پیمرا کو جیو کے خلاف کارروائی کرنے کی درخواست پر نوٹس جاری

ڈپٹی اٹارنی جنرل اور درخواست گزار اس درخواست کے قابل سماعت ہونے پر عدالت کو مطمئن کریں، سندھ ہائیکورٹ


Staff Reporter May 23, 2014
ڈپٹی اٹارنی جنرل اور درخواست گزار اس درخواست کے قابل سماعت ہونے پر عدالت کو مطمئن کریں، سندھ ہائیکورٹ فوٹو : فائل

KARACHI: سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس عقیل احمد عباسی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے قومی سلامتی اداروں کو بدنام کرنے پر جیو نیوزکے خلاف کارروائی کیلیے دائر درخواست پر سیکریٹری کیبنٹ ڈویژن اور ڈپٹی اٹارنی جنرل کو 29 مئی کیلیے نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا ہے۔

عدالت نے ہدایت کی ہے کہ ڈپٹی اٹارنی جنرل اور درخواست گزار اس درخواست کے قابل سماعت ہونے پر عدالت کو مطمئن کریں، عدالت نے ہدایت کی کہ اس حوالے سے سپریم کورٹ سمیت ملک کی کسی عدالت نے کوئی حکم جاری کیا ہے تو اس کی بھی نقل پیش کی جائے، ہیومن رائٹس گروپ آف پاکستان نے سیکریٹری کیبنٹ ڈویژن، وزارت اطلاعات و نشریات، پیمرا اور جیو نیوز کو فریق بناتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ جیو نیوز سے وابستہ صحافی حامد میر پر19اپریل 2014 کو حملہ کیا گیا، جیو ٹی وی نے حامد میر پر حملے کو جواز بناکر ڈی جی آئی ایس آئی کے خلاف منظم مہم چلائی، تفتیش شروع ہونے سے قبل ہی شواہد کے بغیر اہم قومی ادارے آئی ایس آئی پر الزام عائد کیا گیا اور ادارے سے متعلق منفی پروپیگنڈا کیا گیا۔

درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ واقعہ کے بعد جیو نیوز نے ڈی جی آئی ایس آئی کی تصویر دکھا کر انہیں بدنام کرنے کی کوشش کی، جبکہ دوسری جانب پیمرا اپنی ذمے داری ادا کرنے میں ناکام رہا ہے، درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ محض مفروضے کی بنیاد پر کوئی خبر شائع یا نشر کرنا غیر قانونی عمل ہے، جیو نیوزکے خلاف سیکیورٹی آف پاکستان ایکٹ 1952، پریوینشن آف اینٹی نیشنل ایکٹیویٹیز ایکٹ 1974 تعزیرات پاکستان1860اور پیمرا آرڈیننس 2002 کے تحت کارروائی کی جائے، درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ پیمرا کو جیو نیوز کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرنے کا حکم دیا جائے اور جیو نیوز کو آئی ایس آئی کے خلاف مہم چلانے سے روکا جائے، قبل ازیںایک اور بینچ کے سربراہ جسٹس عرفان سعادت خان نے درخواست کی سماعت سے انکار کر دیا تھا۔