بینک ڈکیتیوں میں ملوث گروہ کے 4 کارندوں سمیت 7 ملزمان پکڑے گئے

اسلحہ و دیگر سامان برآمد، ملزمان نے گلشن جمال، پی ای سی ایچ ایس، گلستان جوہر، صفورہ گوٹھ کے قریب 5 بینک لوٹے


Staff Reporter April 29, 2014
گرفتار ملزمان اور ان سے برآمد ہونا والا اسلحہ اور لیپ ٹاپ صحافیوں کو دکھایا جا رہا ہے۔ فوٹو : راشد اجمیری/ ایکسپریس

ضلع شرقی پولیس نے بینک ڈکیتیوں میں ملوث گروہ کے 4 کارندوں سمیت7 ملزمان کو گرفتار کر لیا۔

گرفتار ملزمان نے دوران واردات بینک کے سیکیورٹی گارڈ سمیت 3 افرادکو قتل کیاہے، بینک ڈکیتیوں میں ملوث گروہ کے ملزمان کا تعلق خیبر پختونخوا سے ہے ، گرفتار ملزمان کے قبضے سے اسلحہ ،گاڑی اورچھینا ہوا لیپ ٹاپ برآمد کرلیا گیا،یہ بات گزشتہ روز ایس ایس پی ضلع شرقی پیر محمد شاہ نے ایس ایس پی انویسٹی گیشن اور ایس پی کورنگی ڈویژن کے ہمراہ اپنے دفتر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی، پیر محمد شاہ نے بتایا کہ زمان ٹاؤن اور اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے بینک ڈکیتیوں میں ملوث2 سگے بھائیوں سمیت 4 ملزمان گلستان جوہر بلاک 11 مکان نمبر 119 کے رہائشی ملزم ابن الحسن عرف حسن ، عین الحسن ولد نور حسن بنگش، گلستان جوہر کے رہائشی لالہ جان عرف شہباز ولد علی جان اور پہلوان گوٹھ کے رہائشی ملزم حیدر عباس ولد مظفر علی کو گرفتار کرکے ان کے قبضے 3 پستول بمعہ گولیاں اور واردات میں استعمال کی جانے والی ہائی روف گاڑی برآمد کرلی۔

انھوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان5 بینک ڈکیتیوں کی وارداتوں میں ملوث ہیں،گرفتار ملزم اکتوبر 2010 کو گلشن جمال میں واقع سونیری بینک سے 30 لاکھ روپے ، اپریل 2012 کو پی ای سی ایچ ایس میں واقع حبیب بینک سے 95 لاکھ روپے، اکتوبر 2012 کو گلستان جوہر بلاک 14 میں واقع بینک الحبیب سے 47 لاکھ روپے اور اکتوبر 2012 کو ہی صفورہ گوٹھ کے قریب واقع حبیب میٹرو پولٹن بینک سے 37 لاکھ روپے لوٹے تھے اور دوران بینک ڈکیتی ملزمان نے مزاحمت پر بینک کے سیکیورٹی گارڈ سید میر حسن کو ہلاک اور 2 افراد کو زخمی کردیا تھا،انھوں نے بتایا کہ ملزمان رواں سال 3 مارچ کو طارق روڈ پر واقع الائیڈ بینک سے 16 لاکھ سے زائد رقم لوٹنے کی واردات کی تھی۔

انھوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان کا تعلق صوبہ خیبر پختونخواہ کے مختلف علاقے جن میں چارا چنار ، قرم ایجنسی، کوہاٹ سے ہے انھوں نے گروہ کے 3 سے 4 ملزمان مفرور ہیں جن میں 2 ملزمان آسٹریلیا فرار ہوگئے ہیں جن کی گرفتاری کے لیے ریڈ وارنٹ جاری کرنے کے حوالے سے کوشش کی جا رہی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ عوامی کالونی پولیس نے ایک کارروائی کے دوران اسٹریٹ کرائم کی وارداتوں میں ملوث 2 ملزمان قیوم آباد مکان نمبر24-C کے رہائشی ملزم محمد شہزاد عرف شاڈو ولد محمد خان تنولی اور مہران ٹاؤن کے رہائشی ملزم باقر الرحمٰن عرف ابرار ولد ذاکر الرحمٰن کو گرفتار کر کے 2 پستول اور گولیاں برآمدکر لیں۔

انھوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان نے دوران تفتیش 15 اسٹریٹ کرائم کی وارداتوں کا اعتراف کیا ہے جبکہ ملزمان نے 25 مارچ کومل ایریا سیکٹر 27 کورنگی میں ایک کار سوار کو روکنے کی کوشش کی اور نہ رکنے پرکار پر فائرنگ کردی اور فرار ہوگئے،فائرنگ کے نتیجے میں کار سوار محمد یاسمین جاں بحق ہو گیا،گرفتار ملزمان اپنے دیگر ساتھیوں تبسم عرف سود ، عامر عرف شاہ جی ، شہاب عرف شاب ، خرم عرف چٹا اور خرم ہزارے وال کے ساتھ مل کر عوامی کالونی ، بوٹ بیسن ، ڈیفنس اور بلوچ کالونی تھانوں کی حدود میں لوٹ مار کی وارداتیں کرتے ہیں ۔

پیر محمد شاہ نے بتایا کورنگی صنعتی ایریا پولیس نے اسٹریٹ کرائم میں ملوث الواسع ٹاؤن سیکٹر 31-D کورنگی کے رہائشی ملزم دانیال علی خان عرف دانی ولد مظفر علی خان کو گرفتار کر کے اس کے قبضے سے ایک پستول اور ایک چھینا ہوا لیپ ٹاپ بھی برآمد کر لیا،انھوں نے بتایا کہ گرفتار ملزم نے ابتدائی تفتیش میں 8 اسٹریٹ کرائم کی وارداتوں کا اعتراف کیا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ گرفتار ملزم نے اپنے 3 ساتھیوں، شکیل، زین اور علی کے ہمراہ 10 مارچ 2014 کو ڈیفینس فیز 1 کے علاقے میں واقع حبیب بینک کے اے ٹی ایم سے کیشں نکال کر جانے والے نوید اسلم نامی شخص سے 15 ہزار روپے، موبائل فون اور لیپ ٹاپ چھین لیا تھا اور مزاحمت کرنے پر اسے فائرنگ کرکے قتل کردیا تھا اور خود فرار ہو گئے تھے،ایس ایس پی پیر محمد شاہ نے بتایا کہ بہتر کار کردگی دکھانے پر ایڈیشنل آئی جی کراچی نے پولیس افسران و اہلکاروں کے لیے ایک ایک لاکھ روپے کا انعام دینے کا بھی اعلان کیا ہے۔