رواں مالی سال کی آخری مالیاتی پالیسی

حکومت نے طاقتور طبقات کے ٹیکس استثنیٰ کو ختم کرنے کا اعلان کر کے درست سمت قدم اٹھایا ہے


Editorial May 18, 2014
حکومت نے طاقتور طبقات کے ٹیکس استثنیٰ کو ختم کرنے کا اعلان کر کے درست سمت قدم اٹھایا ہے۔ فوٹو: فائل

اسٹیٹ بینک نے رواں مالی سال کی آخری مانیٹری پالیسی کا اعلان کر دیا ہے جس کے مطابق شرح سود کو 10 فیصد پر برقرار رکھا گیا ہے۔ اسٹیٹ بینک کے اعلامیہ کے مطابق چند ماہ میں مہنگائی کی شرح تو کم ہوئی لیکن اپریل میں دوبارہ بڑھ کر9 فیصد سے تجاوز کر گئی ہے جو8 فیصد کے ہدف سے بلند ہے۔ مہنگائی سمیت دیگر کئی اہم عوامل کے باعث شرح سود کو برقرار رکھنے کا فیصلہ ہوا۔ اعلامیہ میں کہا گیا کہ رواں مالی سال ملکی ترقی کی شرح 4.1 فیصد رہنے کی توقع ہے۔

معاشی سرگرمیاں بہتری ہوئی ہیں اور مزید اصلاحات خصوصاً شعبہ توانائی میں کی جائیں تو معاشی ترقی کی رفتار مستحکم کرنے میں مدد ملے گی۔ اعلامیہ کے مطابق 9 ماہ میں تجارتی خسارہ 12ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے۔ یورو بانڈ اور دیگر ذرایع سے ملنے والی رقوم حاصل ہونے کے بعد زر مبادلہ کے ذخائر 5.4 ارب ڈالر سے بڑھ کر 8 ارب ڈالر ہو گئے ہیں' معاشی استحکام کے لیے شرح نمو میں حائل رکاوٹوں کو دورکرنا ہو گا، معیشت کی بہتری کے لیے مزید بہتری کی ضرورت ہے، شعبہ توانائی میں اصلاحات سے معیشت کو مستحکم کرنے اور شرح نمو کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

حکومتی بیانات کے مطابق وہ گرانی پر قابو پانے کے لیے بھرپور کوشش کر رہی ہے مگر اسٹیٹ بینک کا اعلامیہ اس کے برعکس اعداد و شمار پیش کر رہا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ حکومتی ادارے مہنگائی پر قابو پانے کے لیے درست پالیسی پر عمل درآمد نہیں کر رہے اور ڈنگ ٹپائو پالیسیوں کے ذریعے معاملات کو چلا رہے ہیں۔ معاشی ماہرین کے مطابق دنیا کے وہ ممالک جہاں ریاست کی رٹ قائم ہے اور معاشی نظام درست طریقے سے چل رہا ہے وہاں سالہا سال تک مہنگائی میں اضافہ نہیں ہوتا'روز مرہ کی اشیا کی قیمتیں مستحکم رہتی ہیں جس کے باعث تجارتی اور صنعتی سرگرمیوں میں ایک توازن برقرار رہتا ہے اور مارکیٹ میں کسی قسم کی افراتفری اور پریشانی جنم نہیں لیتی۔

