رمضان پیکیج اور اہم اقتصادی منصوبے

اقتصادی رابطہ کمیٹی نے رمضان پیکیج کی منظوری دی وہیں اہم منصوبوں کے حوالے سے بھی قوم کو امید افزا پیش رفت سے آگاہ کیا


Editorial May 17, 2014
اقتصادی رابطہ کمیٹی نے رمضان پیکیج کی منظوری دی وہیں اہم منصوبوں کے حوالے سے بھی قوم کو امید افزا پیش رفت سے آگاہ کیا فوٹو : فائل

کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے 2 ارب روپے کے رمضان پیکیج کی منظوری دے دی ہے۔ کمیٹی کا اجلاس جمعے کو وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت ہوا جس میں کمیٹی نے بجلی کی قلت پر قابو پانے کے لیے گیس کے نئے دریافت ہونے والے 6 ایم ایم سی ایف ڈی کے ذخائر واپڈا کے تھرمل پاور اسٹیشن گدو کو6 ایم ایم سی ایف ڈی گیس فراہم کرنے کی بھی منظوری دے دی ہے جب کہ وزیر اعظم نواز شریف نے مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس 22 مئی کو طلب کر لیا ہے جس میں چاروں وزرائے اعلیٰ اور دیگر ارکان شریک ہوں گے۔

اقتصادی رابطہ کمیٹی نے جہاں رمضان پیکیج کی منظوری دی ہے وہاں دیگر اہم منصوبوں کے حوالے سے بھی قوم کو امید افزا پیش رفت سے آگاہ کیا ہے جب کہ ماہ رمضان کے ضمن میں 2 ارب روپے کے پیکیج کی منظوری اس اعتبار سے قابل غور ہے کہ ملک میں غربت و افلاس کا دائرہ بڑھا ہے جب کہ خط افلاس سے نیچے زندگی گزارنے والے اہل وطن کی معاشی حالت زار اور ان کے مصائب سے پیدا ہونے والے جرائم اور نا آسودگی کے آلام و مشکلات دردناک ہیں جن کو دیکھتے ہوئے دو ارب کا پیکیج بھی اونٹ کے منہ میں زیرے کے مصداق ہے۔ تاہم اسی رقم سے سہولتیں مناسب طریقے سے عوام تک پہنچ جائیں تو ماہ مقدس میں عام آدمی بھی افطار و سحر کی برکتیں سمیٹ سکتا ہے۔

رمضان پیکیج 23 جون 2014ء سے نافذ العمل ہو گا جس کے تحت یوٹیلٹی اسٹور پر رمضان کے دوران عوام کو آٹے پر 6 روپے فی کلوگرام ، گھی و کوکنگ آئل پر 10 روپے فی کلو گرام جب کہ دال چنا، دال مسور اور دال ماش پر 10 روپے فی کلو سبسڈی دی جائے گی، رمضان میں یوٹیلٹی اسٹورز پر چنے، بیسن، کھجور اور چاول پر 10 روپے فی کلو، سکویش و مشروبات پر10 روپے فی لیٹر، چائے کی پتی پر 50 روپے فی کلو اور دودھ پر 10 روپے فی لیٹر سبسڈی دی جائے گی جب کہ مصالحہ جات کی قیمتوں میں بھی 10 فیصد کمی کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔

مگر سوال صرف یوٹیلٹی اسٹورز پر اشیائے ضرورت کی فراہمی اور دستیابی کے سادہ کام کا نہیں ہے بلکہ طلب و رسد اور قیمتوں پر کنٹرول کے محکموں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مل کر ذخیرہ اندوزوں اور گراں فروشوں کے خلاف منظم کارروائی کو بھی یقینی بنانا ہو گا، کیونکہ معاشرتی گراوٹ، ہوس زر اور ناجائز منافع خوری کی تاجرانہ ذہنیت کے باعث ماہ رمضان میں روزے رکھنے والوں کو شدید مہنگائی اور اذیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ شہریوں کو درپیش آنے والی اس قسم کی تذلیل آمیز صورتحال پر سپریم کورٹ کا ایک حالیہ حکم انتباہ کا درجہ رکھتا ہے۔ عدالت عظمیٰ کے جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس دیے کہ تارکین وطن ملک کو16 ارب ڈالر کا زرمبادلہ بھیجتے ہیں اور ان کے خون پسینے کی کمائی سے ہم تنخواہ لیتے ہیں، ان کے ساتھ ایئر پورٹس پر غیر انسانی سلوک ہوتا ہے۔

