طالبان سے مذاکرات … بریک تھرو درکار

مذاکرات کو متنازعہ بنانے کی مہم جوئی میں مصروف قوتوں کو کوئی آسمانی مخلوق آ کر نکیل نہیں ڈالے گی


Editorial May 04, 2014
مذاکرات کو متنازعہ بنانے کی مہم جوئی میں مصروف قوتوں کو کوئی آسمانی مخلوق آ کر نکیل نہیں ڈالے گی. فوٹو: فائل

وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات میں ڈیڈلاک پہلے تھا نہ آج ہے لیکن اس کھینچا تانی کے ماحول میں مذاکرات کا عمل آگے نہیں بڑھایا جا سکتا، ایک جانب میٹنگ ہوتی ہے تو دوسری جانب میڈیا میں جا کر جلسہ عام شروع ہو جاتا ہے، وزیر اعظم سوموار کو وطن واپس آ جائیں گے تو انھیں اس بارے میں رپورٹ پیش کی جائیگی، مذاکرات کے دوران مثبت پیشرفت سے میڈیا کوآگاہ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اس سے حکومت کی حکمت عملی متاثر ہو گی، وہ نادرا ہیڈ کوارٹرز میں میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔

وزیر داخلہ نے طالبان سے مذاکرات کے نشیب و فراز، جنگ بندی کے خاتمہ کے باعث اس میں تعطل، متعلقہ مذاکراتی کمیٹیوں کے ارکان کے رویوں اور طے شدہ ایجنڈے کے تحت بات چیت میں ابتدائی پیش رفت نہ ہونے کے جن اسباب کی نشاندہی کی ہے وہ سنجیدہ توجہ کی مستحق اور انتہائی قابل غور ہے جن پر حکومتی اور طالبان قیادت دونوں جانب سے سنجیدہ طرز عمل کا مظاہرہ ہونا چاہیے، تاہم اصل ڈیڈ لاک تو اسی روز پیدا ہو گیا تھا جب جنگ بندی کی مدت ختم کر کے طالبان اس میں مزید توسیع کے بجائے تذبذب کا شکار ہو گئے، چوہدری نثار کا کہنا ہے مذاکرات میں کوئی تعطل نہیں لیکن مذاکرات کے نام پر تماشا لگا دیا گیا ہے، جن لوگوں کا کام معاونت تھا وہ بیان بازی اور حکومت پر الزام تراشی میں مصروف ہیں، ایسی صورتحال میں مذاکرات کا مزید جاری رہنا مشکل ہوگا۔

ادھر حکومتی کمیٹی کی طرف سے بیانات آتے رہے کہ وہ طالبان کی طرف سے خیرسگالی کے منتظر ہیں اور جواباً طالبان قیادت اور ترجمان حکومت پر بے اعتباری اور غیر سنجیدگی کا الزام عائد کرتے، اس چیز کو وزیر داخلہ نے بجا طور پر ''کھینچا تانی'' سے تعبیر کیا ہے جو در حقیقت ایک طرح کی نفسیاتی جنگ تھی جس میں فریقین اپنے پلڑے کے بھاری رہنے کی کوشش میں اس بنیادی حقیقت سے صرف نظر کرتے رہے کہ فوج اس صورتحال کو زیادہ دیر جاری رہنے کے حق میں نہیں ہو سکتی تھی، اس دوران غیر معمولی تشدد اور الم ناک بم دھماکوں کے واقعات نے جلتی پر تیل کا کام کیا، حالانکہ پاک فوج کی قیادت نے واضح کیا تھا کہ فوج طالبان کے ساتھ مذاکرات کی حمایت کرتی ہے تاہم کسی بھی دہشت گرد کارروائی کا بھر پور جواب دیا جائیگا۔

جنرل راحیل شریف کا یہ انتباہ بھی سامنے آیا کہ طالبان جنگجو آئین کو قبول کر لیں ورنہ ان سے نمٹ لیا جائیگا۔ مگر اس کے بعد بھی نہ تو جنگ بندی میں توسیع کا کوئی فیصلہ ہوا نہ حکومت کی طرف سے غیر عسکری قیدیوں کی رہائی کا گرین سگنل ملا، اس ضمن میں وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ چند روز قبل انھوں نے وزیر اعظم کی میٹنگ میں آرمی چیف کی موجودگی میں کہا تھا کہ دونوں اطراف سے حتمی مطالبات سامنے آنے چاہئیں، فوج کی طرف سے مذاکرات میں کوئی رکاوٹ نہیں، جو کہتے ہیں فوج حکومت کے ساتھ نہیں، انھیں علم ہونا چاہیے کہ جو غیر عسکری قیدیوں کی رہائی کا فیصلہ کیا گیا تھا وہ فوج ہی کی تحویل میں تھے، ایک اہم مسئلہ جس کی جانب چوہدری نثار نے اشارہ کیا وہ مذاکراتی کمیٹی کے ارکان کی میڈیا میں بہ تکرار ''چھیڑ خوباں سے چلی جائے اسد'' کا ایک دلچسپ حوالہ ہے۔