اسی سبب ان ممالک میں سرمایہ کار کے لیے کاروبار کرنا بہت آسان رہتا ہے کیونکہ معاشی نظام ہموار چلتا رہتا ہے جب کہ پاکستان میں معاشی نظام میں عدم توازن اور ریاستی کنٹرول نہ ہونے کے باعث قیمتوں کے گراف میں اتار چڑھائو کی کیفیت مسلسل جاری رہتی ہے، غیر یقینی کی اس صورتحال کے باعث صنعت کاروں کو اچانک مالی خسارے کا سامنا بھی کرنا پڑ جاتا ہے۔ صنعت کار اپنے خسارے کا سارا بوجھ صارف پر منتقل کرکے اسے قربانی کا بکرا بنا لیتا ہے۔ ایک ماہ میں مہنگائی کی شرح میں کمی اور دوسرے ماہ اس میں اچانک اضافہ معاشی سرگرمیوں کی ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے جب سرمایہ دار کو یہ معلوم ہی نہیں ہو گا کہ آیندہ ماہ تجارتی معاملات میں ترقی کی رفتار کیا ہو گی تو اس گومگو کی کیفیت میں اس کے لیے کاروبار کو ترقی دینا مشکل امر ہوگا۔

معاشی نظام میں توازن نہ ہونے کے باعث ملکی اور غیر ملکی سرمایہ دار پاکستان میں سرمایہ کاری کو ترجیح نہیں دیتے۔ انھیں معلوم ہی نہیں ہوتا کہ آیندہ آنے والے دنوں میں ان کی کاروباری صورت حال کیا ہو گی۔ غیر یقینی کی اس کیفیت کے باعث پاکستان کا تجارتی خسارہ کم ہونے کے بجائے بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے۔ اسٹیٹ بینک کے اعلامیے کے مطابق نو ماہ میں تجارتی خسارہ 11 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے جو ایک پریشان کن خبر ہے۔دوسری جانب خوش آیند خبر یہ ہے کہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے طاقتور طبقات کے 300 ارب روپے کے ٹیکس استثنیٰ کو ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ یہ ٹیکس استثنیٰ چار سو ارب سے زائد پر مشتمل ہے ان میں300 ارب روپے کے ٹیکس استثنیٰ اشرافیہ اور دیگر طاقتور طبقات کے لیے ہیں۔

حکومت کی جانب سے 300 ارب ٹیکس استثنیٰ کا اعلان اس بات کا اعتراف ہے کہ ملک کی کمزور معیشت کے ذمے دار طاقتور طبقات اور اشرافیہ ہی ہیں اور ان طبقات کو حکومت کی آشیر باد حاصل ہے ورنہ یہ کیسے ممکن ہے کہ جب عام سرکاری اور نجی سیکٹر کا ملازم ٹیکس ادا کرتا ہو تو یہ طاقتور طبقات اس سے مستثنیٰ ہوں۔ ملک میں مالی خسارے کی ایک بڑی وجہ ٹیکس وصولیوں کی کمی بھی ہے۔ حکومت مالی خسارے کو پورا کرنے کے لیے عالمی اداروں سے قرضہ لینے پر مجبور ہو جاتی ہے جس سے قرضوں کا بوجھ مزید بڑھنے سے ملکی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

اب حکومت نے طاقتور طبقات کے ٹیکس استثنیٰ کو ختم کرنے کا اعلان کر کے درست سمت قدم اٹھایا ہے۔ حکومت ٹیکس سسٹم کو ہی بہتر بنا لے اور وہ طاقت ور گروہ جو ٹیکس ادا نہیں کر رہے ان کو بھی ٹیکس نیٹ میں لایا جائے تو اسے اتنی بڑی رقم مل سکتی ہے کہ اسے بیرون ملک سے قرضہ لینے کی ضرورت ہی پیش نہیں آئے گی۔ زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے کی ایک بڑی وجہ بیرون ممالک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی رقم بھی ہیں۔ حکومت اگر بے روز گار نوجوانوں کو ہنر مند بنا کر بیرون ملک بھیجے تو اس سے زرمبادلہ کے ذخائر میں خاطر خواہ اضافہ ہونے سے معیشت پر خوشگوار اثرات مرتب ہوں گے۔ معاشی استحکام کے لیے شرح نمو میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جائے تو کچھ بعید نہیں کہ ملکی معیشت جلد بہتری کی جانب گامزن نہ ہو۔