سلیمان لاشاری قتل کیس سندھ ہائیکورٹ کا پولیس کو غیر جانبدارانہ تفتیش کا حکم

سلمان کے والد ایس ایس پی سکرنڈ 2 بار درخشاں تھانے جاکر تفتیشی افسران پر دباؤ ڈال چکے ہیں،محمد خان بروڑو ایڈووکیٹ


Staff Reporter May 22, 2014
دونوں لڑکوں کے درمیان تنازع تھا، سلیمان لاشاری نے سمجھوتے کیلیے بلایا تھا، چھت سے فائرنگ کردی گئی، بیرسٹر ضمیر گھمرو۔ فوٹو: فائل

سندھ ہائیکورٹ نے آئی جی کی جانب سے سلیمان لاشاری قتل کیس کی غیر جانبدانہ تفتیش اور اس پر مقتول کے والد کے وکلا کے اظہار اطمینان کے باعث ایس ایس پی سکرنڈ کی معطلی کے متعلق درخواست نمٹاتے ہوئے غیرجانبدارانہ تفتیش کو یقینی بنانے کا حکم دیاہے۔

عدالت نے پولیس کو ہدایت کی ہے کہ تفتیش کے دوران کسی قسم کے دبائو میں آئے بغیر کارروائی کی جائے،جسٹس سجاد علی شاہ کی سر براہی میں2رکنی بنچ نے مقتول سلیمان لاشاری کے اہلخانہ کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت کی، اس موقع پر اے آئی جی لیگل علی شیر جکھرانی نے آئی جی کی جانب سے بتایا کہ واقعے کی غیرجانبدارازہ تفتیش جاری ہے اور ڈی آئی جی سائوتھ عبدالخالق شیخ اور ایس پی سائوتھ تحقیقات کی خود نگرانی کررہے ہیں۔

درخواست گزاروں کی جانب سے محمدخان بروڑو اور مبشر مرزا ایڈوکیٹس نے آئی جی سندھ کے جواب پر اطمینان کا اظہار کیا جس پر عدالت نے درخواست نمٹاتے ہوئے ہدایت کی کہ غیرجانبدارانہ تفتیش کو یقینی بنایاجائے، اس سے قبل محمد خان بروڑو ایڈووکیٹ نے الزام عائد کیا کہ ملزم کے والد ایس ایس پی سکرنڈ2بار درخشاں پولیس اسٹیشن جاچکے اور تفتیشی افسران پر دبائو ڈال رہے ہیں۔

سماعت کے موقع پر ایس ایس پی سکرنڈ ٹریننگ سینٹر سرورابڑو کی جانب سے بیرسٹر ضمیر گھمرو نے وکالت نامہ داخل کیا اور موقف اختیار کیا کہ ان کے موکل کے ساتھ زیادتی ہورہی ہے کیونکہ دونوں لڑکوں کے درمیان تنازع کے بعد مقتول سلیمان لاشاری نے انھیں سمجھوتے کیلیے گھر بلایا تھا اور جب وہ وہاں پہنچے تو ان پر چھت سے فائر کیے گئے، ہم نے اپنے موقف پر مبنی ایف آئی آر کے اندراج کیلیے علیحدہ سے درخواست دائر کی ہوئی ہے، فاضل بینچ نے فریقین کا موقف سننے کے بعد آئی جی کی یقین دہانی کی روشنی میں درخواست نمٹادی۔