متبادل توانائی کے غیرمعیاری آلات کی فروخت عروج پرپہنچ گئی

کمپیوٹر اسکریپ کی طرح پینلز کے اسکریپ کی ڈمپنگ بھی عروج پر ہے، سرمایہ ضائع ہونے لگا


Business Reporter May 18, 2014
سلوشنز،ٹیسٹنگ ومعیار کی نگرانی نہ ہونے سے استعمال شدہ،زائد المیعاد میٹریل کی بھرمارہوگئی۔ فوٹو: فائل

پاکستان میں کمپیوٹر اسکریپ کی طرح متبادل توانائی سے متعلق اسکریپ کی ڈمپنگ عروج پر پہنچ گئی ہے۔

مارکیٹ میں غیرمعیاری اور ناقص آلات کی بھرمار ہے جس سے متبادل ذرائع سے توانائی حاصل کرنے کے لیے خرچ کیا جانے والا سرمایہ ضائع ہورہا ہے۔ توانائی کے بحران اور طویل لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے گھریلو، کمرشل اور صنعتی سطح پر متبادل توانائی کے استعمال کا رجحان زور پکڑرہا ہے، صارفین کی بڑی تعداد سورج سے بجلی پیدا کرنے کے لیے سلوشنز اور آلات کی تنصیب پر سرمایہ خرچ کررہے ہیں تاہم حکومتی سطح پر متبادل توانائی سے متعلق آلات کی درآمد کے لیے کسی قسم کی ٹیسٹنگ اور معیار کی نگرانی کا نظام نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان متبادل توانائی کے ناقص، غیرمعیاری اور متروک آلات کا قبرستان بن گیا ہے۔

اٹلی اور چین کے تعاون سے پاکستان میں متبادل توانائی کے سلوشنز فراہم کرنیوالی کمپنی کے نمائندے محمد امجد نے بتایا کہ پاکستان میں بڑے پیمانے پر غیرمعیاری اور زائد المعیاد سولر سسٹم درآمد کیے جارہے ہیں، زیادہ تر آلات بیرون ملک سے اسکریپ کے طور پر درآمد کیے جاتے ہیں جو پاکستان میں نئے ایکویپمنٹ کی قیمت پر فروخت کیے جارہے ہیں جو زائد المعیا دہونے کے وجہ سے فرسودہ بھی ہوچکے ہوتے ہیں جس سے بجلی کی پیداوار مہنگی ہونے کے ساتھ سسٹم کی ناقص کارکردگی کا بھی سبب بنتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت ملک بھر میں 60سے 70فیصد استعمال شدہ اور زائد المعیاد فرسودہ سولر سلوشنز فروخت کیے جارہے ہیں۔

سالانہ بنیادوں پر 350سے زائد کنٹینرز افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے ذریعے پاکستان لائے جارہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک امریکا، اٹلی، آسٹریلیا اور فرانس میں متبادل ذرائع سے توانائی پیدا کرنے والے شہریوں کو بچنے والی بجلی کی قیمت ادا کی جاتی ہے۔ ان ملکوں کے عام شہری اپنی ضرورت سے زیادہ بجلی حکومت یا بجلی فراہم کرنیو الی کمپنیوں کو فروخت کرتے ہیں ان ملکوں میں متبادل توانائی کے سلوشنز اور آلات کی کڑی نگرانی کی جاتی ہے اور مقررہ معیاد پوری ہونے پر فوری طور پر یہ سسٹم اور آلات تبدیل کردیے جاتے ہیں ہٹائے جانے والے آلات اور سسٹم کی جگہ زیادہ گنجائش یا کارکردگی کے لحاظ سے بہتر ایکویپمنٹ نصب کردیا جاتا ہے جبکہ متروک سسٹم اور آلات اسکریپ کے طور پر تلف کردیے جاتے ہیں لیکن کمپیوٹر ز کی طرح عالمی کباڑیے سولر اور متبادل توانائی کے دیگر آلات ان ملکوں سے جمع کرکے پاکستان جیسے ممالک میں نئی قیمت پر فروخت کررہے ہیں۔

پاکستان میں سولر سسٹم فروخت کرنے والے ٹیکنالوجی سے نابلد ہیں مارکیٹ میں فروخت ہونے والے 90فیصد گھریلو سولر سسٹم نصب ہونے کے چھ ماہ سے ایک سال میں خراب ہوجاتے ہیں اور فروخت کے وقت بتائی گئی گنجائش سے 50فیصد کم بجلی مہیا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ توانائی کے متبادل ذرائع بالخصوص شمسی توانائی کے فروغ کے لیے آگہی کی فراہمی انتہائی ضروری ہے ساتھ ہی ملک میں درآمد اور فروخت کیے جانے والے آلات کی نگرانی اور معیار کی جانچ بھی لازمی قرار دی جائے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی کمپنی جلد ہی صارفین کی آگہی کے لیے کنزیومر گائیڈ جاری کریگی۔