دہشتگردی کے خلاف پاک ایران تعاون بڑھانے پر اتفاق

ایرانی پارلیمنٹ سے پاکستان کے ساتھ تعاون بڑھانے سے متعلق بل پاس ہونے کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات مزید بہتر ہوں گے


Editorial May 07, 2014
ایرانی پارلیمنٹ سے پاکستان کے ساتھ تعاون بڑھانے سے متعلق بل پاس ہونے کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات مزید بہتر ہوں گے فوٹو: این این آئی

پنجاب ہائوس میں وزیراعظم نواز شریف، وزیرداخلہ چوہدری نثار اور آرمی چیف سے ایرانی وزیرداخلہ عبدالرضا رحمانی فاضلی نے ملاقات کی، جس میں پاکستان اور ایران نے کراس بارڈر دہشت گردی، منشیات کی اسمگلنگ، ہیومن ٹریفکنگ کے خاتمے اور انٹیلی جنس و سیکیورٹی تعاون بڑھانے، انسداد دہشت گردی کے لیے دونوں ممالک کا باہمی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے، بارڈر سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے علاوہ سیکیورٹی فورسز کے مشترکہ آپریشن پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔

ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرداخلہ چوہدری نثار نے کہا ہے کہ پاکستان اور ایران کے درمیان قریبی گہرے دوستانہ اسلامی و ثقافتی تعلقات اپنی مثال آپ ہیں، دونوں ممالک کے درمیان انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ کیا جائے گا اور ڈی جی ملٹری آپریشنزکے درمیان ہاٹ لائن قائم کی جائے گی۔ پاک ایران بارڈر پر کسی قسم کی غیریقینی یا نازک صورتحال نہیں اور دونوں ممالک بارڈر سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے مزید اقدامات اٹھا رہے ہیں اور اس حوالے سے مشترکہ کمیشن تشکیل دیا جائے گا۔

ایرانی وزیرداخلہ عبدالرضا رحمانی فاضلی نے کہا کہ پاکستان سمیت تمام ممالک کے ساتھ قریبی اور دوستانہ تعلقات ایران کی پالیسی کا حصہ ہیں، امن و تعاون کا پیغام لے کر آیا ہوں، ایران، افغانستان اور پاکستان کے تعاون اور بہترین دوستانہ تعلقات کی بدولت ہر قسم کی سازشیں ناکام بنائیںگے۔ اس موقع پرگفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف نے کہاکہ حکومت عوام کو امن کا تحفہ دینے کے لیے کوشاں ہے۔ تینوں برادر اسلامی ممالک کے قریبی تعلقات سے خطے میں استحکام و سلامتی پیدا ہوگی، ایرانی پارلیمنٹ کی طرف سے پاکستان کے ساتھ تعاون بڑھانے سے متعلق بل پاس ہونے کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات مزید بہتر ہوں گے۔اس امر میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان ایران تعلقات سمیت تمام پڑوسی ممالک سے تعلقات کا بہتر ہونا نہ صرف وقت کی اہم ضرورت بلکہ خطے میں امن کے قیام کی بنیادی شرط ہے ۔