سینٹرل کنٹریکٹ؛ 5 کھلاڑیوں کا اضافہ، سرفراز کی کیٹگری تبدیل

ویب ڈیسک  جمعـء 20 اکتوبر 2023
سینٹرل کنٹریکٹس حاصل کرنے والے کرکٹرز کی تعداد 30 ہوگئی (فوٹو: آئی سی سی)

سینٹرل کنٹریکٹس حاصل کرنے والے کرکٹرز کی تعداد 30 ہوگئی (فوٹو: آئی سی سی)

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے سابق کپتان سرفراز احمد کو سینٹرل کنٹریکٹ میں ڈی سے بی کیٹیگری جبکہ انکے علاوہ 5 کرکٹرز کو بھی سینٹرل کنٹریکٹس دیئے گئے ہیں۔

بورڈ کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ سینٹرل کنٹریکٹس کا بغور جائزہ لینے کے بعد اس میں مزید پانچ کرکٹرز کو شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے بعد سینٹرل کنٹریکٹس حاصل کرنے والے کرکٹرز کی تعداد 30 ہوگئی ہے۔

یاد رہے کہ 25 کرکٹرز کی پچھلی لسٹ کو نجم سیٹھی کی سربراہی میں قائم منیجمنٹ کمیٹی نے منظور کیا تھا۔ان کرکٹرز کو 3 سال کیلئے کنٹریکٹس دیے گئے ہیں جو یکم جولائی 2023 سے 30 جون 2026 تک کے لیے ہیں۔

مزید پڑھیں: سینٹرل کنٹریکٹ کی فہرست میں ردوبدل کا امکان

سینٹرل کنٹریکٹس میں جن 5 کرکٹرز کا اضافہ کیا گیا ہے ان میں ابرار احمد (سی کیٹگری) نعمان علی (سی کیٹگری) طیب طاہر (ڈی کیٹگری) عامر جمال (ڈی کیٹگری) اور ارشد اقبال ( ڈی کیٹگری) میں شامل ہیں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے سابق کپتان اور فرسٹ چوائس وکٹ کیپر سرفراز احمد کی سینٹرل کنٹریکٹ میں کیٹگری تبدیل کرتے ہوئے (بی) میں شامل کرلیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: سینٹرل کنٹریکٹس کا اعلان: بابر، رضوان اور شاہین کیلئے خزانوں کے منہ کھل گئے

سرفراز احمد نے گزشتہ دسمبر میں ٹیسٹ ٹیم میں کم بیک کیا تھا اور اپنی واپسی کے بعد سے وہ چار ٹیسٹ میچوں میں 61.16کی اوسط سے367 رنز بناچکے ہیں۔وہ نیوزی لینڈ کے خلاف ہوم سیریز کی چار اننگز میں ایک سنچری اور تین نصف سنچریاں بناکر پلیئر آف دی سیریز رہے تھے۔

سینٹرل کنٹریکٹس حاصل کرنے والے 30 کھلاڑی یہ ہیں۔

اے کیٹگری : بابراعظم ،شاہین آفریدی، محمد رضوان۔

بی کیٹگری : فخرزمان ، حارث رؤف، امام الحق، محمد نواز،نسیم شاہ ، سرفراز احمد اور شاداب خان۔

سی کیٹگری:عبداللہ شفیق، ابرار احمد، عماد وسیم، اور نعمان علی۔

ڈی کیٹگری: عامر جمال،ارشد اقبال،فہیم اشرف،حسن علی، افتخار احمد،احسان اللہ ،محمد حارث،محمد وسیم جونیئر،صائم ایوب، سلمان علی آغا، سعود شکیل، شاہنواز دھانی، شان مسعود،طیب طاہر، اسامہ میر اور زمان خان۔

سینٹرل کنٹریکٹ میں کھلاڑیوں کے معاوضوں میں قابل ذکر اضافہ کیا گیا ہے جس میں آئی سی سی ریونیو کا حصہ بھی شامل ہے۔ سینٹرل کنٹریکٹ میں شامل تمام کرکٹرز کی کارکردگی کا ہر سال جائزہ لیا جائے گا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