عدالت کا عمر نواز کی عدم بازیابی پر توہین عدالت کی کارروائی سے انکار

سات سماعتیں ہوگئیں مگر عمر بازیاب نہیں ہوا؟ بابر اعوان، پولیس تحقیقات کررہی ہے توہین عدالت کی کارروائی کیسے کریں؟عدالت


ویب ڈیسک August 18, 2023
(فائل : فوٹو)

اسلام آباد ہائی کورٹ نے حکم کے باوجود سابق ایم این اے علی نواز اعوان کے بھائی عمر نواز کو بازیاب نہ کرانے پر سیکریٹری داخلہ، دفاع اور آئی جی کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی سے انکار کردیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ میں سابق ایم این اے علی نواز اعوان کے بھائی عمر نواز کی عدم بازیابی پر جسٹس طارق محمود جہانگیری کے روبرو توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی۔

عمر نواز کی عدم بازیابی پر سیکریٹری داخلہ، دفاع اور آئی جی کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر ہوئی تھی۔ آج سماعت میں عدالت نے سیکریٹری داخلہ ، چیف کمشنر اور آئی جی کو نوٹس جاری کرکے جواب طلب کرلیا تاہم توہین عدالت کی کارروائی سے انکار کردیا۔

درخواست گزار کے وکیل بابر اعوان نے عمر نواز کی بازیابی سے متعلق ہائی کورٹ کا آرڈر پڑھ کر سناتے ہوئے کہا کہ سات سماعتیں ہو چکی ہیں لیکن لاپتا عمر نواز کی بازیابی نہیں ہوسکی ، عدالت نے حکم دیا لیکن عمر نواز کو ابھی تک عدالت کے سامنے پیش نہیں کیا گیا ، ہائی کورٹ کے پاس اختیار ہے وہ عدالتی حکم نہ ماننے پر کارروائی کر سکتی ہے۔

عدالت نے کہا کہ یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ کسی بھی شہری کو لاپتا نہیں جاسکتا، قانون بڑا واضح ہے اگر کسی نے جرم کیا ہے تو اس کے خلاف قانون کے مطابق ہی کارروائی ہو سکتی ہے، آپ کی ایف آئی آر کا اندراج ہوچکا ہے اور پولیس تحقیقات کر رہی ہے اس تناظر میں توہین عدالت کی کارروائی کیسے ہوسکتی ہے؟

وکیل بابر اعوان نے کہا کہ عمر کے بڑے بھائی سابق ایم این اے ہیں اور ان کا قصور صرف یہ ہے کہ انہوں ںے ابھی تک پریس کانفرنس نہیں کی، یہ ایک پیٹرن بن چکا ہے کسی کو اٹھاؤ، لوگوں کے گھر فیملیز کو تنگ کرو، ایسی صورت میں کیا کوئی آنکھیں بند کر سکتا ہے؟ عدالت کو اسے بھی دیکھنا چاہیے۔

بعدازاں عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت 28 اگست تک ملتوی کردی۔

مقبول خبریں