یہی صورتحال عوام کو حکومتی اور معاشرتی سطح پر ایک گہرے جذباتی بحران سے دوچار کرتی رہتی ہے۔ ان کی عزت نفس مجروح ہوتی رہتی ہے۔ یہ سلسلہ ختم ہونا چاہیے۔ قومی ترقی کے عمل میں سب کو شریک کرنا ناگزیر ہے۔ ادھر ای سی سی کے اجلاس میں 2010ء میں روکی جانے والی مردم شماری دوبارہ کرانے اور صوبوں کے ذمے بجلی کے بقایاجات کے معاملے پر غور مستحسن ہے۔ اسی طرح وزارت پٹرولیم و قدرتی وسائل کے حوالے سے پیرکوہ کے علاقے میں گیس کے نئے ذخائر کی دریافت ایک اچھی خبر ہے، توانائی بحران کے کڑے دنوں میں قوم کیلیے یہ بہار کا ایک تازہ جھونکا ہے۔ وزارت پٹرولیم و قدرتی وسائل کے حکام اس بنیادی حقیقت سے واقف ہوں گے کہ پاکستان کو گیس اور بجلی کی مشکل ترین آزمائش سے گزرنا پڑ رہا ہے۔

ایک ایٹمی ملک کو توانائی کے مسائل نے کئی شعبوں میں ترقی کی رفتار کو شدید متاثر کیا ہے، ہماری ٹیکسٹائل انڈسٹری مضمحل ہے، تاہم عالمی بینک کی یہ اطلاع خوش آئند ہے کہ پاکستان کو افرادی قوت کی ترقی کے باب میں بہتر کارکردگی پر نمایاں جگہ ملی ہے، اسی حکمت عملی کے ساتھ بیروزگاری کے خاتمے، صنعتی ترقی کی وسیع تر بنیاد اور توانائی کے وسائل کی دستیابی کو مد نظر رکھتے ہوئے ای سی سی نے مذکورہ نئے دریافت ہونے والے گیس کے ذخائر واپڈا کے تھرمل پاور اسٹیشن گدو کو6 ایم ایم سی ایف ڈی گیس فراہم کرنے کی منظوری دے کر قومی معیشت کے استحکام کو تقویت دینے کا اقدام کیا ہے۔، ای سی سی نے وزارت خزانہ کی طرف سے وزارت پانی و بجلی کو پاور سیکٹر کے لیے 31 ارب روپے کی ساورن گارنٹی فراہم کرنے کی بھی منظوری دے دی۔

وزارت خزانہ کی طرف سے دی جانے والی یہ ساورن گارنٹی پاور سیکٹر کے لیے ''سنڈی کیٹڈ ٹرم فسیلیٹی'' کے طور استعمال کی جا سکے گی۔ دریں اثنا وفاقی وزیر خزانہ نے امریکی سفارتکار رابن رافیل سے ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ توانائی بحران کا خاتمہ موجودہ حکومت کی اولین ترجیح ہے، درآمدی وسائل پر انحصار کم کرنے کے لیے ملکی وسائل کو بروئے کار لایا جائے گا، رابن رافیل نے کہا کہ پاکستان کی میکرو اقتصادی صورتحال بہتر ہو رہی ہے، انھوں نے توانائی کے شعبے میں امریکا کی طرف سے مسلسل تعاون کا یقین دلایا اور امید ظاہر کی کہ ملک میں کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں پر کام کی رفتار تیز کی جائے گی۔