عمران خان کے مطالبات غلط نہیں ہیں

اگر مسلم لیگ ن کی حکومت انتخابی دھاندلی کے بارے میں کوئی ایکشن لیتی تو آج صورت حال احتجاج تک نہ پہنچتی ...


Editorial May 12, 2014
اگر مسلم لیگ ن کی حکومت انتخابی دھاندلی کے بارے میں کوئی ایکشن لیتی تو آج صورت حال احتجاج تک نہ پہنچتی فوٹو؛ پاکستان تحریک انصاف

تحریک انصاف کی قیادت 11 مئی 2013 کے عام انتخابات میں دھاندلی کی بات خاصے عرصے سے کرتی چلی آ رہی ہے' کراچی میں ایک حلقے میں دوبارہ پولنگ اور پھر گنتی ہوئی تو تحریک انصاف کا امید وار کامیاب ہوا' تحریک انصاف کی قیادت چار حلقوں میں انگوٹھوں کی تصدیق چاہتی ہے' عمران خان نے اگلے روز احتجاجی جلسے میں اس کا مطالبہ بھی کیا ہے۔اصولی طور پر ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے' اگر چار حلقوں میں انگوٹھوں کے نشانات کی تصدیق ہو جاتی ہے تو اس سے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا اور یہ معاملہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا۔

اس سے جمہوریت کوبھی کوئی خطرہ نہیں ہے اور نہ ہی یہ کوئی غیر آئینی مطالبہ ہے۔ہر سیاسی جماعت ایسا مطالبہ کر سکتی ہے۔ تحریک انصاف ہی نہیں بلکہ مسلم لیگ ق بھی عام انتخابات میں دھاندلی کی بات کرتی ہے۔مسلم لیگ ق کے رہنما اور سابق وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی متعدد بار اس حوالے سے بات کر چکے ہیں لیکن حکومت نے ان باتوں یا مطالبات کا کبھی سنجیدگی سے نوٹس نہیں لیابلکہ مسلم لیگ ن کے وزراء انتخابی دھاندلی کی بات کرنے والوں کا تمسخر اڑاتے رہے اور یہ سلسلہ اب تک جاری ہے' جسے کسی طور پر بھی سراہا نہیں جا سکتااور نہ ہی اسے جمہوری طرز عمل قرار دیا جا سکتا ہے۔

اگر مسلم لیگ ن کی حکومت انتخابی دھاندلی کے بارے میں کوئی ایکشن لیتی تو آج صورت حال احتجاج تک نہ پہنچتی' اب صورت حال یہ ہے کہ اسلام آباد کے ڈی چوک میں تحریک انصاف نے احتجاجی جلسہ کیاہے' یہ معاملہ یہیں ختم ہوتا نظر نہیں آتا بلکہ تحریک انصاف نے 23 مئی کو پنجاب کے صنعتی شہر فیصل آباد میں بھی احتجاجی جلسہ کرنے کا اعلان کر رکھا ہے اور ہر جمعہ کو اسلام آباد میں الیکشن کمیشن کے سامنے احتجاجی مظاہرہ ہو گا۔ ادھر تحریک منہاج القرآن کے قائد مولانا طاہر القادری بھی احتجاجی مظاہرے کر رہے ہیں اور ان کا ہدف بھی موجودہ حکومت ہے' مسلم لیگ ق بھی ایسے ہی موڈ میں ہے۔

یوں دیکھا جائے تو حکومت کی پالیسیاں اس کے خلاف ایک گرینڈ سیاسی اتحاد کا باعث بن رہی ہیں۔یہ صورت حال حکومت کے لیے اچھی نہیں ہے' اسے اس حوالے سے اپنے رویے پر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے۔ الیکشن کمیشن کے حوالے سے تحریک انصاف' مسلم لیگ ق جو مطالبات کر رہی ہیں' وہ قدرے درست ہیں' جس الیکشن کمیشن کے تحت مئی 2013 کے عام انتخابات ہوئے' اس کے چیف الیکشن کمیشن کے پاس اختیارات نہیں تھے اور وہ ایک ڈمی عہدہ تھا' عام انتخابات کے بعد چیف الیکشن کمشنر مستعفی ہو گئے تھے۔

مسلم لیگ ن کے سیاسی مخالفین کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی نے باہم مل کر ایسا الیکشن کمیشن تشکیل دیا جو ان کے مفادات کا تحفظ کرتا نظر آیا' اس قسم کے اقدامات جمہوریت کی روح کے خلاف ہیں' جمہوریت نظام کی کامیابی کا دارومدار انصاف پر ہے۔ عجیب بات یہ ہے کہ مسلم لیگ ن کی حکومت اگر کوئی سیاسی جماعت کسی نا انصافی پر احتجاج کرتی ہے تو اسے جمہوریت کے خلاف سازش کا نام دیتی ہے حالانکہ وہ خود سابق حکومت کی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کرتی رہی ہے۔حکومت کو موجودہ گمبھیر صورت حال پر ٹھنڈے دل سے غور کرنا چاہیے' ملک کی اپوزیشن سیاسی جماعتیں اس کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہیں' یہ باتیں بھی ہو رہی ہیں کہ حکومت کی پالیسیوں سے سیکیورٹی ادارے بھی عدم اطمینان کا شکار ہیں۔