کے الیکٹرک سے 67 کروڑسیلزٹیکس لینے کیخلاف حکم امتناع

کے الیکٹرک کے مختلف وفاقی وصوبائی محکموںپر 37ارب روپے سے زائدواجب الاداہیں


Staff Reporter May 17, 2014
تخمینہ مفروضے کی بنیاد پر لگایا گیاہے،سندھ ہائیکورٹ میںبیرسٹرعابدزبیری کا موقف ۔ فوٹوـ: فائل

KARACHI: سندھ ہائیکورٹ نے ایف بی آرکو ٹیکس کی مدمیں کے الیکٹرک سے 66کروڑ روپے وصولی سے روک دیاہے۔

جسٹس شفیع صدیقی پرمشتمل سنگل بینچ نے ایف بی آرکے نوٹسزکے خلاف کے الیکٹرک کی درخواست پروفاقی وزارت خزانہ، چیئر مین ایف بی آراور دیگرکو 23مئی کیلیے نوٹس جاری کردیے ہیں۔ ڈپٹی کمشنران لینڈریونیو نے کے الیکٹرک کو 66کروڑ 92لاکھ 9671 روپے کانادہندہ قراردیا ہے۔ کے الیکٹرک کی جانب سے بیرسٹرعابدزبیری نے موقف اختیار کیاکہ کے الیکٹرک کے وفاقی و صوبائی محکموںپر 37ارب روپے سے زائدواجب الاداہیں جن میںکالعدم سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کراچی، کراچی واٹربورڈ اوردیگر ادارے شامل ہیں۔

فیڈرل بورڈآف ریونیو(ایف بی آر)نے درخواست گزارکو جنوری اور فروری2014 کے لیے سیلزٹیکس کی مدمیں 66 کروڑ 92لاکھ9671روپے کی ادائیگی کا نوٹس بھیجا تھا جس کاتخمینہ مفروضے کی بنیاد پرلگایا گیا ہے۔ کے الیکٹرک کواس حوالے سے 19مارچ 2014کو نوٹس موصول ہواجس کا جواب داخل کرنے کیلیے مہلت طلب کی گئی۔ بعدازاں 28اپریل 2014 کو ڈپٹی کمشنران لینڈریونیو نے درخواست گزارکے خلاف حکم جاری کیاہے کہ جس کے خلاف اپیل بھی دائر کردی گئی ہے۔