شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی

مذاکرات سے امید پیدا ہوئی تھی کہ اب شاید حالات بہتر ہو جائیں لیکن ایسا نہیں ہو سکا ۔۔۔


Editorial May 22, 2014
مذاکرات سے امید پیدا ہوئی تھی کہ اب شاید حالات بہتر ہو جائیں لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔ فوٹو: رائٹرز/فائل

وفاقی حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات خاصے عرصے سے ہو رہے ہیں لیکن ان کا کوئی نتیجہ سامنے نہیں آ سکا' اس صورت حال کے باوجود مذاکرات کی باتیں سننے میں آتی رہی ہیں' دوسری جانب خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات بھی تسلسل سے جاری رہے۔ تین روز قبل خیبر پختونخوا سے چینی سیاح کو اغوا کر لیاگیا۔ سیکیورٹی فورسز پر بھی حملے ہوتے رہے'جن میں جانی نقصان بھی ہوا' ایسی صورت میں یہ ناگزیر ہو گیا تھا کہ شرپسندوں کو انھی کی زبان میں جواب دیا جائے۔

اخباری اطلاعات کے مطابق منگل کی رات کو پاک فضائیہ کے جنگی طیاروں نے قبائلی ایجنسی شمالی وزیرستان میں طالبان کے مشتبہ ٹھکانوں پر بمباری کی' اخباری اطلاعات کے مطابق اس کارروائی میں ہلاکتوں کی تعداد80 ہو گئی ہے جب کہ درجنوں زخمی ہوئے ہیں اور کئی پناہ گاہیں اور اسلحہ ساز فیکٹریاں تباہ ہو گئی ہیں' بعض اطلاعات کے مطابق اس کارروائی میں غیر ملکیوں سمیت اہم کمانڈر بھی نشانہ بنے ہیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق 60 سے زائد جنگجو مارے گئے ہیں' فورسز نے پوری ایجنسی میں کرفیو لگا دیا اور خلاف ورزی پر گولی مارنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔

سیکیورٹی اداروں کو اطلاع ملی تھی کہ خیبرپختونخوا کے کئی علاقوں میں دہشت گردی کی بڑی کارروائیوں میں ملوث دہشت گرد شمالی وزیرستان کے پہاڑی علاقوں میں موجود تھے جس پر پاک فضائیہ کے جیٹ طیاروں نے بمباری کی' کارروائی میں ہیلی کاپٹروں نے بھی حصہ لیا' پاک فوج کے کمانڈوز بھی انتہائی دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں چھپے ہوئے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کر رہے ہیں اور انھیں شدید نقصان پہنچایا۔ فوجی ذرایع کے مطابق دہشت گردوں کے خلاف سخت آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔ ذرایع کے مطابق جن لوگوں کو نشانہ بنایا گیا وہ پشاور' باجوڑ اور مہمند ایجنسی میں کارروائیوں میں ملوث تھے۔

یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ یہ وزیرستان میں ہونے والی سب سے بڑی کارروائی تھی۔ شمالی وزیرستان میں وسیع پیمانے پر کی جانے والی یہ کارروائی چینی سیاح کے اغوا کے دوسرے دن شروع ہوئی۔آئی ایس پی آر کے مطابق میر علی میں سیکیورٹی فورسز اور دہشتگردوں میں جھڑپوں کے دوران ایک افسر سمیت 4 جوان شہید جب کہ 11 دہشتگرد ہلاک ہو گئے۔ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ بمباری کا فیصلہ اگلے روز وزیراعظم کی زیرصدارت اجلاس میں کیا گیا تھا، اس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا تھا کہ جہاں بھی دہشتگردی ہو گی وہاں موثر جوابی کارروائی کی جائے گی۔

ادھر طالبان شوریٰ شمالی وزیرستان نے سیکیورٹی فورسز کی کارروائی پر افسوس کا اظہارکرتے ہوئے ہنگامی اجلاس بلا لیا ہے اور حکومت کے ساتھ معاہدہ ختم کرنے کا عندیہ دیدیا ہے۔ شوریٰ شمالی وزیرستان ترجمان احمد اللہ احمدی نے میڈیا کو جاری بیان میں کہا کہ عوام پر اس طرح بمباری کسی صورت قبول نہیں۔ تحریک طالبان مہمند ایجنسی نے دوبارہ سرگرمیاں شروع کرنے کا اعلان کیا ہے اور عمر خراسانی نے کہا کہ اس طرح امن کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکے گا۔

بہر حال معاملہ خواہ کچھ بھی ہو' دنیا کی کوئی ریاست یہ برداشت نہیں کر سکتی کہ اس کی حدود میں ایسے گروہ موجود ہوں جو اس کے اقتدار اعلیٰ کو چیلنج کریں' سیکیورٹی فورسز پر حملے کریں یا اس کی سرزمین کسی اور کے خلاف استعمال کریں' پاکستان کے قبائلی علاقوں میں برسوں سے بدامنی چلی آ رہی ہے' اس صورت حال نے وہاں کے عوام کے لیے مسائل پیدا کر دیے ہیں' قبائلی علاقوں کے عوام کی خواہش ہے کہ ان کے علاقوں میں امن قائم ہو' اس علاقے میں غیر ملکی بھی موجود ہیں' ان عوامل نے مل کر اس سارے علاقے کے حالات خراب کر رکھے تھے' جس کے اثرات پورے ملک پر مرتب ہو رہے ہیں' صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے موجودہ حکومت نے طالبان کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ شروع کیا۔

ان مذاکرات سے امید پیدا ہوئی تھی کہ اب شاید حالات بہتر ہو جائیں لیکن ایسا نہیں ہو سکا' مذاکرات ناکامی سے دوچار ہوئے ہیں' اب مذاکرات کا یہ عمل کس سطح پر ہے' اس کے بارے میں کسی کو کچھ عمل نہیں ہے۔ صرف یہی بات منظر پر ہے کہ مذاکرات کا عمل تعطل کا شکار ہے' ہونا تو چاہیے کہ فریقین حالات کی نزاکت کو سمجھتے اور تعطل کا شکار مذاکراتی عمل کو بحال کرتے لیکن شاید کہیں نہ کہیں کوئی مجبوری حائل ہے'جس کی وجہ سے فریقین اپنی اپنی جگہ پر مجبور ہیں۔جس کی وجہ سے مذاکرات آگے نہیں بڑھ رہے' طالبان شوریٰ نے شمالی وزیرستان میں کارروائی پر افسوس کا اظہار کیا ہے لیکن طالبان قیادت کو چاہیے کہ وہ اب بھی مذاکرات کا آپشن اختیار کریں' قبائلی علاقوں میں جو گروپ ریاست کو چیلنج کر رہے ہیں' طالبان خوا ان کے خلاف کارروائی کریں تاکہ مذاکرات کے عمل کو کامیاب بنایا جا سکے۔