپ کے ذریعے ریونیو حاصل کرنے کے طریقوں کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔

ویسٹ انڈین بورڈ نے یہ سفارشات قبول تو کرلی ہیں مگر اس کے لیے ان پر عملدرآمد کافی مشکل ہوگا، ڈومیسٹک ڈھانچے میں تبدیلی کی اشد ضرورت محسوس کی جارہی ہے، اس وقت صورتحال یہ ہے کہ بڑے کھلاڑی فرسٹ کلاس ایونٹ میں شریک ہی نہیں، پہلے وہ بنگلہ دیش میں ورلڈ ٹوئنٹی 20 کھیل رہے تھے اور اب آئی پی ایل میں مصروف ہیں، کرس گیل، ڈیرن سیمی، سنیل نارائن اور ڈیوائن براوو نے اس بار ایک بھی فرسٹ کلاس میچ نہیں کھیلا، مارلون سموئلز، آندرے رسل اور دنیش رامدین نے ایک ایک جبکہ کیرون پورلاڈ نے اب تک صرف 2 میچز کھیلے ہیں۔