جیو نیوز کے خلاف شکایت پر پیمرا کا اجلاس 9 مئی کو پھر طلب

جیو نیوز نے قومی سلامتی کے ادارے پر الزام تراشی کی اس لئے اس کا لائسنس منسوخ کیا جائے، وکیل وزارت دفاع


Numainda Express May 07, 2014
جیو نیوز کو قومی سلامتی کے ادارے کے خلاف الزام تراشی پر پیمرا کی جانب سے نوٹس جاری کیا گیا تھا فوٹو: فائل

پاکستان الیکٹرک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کی فیکٹ فائینڈنگ کمیٹی نے جیو نیوز کے خلاف فیصلہ کے لیے پیمرا اتھارٹی کا اجلاس 9 مئی کو طلب کرلیا ہے۔پیمرا کمیٹی کا اجلاس منگل کو ہوا۔

اجلاس جیو نیوز کو 14دن کے نوٹس کے بعد وزارت دفاع کی شکایت پر طلب کیا گیا تھا ، اجلاس کی صدارت پرویز راٹھور نے کی جبکہ پیمرا کے 2 ارکان اسرار عباس اور اسماعیل شاہ نے شرکت کی۔کمیٹی نے وزرات دفاع اور آئی ایس آئی کی جانب سے جیو نیوز کے خلاف تحریری شکایت کی سماعت کی۔وزارت دفاع کی جانب سے بابر اعوان اور جیو نیوز کی جانب سے اکرم شیخ پیش ہوئے۔14 روز قبل جیو نیوز کو قومی سلامتی کے ادارے کے خلاف الزام تراشی پر پیمرا کی جانب سے نوٹس جاری کیا گیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ کیوں نہ جیو نیوز کا لائیسنس منسوخ کیا جائے۔پیمرا نے جیو نیوز کی انتظامیہ کو جواب کے لیے طلب کیا تھا۔

کمیٹی کے اجلاس میں جیو نیوز کے وکیل اکرم شیخ نے اتھارٹی کی تشکیل کو چیلنج کیا اور کہا کہ پیمرا نامکمل ہے اور سماعت کا اختیار نہیں رکھتا میں چیلنج کرتا ہوں کہ پیمرا لائسنس منسوخ نہیں کرسکتا۔وزارت دفاع کے وکیل بابر اعوان نے کہا کہ جیو نیوز نے قومی سلامتی کے ادارے پر الزام تراشی کی اس لئے اس کا لائسنس منسوخ کیا جائے۔ان کا موقف تھا کہ ضابطہ اخلاق اور قانون کی خلاف ورزی کی گئی ہے یہ پیمرا رولز کی خلاف ورزی ہے اس کا پیمرا کے مستقل چیئرمین کے ہونے یا نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔جیو نیوز نے29 شق کی خلاف ورزی کی کہ جو قانون میں بالکل واضح ہے پیمرا اتھارٹی کے تمام ارکان موجود ہیں اور اتھارٹی فیصلے کا مکمل اختیار رکھتی ہے۔

پیمرا کے ذرائع کے مطابق اگر جیو نیوز کا لائسنس منسوخ کرنے کا فیصلہ ہوتا ہے تو اس کا حتمی فیصلہ پیمرا کی کونسل آف کمپلینٹ کرے گی۔ جبکہ لائسنس معطل کرنے اور جرمانہ کا فیصلہ پیمرا اتھارٹی کرے گی۔