کابل میں اہم سہ فریقی اجلاس

افغانستان سے امریکی افواج کے انخلاء کی مدت بتدریج قریب سے قریب تر آ رہی ہے ...


Editorial May 21, 2014
افغانستان سے امریکی افواج کے انخلاء کی مدت بتدریج قریب سے قریب تر آ رہی ہے۔ فوٹو: فائل

اخباری خبر کے مطابق پاکستان، افغانستان اور ایساف کا سہ فریقی اجلاس پیر کو کابل میں افغان وزارت دفاع میں منعقد ہوا جس میں پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف، افغان چیف آف جنرل اسٹاف جنرل شیر محمد کریمی اور ایساف کمانڈر جنرل جوزف ڈنفورڈ نے شرکت کی۔ اجلاس میں افغانستا ن کی موجودہ سیکیورٹی صورتحال، اتحادی فوج کے انخلا کے بعد سیکیورٹی کی ذمے داریاں افغان نیشنل آرمی کو منتقلی ، پاک افغان سرحد کے ساتھ مربوط انتظامات کے حوالے سے پاکستان اور افغانستان کے مابین دوطرفہ رابطوں اور تعاون میں اضافہ پر زور دینے کے معاملات زیر غور آئے۔

افغانستان سے امریکی افواج کے انخلاء کی مدت بتدریج قریب سے قریب تر آ رہی ہے جب کہ موسم گرما کے یہ مہینے پہاڑوں پر برف پگھلنے کے دن ہیں جس دوران افغان طالبان کی طرف سے غیر ملکی فوجوں پر حملوں میں تیزی آنے کے بھی خطرات ہیں بلکہ اس حوالے سے افغانستان کے مختلف علاقوں میں حملوں کی جستہ جستہ خبریں موصول ہونا بھی شروع ہو چکی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امریکا نے پاک افغان سرحدی علاقوں پر ڈرون حملے بھی شروع کر دیے ہیں۔

یہی وقت ہے جب امریکا کو پاکستان کی طرف سے خصوصی تعاون کی ضرورت ہے۔ ادھر کابل میں اگلے روز کے اہم سہ فریقی اجلاس کے موقعے پر افغان فوجی حکام نے افغان صدارتی انتخابات کے دوسرے مرحلے کے تناظر میں افغانستان کی حالیہ سیکیورٹی صورتحال پر پاکستانی وفد کو بریفنگ دی ۔ افغان وزارت دفاع کے ترجمان جنرل ظاہر عظیمی نے بتایا کہ اجلاس میں صدارتی انتخابات کے موقع پر سیکیورٹی انتظامات میں مدد کے لیے پاکستان سے درخواست کی گئی ہے۔ ترجمان کے مطابق جنرل راحیل شریف نے اس معاملے میں تعاون کا وعدہ کیا ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق افغان وزارت خارجہ کے ترجمان احمد ثاقب نے نیوز کانفرنس میں بتایا کہ سہ فریقی اجلاس میں پاک افغان سرحد پیش آنیوالے واقعات پر بھی بات چیت کی گئی اور اس مسئلے کے طویل المدتی حل کی تجاویز پر غور کیا گیا۔ واضح رہے کہ جنرل راحیل شریف کا آرمی چیف کا عہدہ سنبھالنے کے بعد یہ افغانستان کا پہلا سرکاری دورہ تھا۔ سہ فریقی اجلاس کے بعد انھوں نے افغانستان کے قائمقام صدر یونس قانونی اور افغان وزیر دفاع جنرل بسم اللہ محمدی سے الگ الگ ملاقاتیں بھی کیں جس میں باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ادھر شمالی وزیرستان سے منسلک پاک افغان بارڈر کو غلام خان کے مقام پر 12 دن بعد کھول دیا گیا جسے 8 مئی کو فورسز کی گاڑی پر حملے کے بعد انتظامیہ نے آمد و رفت کے لیے بند کر دیا تھا۔ ادھر چمن میں پاک افغان سرحد کو محفوظ بنانے، غیر قانونی راستے سیل کرنے اور سرحدی حدود واضح کرنے کے لیے بھاری مشینری کے ذریعے 60 کلومیٹر طویل خندق کھودنے کا کام تیزی سے جاری ہے۔ پاک سیکیورٹی حکام کے مطابق اب تک کئی کلو میٹر خندق کو کھودا گیا ہے اور یہ کام پاکستان اپنی حدود میں کر رہا ہے۔ یوں دیکھا جائے تو پاک افغان تعلقات کے تناظر میں کابل سہ فریقی اجلاس انتہائی اہم ہے اور اس کے اس خطے کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