امیروں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کا ایف بی آر کا منصوبہ ناکام

ایف بی آر کے22 فیلڈ یونٹس نے انکم ٹیکس میں 4لاکھ 78ہزار 428 نان فائلرز کا سراغ لگایا تھا۔


Irshad Ansari May 07, 2014
ایف بی آر کے22 فیلڈ یونٹس نے انکم ٹیکس میں 4لاکھ 78ہزار 428 نان فائلرز کا سراغ لگایا تھا۔ فوٹو: فائل

ISLAMABAD/RAWALPINDI: ملک کے امیروں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر)کی طرف سے شروع کیا جانے والا انفورسمنٹ ایکشن پلان ناکام ہوگیا۔

''ایکسپریس'' کو دستیاب دستاویز کے مطابق ایف بی آرکے ودہولڈنگ ڈپارٹمنٹ کی طرف سے ایف بی آر کو لکھے جانے والے لیٹر نمبرC.NO1(19)E&WHT(IDT)/2014 میں انکشاف کیا گیا ہے کہ قابل ٹیکس آمدنی رکھنے کے باوجود ٹیکس ادا نہ کرنے والوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کیلیے فیلڈ فارمشنز کو انٹیگریٹڈ انفورسمنٹ ایکشن پلان بھجوایا گیا تھا لیکن فیلڈ فارمشنز کامذکورہ پلان پر عملدرآمد غیر تسلی بخش ہے۔

انٹیگریٹڈ انفورسمنٹ ایکشن پلان پر عملدرآمد کے بارے میں فروری 2014 تک کے موصول ہونے والے اعدادوشمار کے مطابق 26 ہزار 124افراد ایسے تھے جو انکم ٹیکس میں ان رجسٹرڈ تھے جن میں سے 10ہزار259 لوگوں کو نیشنل ٹیکس نمبر جاری کیے گئے ہیں اور انکم ٹیکس میں نئے رجسٹرڈ ہونیوالے ٹیکس دہندگان میں سے صرف 3ہزار 892افراد نے انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرائے اور ان سے ٹیکس گوشواروں کے ساتھ صرف99 لاکھ 80ہزار روپے کا ریونیو حاصل ہوسکا۔

ایف بی آر کے22فیلڈ یونٹس کی طرف سے انکم ٹیکس میں 4لاکھ 78ہزار 428 نان فائلرز کا سراغ لگایا تھا لیکن 2لاکھ 28 ہزار 482 نان فائلرز کو نوٹس جاری کیے گئے جن میں سے صرف31 ہزار 95 لوگوں نے گوشوارے جمع کرائے۔ لیٹر میں کہا گیاکہ ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کے حوالے سے عملدرآمد کیلیے85فیصد خلا ناقابل قبول ہے، سیلز ٹیکس گوشوارے جمع نہ کرانے والے94 ہزار 251 افراد میں سے 57 ہزار 211 نان فائلرز کو نوٹس جاری کیے گئے جن میں سے صرف14 ہزار 161 افراد نے سیلز ٹیکس گوشوارے جمع کرائے۔ لیٹر میں کہا گیاکہ انٹیگریٹڈ انفورسمنٹ ایکشن پلان کے نتائج غیر تسلی بخش ہیں۔