وزیر داخلہ نے طالبان کی مذاکراتی ٹیم کے کسی بھی رکن کا نام لیے بغیر کہا کہ اس کے ارکان حکومتی کمیٹی سے ملاقات کے دوران کچھ باتیں طے کر کے جاتے ہیں اور باہر جا کر میڈیا میں کچھ اور بیان دے دیتے ہیں جس سے ایسا تاثر ملتا ہے کہ جیسے وہ سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا فوج اور حکومت کے درمیان تعلقات کبھی بھی ناخوشگوار نہیں ہوئے۔ دریں اثنا طالبان مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ مولانا سمیع الحق نے کہا ہے کہ طالبان شوریٰ سے ملاقات کے لیے جگہ کا تعین ہو چکا ہے اور مذاکراتی کمیٹیوں کی ملاقات اتوار کو متوقع ہے، خفیہ ہاتھ مذاکرات کو نقصان پہنچانے کے در پے ہے، فریقین تاخیر نہ کریں اور مذاکراتی عمل کو آگے بڑھائیں، فوج اور حکومت کو ایک پلیٹ فارم پر آنا ہو گا، طالبان کو صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

جمعہ کو رحیم یار خان ایئرپورٹ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا سمیع الحق نے کہا کہ طالبان ملک کے آئین کو تسلیم کر لیں گے، موجودہ تنازع کو کسی فوجی آپریشن یا جنگجوئوں کے حملوں سے حل نہیں کیا جا سکتا بلکہ اس کو پرامن مذاکرات کے ذریعے ہی حل کیا جا سکتا ہے۔ یہاں طالبان کو بطور خاص اور حکومتی ارباب اختیار اور مذاکراتی کمیٹیوں کے ارکان کو بالعموم اس بات کا احساس دلانے کی ضرورت ہے کہ خطے کی صورتحال تہلکہ خیز ہے، دہشت گردی کے باعث ملک کو لاحق خطرات سے حکومت اور پاک فوج لاتعلق اور غیر فعال نہیں رہ سکتیں، مذاکراتی عمل میں شریک مدبرین یہ بھی ادراک کریں کہ پاکستان نے امریکا کی جانب سے انتہا پسندوں کے خلاف مناسب اقدامات نہ کرنے کے حالیہ سنگین الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔

دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے کہا ہے کہ پاکستان اپنے لیے ہی دہشتگردی کے خلاف لڑ رہا ہے، انھوں نے کہا ہم امریکا سمیت بین الاقوامی برادری سے رابطے میں ہیں، پاکستان کو اس رپورٹ سے مایوسی ہوئی ہے۔ ادھر لدھا کے علاقے میں جھڑپوں کی اطلاعات ہیں، ریاستی رٹ کو تسلیم نہ کرنے والے عناصر اس غلط فہمی میں نہ رہیں کہ وہ مذاکرات کے نام پر قوم سے آنکھ مچولی یا پنگ پانگ کھیل جاری رکھنے کی حکمت عملی سے اپنے اہداف پورے کر لینگے، وزیر اعظم نواز شریف برطانیہ کے دورے پر ہیں جہاں انھوں نے ہم منصب ڈیوڈ کیمرون کے ساتھ بات چیت میں واضح اعلان کیا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خاتمہ کا تہیہ کر رکھا ہے، جس کے جواب میں وزیر اعظم کیمرون نے کہا کہ پاکستان کا دشمن ہمارا بھی دشمن ہے۔

یہ پیغام اپنے متن، روح اور عملی اقدامات کی ناگزیریت کے حوالہ سے پاکستان مخالف قوتوں کے لیے ایک انتباہ ہے۔ چنانچہ طالبان اگر اس موقف پر اصرار کرتے ہیں کہ انھوں نے جنگ بندی پر مکمل عمل درآمد کیا ہے تو حکومت یا عوام نے اس کی کب خلاف ورزی کی ہے، وعدوں کی پاسداری کا بھرم اب حکومت اور طالبان کی مشترکہ ذمے داری ہے۔ وقت مزید بات چیت کے ہونے یا نہ ہونے کی کھینچا تانی میں ضایع نہیں کیا جا سکتا، اب قوم مذاکراتی عمل میں اخلاص، سنجیدگی، درد مندی اور عظیم تر قومی مفادات اور علاقائی صورتحال کے تناظر ٹھوس پیش قدمی کی منتظر ہے۔

جہاں تک ملکی جیلوں میں سکیورٹی کی صورتحال کا تعلق ہے سینٹرل جیل پشاور کو ایک مرتبہ پھر سیکیورٹی خطرات لاحق ہو گئے ہیں جس کے پیش نظر جیل میں پابند سلاسل 15 قیدیوں کو ہری پور جیل منتقل کر دیا گیا۔ ضرورت اس ادراک کی ہے کہ مذاکرات کو متنازعہ بنانے کی مہم جوئی میں مصروف قوتوں کو کوئی آسمانی مخلوق آ کر نکیل نہیں ڈالے گی یہ کام سیاسی اور جمہوری قوتوں، مذاکراتی اکابرین، ارباب اختیار سمیت طالبان شوریٰ اور ان کی مرکزی قیادت کو کرنا ہو گا۔ وقت ہاتھ سے نکلنے نہ پائے بلکہ تدبر، حکمت، دور اندیشی اور معاملہ فہمی کا تقاضہ ہے کہ طالبان کشادہ دلی اور بلند نظری کے ساتھ مکالمہ کا ٹوٹا ہوا سلسلہ وہیں سے جوڑیں جو جنگ بندی کے خاتمہ سے منقطع ہوا تھا۔ احساس زیاں کا دو طرفہ اعتراف بیک وقت بریک تھرو کا باعث بن سکتا ہے۔