برمی مسلمان اور امریکا

برما میں مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے ‘وہ آج کی بات نہیں بلکہ یہ عمل برسوں سے جاری ہے۔


Editorial April 29, 2014
افسوس ناک امر یہ ہے کہ مسلم امہ نے بھی اس معاملے میں بے حسی کا مظاہرہ کیا۔ فوٹو:اے ایف پی/فائل

امریکا کے صدر بارک اوباما ملائیشیا کے دورے پر آئے ہوئے ہیں ۔اس دورے کے دوران انھوں نے کہا ہے کہ میانمر(برما) میں مسلمانوں پر جبر برداشت نہیں' انھوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں نسلی اور مذہبی لڑائی میانمر کو ایک ''بہت ہی بری سمت'' کی طرف لے جائے گی، انھوں نے میانمر(برما) میں برسراقتدار فوجی جنتاکے بعض اقدامات کی تعریف بھی کی لیکن ساتھ ہی انھوں نے خبردار بھی کیا کہ مدت بعد میانمر میں لائی گئی جمہوریت کو مسلم آبادی پر ''تشدد '' سے خطرات ہوںگے' میانمر مسلمانوں کو دبا کر کبھی بھی کامیاب نہیں ہوسکتا۔ کوالالمپور کے ٹاؤن ہال میں ینگ لیڈرز فرام ساؤتھ ایشیاء ان ملائیشیا کے طلبا سے ملاقات میں امریکی صدر نے مزید کہا کہ امریکا کی خارجہ پالیسی کے مسائل اور اندرونی سیاسی اختلافات ابھرتے ہوئے ایشیاء سے امریکا کی توجہ نہیں ہٹا سکتے' ایشیا پیسفک(امریکا' ایشیاء اور آسٹریلیا) کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو واشنگٹن نظر انداز کرنے کا متحمل نہیں ہوسکتا' یہ تمام دنیا میں امریکیوں کا فرض ہے کہ وہ اپنی ذمے داریوں کو خوشی سے قبول کریں ' ان کی انتظامیہ ایشیائی اقوام سے مضبوط معاشی' دفاعی اور دیگر دوستانہ مراسم پر توجہ دے رہی ہے اور خاص طور پر ان سے جو جنوب مشرقی ایشیا سے ہیں۔میانمر(برما) میں فوجی آمریت ہے اور اب وہ بتدریج جمہوری حوالے سے اقدامات بھی کر رہی ہے جس کی صدر بارک اوباما نے بھی تعریف کی ہے لیکن برما میں مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے 'وہ آج کی بات نہیں بلکہ یہ عمل برسوں سے جاری ہے۔

افسوس ناک امر یہ ہے کہ مسلم امہ نے بھی اس معاملے میں بے حسی کا مظاہرہ کیا۔ بہر حال صدر بارک اوباما کا یہ بیان خوش آیند ہے۔ اس سے برما کی حکومت پر یقینی طور پر دباؤ بڑھے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ امریکا اور اس کے اتحادیوں کا یہ بھی فرض ہے کہ وہ برما میں مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے سلوک پر محض بیان بازی نہ کریں بلکہ اس کے لیے عملی اقدامات بھی اٹھائے جائیں۔ برما کی حکومت نے مسلمانوں کے خلاف باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ ان کی نسل کشی یا انھیں برما سے بے دخل کرنے کی مہم شروع کر رکھی ہے۔ اراکانی مسلمانوں کی بڑی تعداد برما سے ہجرت کر کے بنگلہ دیش اور دیگر مسلم ممالک میں قیام پذیر ہو چکی ہے۔ اگر برما کی حکومت کو اس ظلم سے نہ روکا گیا تو آنے والے برسوں میں برما میں مسلمانوں کی تعداد انتہائی کم ہو جائے گی۔اس معاملے میں مسلمان ممالک کو بھی آگے آنا چاہیے۔ خصوصاً بنگلہ دیش کی حکومت کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ او آئی سی کا فرض ہے کہ وہ اس حوالے سے مغربی یورپی ممالک میں بھی مہم چلائے۔ یورپی ذرایع ابلاغ کو اراکانی مسلمانوں کی حالت زار کے بارے میں آگاہ کیا جانا چاہیے۔

اس سے برما کی حکومت پر دباؤ بڑھے گا۔ امریکا کے مفادات ایشیا پیسفک کے خطے میں خاصے بڑھ رہے ہیں۔ امریکی انتظامیہ کی توجہ اب اس سارے خطے پر مرکوز ہے۔ صدر اوباما کا دورہ ملائیشیا بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ اس خطے میں ملائیشیا کے علاوہ دیگر ممالک بھی موجود ہیں۔ ان ممالک میں امریکا اور یورپ کے لیے بے شمار تجارتی مواقع موجود ہیں۔ برما بھی اسی خطے میں شامل سمجھا جانا چاہیے۔ کئی دہائیوں تک یہ ملک عالمی تنہائی کا شکار رہا ہے کیونکہ سرد جنگ کے دور میں اس کی کوئی اسٹرٹیجک اہمیت نہیں تھی۔ اب چونکہ سرد جنگ ختم ہو چکی ہے۔ اس لیے یہ خطہ بھی امریکا اور یورپ کی ترجیحات میں شامل ہو گیا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ اس کی سرحدیں چین کے ساتھ بھی ملتی ہیں۔ امریکا اور یورپ چین کو محصور کرنے کی پالیسی عمل پیرا ہیں۔ وہ ایک جانب بھارت کو مدد دے رہے ہیں اور اب ان کی توجہ برما پر بھی مرکوز ہو گئی ہے۔ پاکستان کو بھی اس حکمت عملی کو سامنے رکھ کر برما کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کا آغاز کرنا چاہیے۔