روزانہ 1000 افراد ڈائریا میں مبتلا ہونے لگے

مرض ٹھیلوں پر فروخت کیے جانے والے رنگ برنگے مشروبات اور اشیا استعمال سے لاحق ہوتا ہے،پروفیسر اقبال میمن


Staff Reporter May 05, 2014
مرض ٹھیلوں پر فروخت کیے جانے والے رنگ برنگے مشروبات اور اشیا استعمال سے لاحق ہوتا ہے،پروفیسر اقبال میمن . فوٹو: فائل

سرکاری اسپتالوں میں یومیہ ایک ہزار بچے اور بڑی عمر کے افراد ڈائریاکا شکار ہوکر علاج کیلیے آرہے ہیں، یہ بات پاکستان پیڈیا ٹرکس ایسوسی ایشن کے صدر پروفیسر اقبال میمن نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہی۔

انھوں نے بتایا کہ کراچی میں گرمی کا موسم شروع ہوتے ہی ڈائریا شدت اختیار کررہا ہے ،ڈائریا کے مرض سے متاثرہ بچوں کو قے اوراسہال کی شکایات لاحق ہوجاتی ہیں،انھوں نے کہاکہ سول اسپتال ،قومی ادارہ اطفال برائے صحت اور سندھ گورنمنٹ چلڈرن اسپتال نارتھ کراچی سمیت دیگر سرکاری اسپتالوں کے ڈائریا یونٹ میں یومیہ ایک ہزاربچے سمیت بڑی عمرکے افراد اس مرض میںرپورٹ ہورہے ہیں، انھوں نے کہا کہ ڈائریا کا مرض گرمی میں شروع ہوجاتا ہے کیونکہ گرمی میں باسی اشیا کے کھانے اورآلودہ پانی کے استعمال سے ڈائریاکا مرض لاحق ہوتا ہے۔

ٹھیلوں میں فروخت کیے جانے والے رنگ برنگی مشروبات ، گولے گنڈے، غیر معیاری آئس کریم، تلے ہوئے پاپڑ سمیت دیگر مضر اشیا کے استعمال سے یہ مرض لاحق ہوتا ہے جس میں متاثرہ بچوں کو اسہال اور قے شروع ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے بچوں میں نمکیات کی شدید کمی واقع ہوجاتی ہے،ایسی صورت میں بچے کا فوری مستند معالج سے معائنہ کرانا چاہیے، گھر میں بچے کو او آر ایس کا استعمال شروع کرایا جائے، دریں اثنا پاکستان پیڈیاٹرک ایسوسی ایشن نے والدین پر زوردیا ہے کہ وہ اپنے بچوں کومہلک بیماریوں سے بچاؤ کے لیے حفاظتی ٹیکے لازمی لگوائیں کیونکہ پاکستان میں بچوںکی اموات زیادہ تر ان بیماریوںکے باعث ہوتی ہے جن پر حفاظتی ٹیکوں کی مدد سے قابو پایا جاسکتا ہے۔

ان بیماریوں میں ڈائریا، نمونیا، تشنج اور خسرہ شامل ہیں،انھوں نے کہا کہ دنیا میں بچوںکو ان وبائی امراض سے بچانے کیلیے اور ان بیماریوںکوختم کرنے کیلیے وسیع پیمانے پراخراجات اورطبی سہولتیں فراہم کی جارہی ہیں تاہم پاکستان میں عوام کی بڑی تعداد اس خطرے سے لاعلم ہے اور بچوںکوحفاظتی ٹیکوںکے ذریعے ان بیماریوں سے محفوظ بنانے میں غفلت کا مظاہرہ کررہی ہے حالانکہ یہ سہولت عوام کو مفت فراہم کی جارہی ہے،انھوں نے کہاکہ خسرہ اورڈائریاہر روز بچوںکی جان لینے والامرض بن گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان ان ملکوں کی فہرست میںشامل ہے جہاں بچوں میں خناق، تشنج، خسرہ، کالی کھانسی، پولیو، ٹی بی اور ہیپاٹائٹس بی کی بیماریوں میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے، ڈاکٹر محمد سلیم پریانی، نائب صدر پیڈیا ٹرک ایسوسی ایشن سندھ نے کہا کہ ہر 11 میں سے ایک بچہ 5سال کی عمر سے پہلے ہی نمونیا اور ڈائریا کی وجہ سے موت سے ہمکنار ہوجاتا ہے، اسی طرح جنوری 2012 سے مئی 2013 تک 25,859 خسرہ کے نئے کیسز اور 570 بچوں کی اموات سامنے آچکی ہیں جو اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ پاکستان میں حفاظتی ٹیکوں کا پروگرام غیر تسلی بخش ہے۔