مذاکرات کے حامی ہیں لیکن دہشت گرد کارروائیوں کا بھرپور جواب دیں گے آرمی چیف

اجلاس میں بھارت کیجانب سے سیزفائر کی خلاف ورزی اورافغانستان سےنیٹو افواج کےانخلا کےبعد کی صورتحال کا جائزہ بھی لیا گیا


Numainda Express May 03, 2014
راولپنڈی: چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف جنرل ہیڈکوارٹرزمیں 172ویں کورکمانڈرز کانفرنس کی صدارت کررہے ہیں۔ فوٹو: آئی این پی

آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی قیادت میں ہونے والے کور کمانڈر کے اجلاس میں کہا گیا ہے کہ مسلح افواج ملک کودرپیش اندرونی وبیرونی خطرات سے نمٹنے کیلیے پوری طرح تیارہیں، فوج طالبان کے ساتھ مذاکرات کی حمایت کرتی ہے تاہم کسی بھی دہشت گردکارروائی کا بھرپور جواب دیاجائے گا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی زیرقیادت جی ایچ کیو میں ہونے والی 172ویں کورکمانڈرز کانفرنس میں مسلح افواج کے پیشہ وارانہ امورپرتفصیلی تبادلہ خیال کیاگیا۔ کانفرنس کے شرکا نے موجودہ اندرونی اوربیرونی سلامتی کی صورتحال کا تفصیل سے جائزہ لیا۔ عسکری ذرائع کے مطابق کورکمانڈرزکانفرنس میں مختلف طالبان کے ساتھ امن مذاکرات، بھارت کے ساتھ ملنے والی سرحد اور قبائلی علاقوں کی تازہ ترین صورتحال کے ساتھ ساتھ افغانستان سے 2014 کے اواخر تک نیٹو افواج کے انخلا کے بعد کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

اجلاس میں لائن آف کنٹرول پر بھارت کی جانب سے سیزفائر کی حالیہ خلاف ورزی پربھی غور کیاگیا۔ فوجی قیادت کا کہنا تھا کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے مگر کسی بھی جارحیت کابھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کے معاملے پرغور کے دوران اعلیٰ فوجی قیادت کا کہنا تھا کہ پاک فوج قیام امن کے لیے ہونے والے مذاکرات کی حمایت کرتی ہے۔