عافیہ کے معاملے کو ڈیل کرنے میں کوتاہی برتی گئی جسٹس ر وجیہہ الدین

ملالہ اورعافیہ کیلیے مغرب کا دہرا معیارکھل کرسامنے آگیا،عافیہ موومنٹ کے تحت تقریب


Staff Reporter May 17, 2014
ملالہ اورعافیہ کیلیے مغرب کا دہرا معیارکھل کرسامنے آگیا،عافیہ موومنٹ کے تحت تقریب۔ فوٹو : ایکسپریس

جسٹس (ر) وجیہہ الدین نے کہاہے کہ عافیہ کے معاملے کو قانونی طریقے سے ڈیل کرنے میں کوتاہی برتی گئی ہے۔

ملالہ اور عافیہ کے لیے مغرب کا دہرا معیارکھل کرسامنے آچکا ہے۔ دختر پاکستان کا مسئلہ پاکستان کے مسائل میں سرفہرست ہے۔وہ جمعے کومقامی کلب میں عافیہ موومنٹ کے زیراہتمام ہونے والی مضمون ونظم نویسی کی ایوارڈزتقریب سے خطاب کررہے تھے۔ جسٹس (ر) وجیہہ الدین کا کہنا تھا کہ عافیہ کے ہاتھ سے ایک چیونٹی بھی نہیں مری لیکن مغرب نے اپنے مطلب کے جرائم عافیہ پرثابت کر کے اسے سزادلوادی۔ انھوں نے کہاکہ عافیہ کے مسئلے کوحکومت پاکستان نے سنجیدگی سے ڈیل ہی نہیں کیا اس مسئلے کو سفارتکاری اصولوں کے مطابق حل کیا جاناچاہیے تھا،عافیہ کوواپس لانے کے لیے حکومتوں نے متعدد مواقع گنوادیے۔ڈاکٹرفوزیہ صدیقی نے کہا کہ ہم پرامید ہیں کہ ایک روزعافیہ اپنے گمشدہ بچوں سے ملنے ضرورپاکستان آئے گی۔عافیہ کی رہائی کے لیے ایک اوردرخواست دائرکر دی ہے میں پاکستانی عوام اورحکمرانوں سے اپیل کرتی ہوں کہ خدارا ہماری بہن کو واپس لانے کے لیے سب متحد ہوجائیں۔

عافیہ موومنٹ کے تحت مقابلہ مضمون نویسی اور نظم نویسی کے فاتحین کے ناموں کااعلان کیاگیا۔مضمون نویسی میں بہاولپورکے عبدالحفیظ امیر پوری نے پہلی،جامعہ بنوریہ ٹائون کے محمد یاسرسلطان نے دوسری اورجامعہ دارالعلوم کورنگی کے محمد احسان نے تیسری پوزیشن حاصل کی جبکہ نظم نویسی میں جامعہ دارالعلوم کورنگی کے توفیق الرحمن نے پہلی،عطاالرحمن نے دوسری جبکہ دارالعلوم دارالصفا کے محمد کاشف نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔ ان فاتحین میں نقدا نعامات بھی تقسیم کیے گئے۔بعد ازاں عافیہ موومنٹ کی جانب سے روزنامہ ایکسپریس کے ایڈیٹرطاہر نجمی کے علاوہ مختلف اخبارات اور جرائد کے نمائندوں کو بھی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس کو اجاگر کرنے اور بہترین رپورٹنگ کرنے پراعزازی شیلڈز سے نوازا گیا ۔