حکومت سوئس حکام کو خط لکھنے پر تیار سپریم کورٹ کا 7دن میں متن پیش کرنے کا حکم

خط لکھنے کا اختیار وزیر قانون کو دیدیا، این آر او فیصلے کے پیرا 178سے بالکل بھی باہر نہیں جائیں گے، عدالت عظمیٰ


Numainda Express September 19, 2012
اسلام آباد:وزیراعظم راجا پرویز سپریم کورٹ آمد کے موقع پر کارکنوں کو دیکھ کر ہاتھ ہلارہے ہیں۔ فوٹو: اے ایف پی

حکومت نے سوئس حکام کو خط لکھنے پر آمادگی کا اظہارکر دیا۔

وزیر اعظم نے خط لکھنے کیلیے وزیر قانون کو اختیار دیتے ہوئے سپریم کورٹ کو ایک ہفتے میں وزیر قانون کو تحریری مختار نامہ (Authority letter ) اور خط کا متن پیش کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے جبکہ عدالت نے وزیر اعظم کو اگلے حکم تک پیشی سے مستثنیٰ قرار دے دیا ہے۔

منگل کو وزیر اعظم نے این آر او عملدرآمدکیس میں توہین عدالت کے شوکاز نوٹس کا جواب دیتے ہوئے جسٹس آصف سعیدکھوسہ کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ کو بتایا کہ وہ روز اول سے اس دیرینہ مسئلے کا باوقار حل نکالنے کیلیے کوششیںکر رہے تھے کیونکہ اس کی وجہ سے ایک طرف عوام میں بے چینی اور اضطراب پایا جا رہا تھا تو دوسری طرف ریاست کے معاملات پر بھی منفی اثرات مرتب ہورہے تھے، غور و خوص کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچے ہیںکہ ملک قیوم نے سوئس حکام کو جو خط لکھا تھا اسے واپس لینے کیلیے حکومت پاکستان کی طرف سے خط لکھا جائے۔

وزیر اعظم نے بتایا انھوں نے اس ضمن میں وزیر قانون کو اختیار دے دیا ہے اور انھیں ہدایات جاری کر دی ہیں۔ وزیر اعظم راجا پرویز اشرف نے بتایا کہ اس ضمن میں وفاق کوکچھ خدشات ہیں اس لیے چاہتے ہیں عدالت اپنے فیصلے میں ان خدشات کو ضرور مدنظر رکھے۔ وزیر اعظم نے کہا ان خدشات کا تعلق کسی کی ذات سے نہیں بلکہ صدر مملکت کے عہدے سے ہے اس لیے فیڈریشن چاہتی ہے کہ اس کو مدنظر رکھا جائے۔

انھوں نے کہا ملک بہت نازک صورتحال سے گزر رہا ہے، بین الاقوامی تعلقات میں روس، افغانستان اور ایران کے ساتھ نئے راستے تلاش کیے جا رہے ہیں، صدر مملکت آئندہ کچھ روز میں اقوام متحدہ جانے والے ہیں اور ڈی ایٹ کا نفرنس سر پر ہے۔ انھوں نے کہا حالیہ بارشوں سے بھی مسائل پیدا ہوئے ہیں۔ وزیر اعظم نے بتایا چین کا دورہ نہایت کامیاب رہا اس دورے کے دوران بھی خط کے مسئلے کی وجہ سے وہ دبائو میں رہے، یہ مسئلہ حل ہو گا تو ملک میں ٹھہرائو آئے گا، اس لیے عدالت بھی ایسا حکم جاری کردے جس سے مزید استحکام پیدا ہو۔

راجا پرویز اشرف نے بتایا الیکشن زیادہ دور نہیں اس لیے وہ الیکشن کو شفاف اور آزادانہ بنانے کیلیے بھی اقدامات کریںگے۔وزیر اعظم نے ملک کو درپیش مسائل کی وجہ سے آئندہ پیشی سے استثنٰی کی استدعا کی اورکہا کہ وزیر قانون ہر پیشی پر عدالت کے سامنے موجود رہیںگے۔ بینچ کے سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے وزیر اعظم کی تعریف کی اورکہا کہ پہلے بھی آپ نے اچھی باتیںکی تھیں اور آج اپنا وعدہ نبھایا۔ فاضل جج نے کہا خط لکھنے کیلیے ضروری ہے کہ پہلے وزیر قانون کو تحریری مختار نامہ دیا جائے،اس کے بعد خط کا متن تیارکیا جائے، اس خط پر عدالت کا اطمینان ضروری ہے کیونکہ عدالت اپنے فیصلے سے باہر نہیں جائے گی، خط میں سوئس حکام کے ساتھ باہمی تعاون کا معاہدہ اور مقدمات کی بحالی کاذکر ہو، فاضل جج نے کہا اس کے بعد خط کو سوئس حکام تک پہنچانے اور وہاں سے خط موصول ہونے کی تصدیق کا مرحلہ ہوگا۔

جسٹس آصف سعیدکھوسہ نے کہا سب سے اہم مرحلہ آج طے ہو گیا ہے اس لیے باقی مراحل بھی جلد طے ہونے چاہئیں تاکہ اس کیس کو جلد از جلد نمٹا دیا جائے۔انھوں نے اگلے روز اتھارٹی لیٹر پیش کرنے کی ہدایت کی تاہم وزیر اعظم نے مہلت دینے کی استدعا کی۔ فاضل جج نے کہا اس معاملے کو اب جتنا جلد نمٹادیا جائے اتنا بہتر ہوگاتاہم وزیر اعظم نے یقین دہانی کرائی کہ غیر ضروری تاخیر نہیں ہوگی۔جسٹس کھوسہ نے کہاکہ جہاں تک فیڈریشن کے خدشات کا تعلق ہے تو اس کا تعلق بین الاقوامی کنونشن سے ہے آرٹیکل248سے اس کا تعلق نہیں اس لیے فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں،عدالت نے یوسف رضا گیلانی کے مقدمے میں اس کو واضح کیا ہے فیڈریشن کے اطمینان کیلیے عدالت چیزوںکو مزید واضح کر دے گی۔ فاضل جج نے کہا کہ عدالت این آر او ججمنٹ کے پیرا178سے ایک کامہ بھی باہر نہیں جائے گی۔

وزیر قانون فاروق ایچ نائیک نے بتایا کہ اس کیس کو ستمبرکے آخر تک ملتوی کیا جائے تاکہ اطمینان کے ساتھ اس کو دیکھا جائے ایسا نہ ہو کہ جلد بازی میںمعاملہ خراب ہو جائے۔جسٹس آصف سعیدکھوسہ نے کہا اگر نیک نیتی کے ساتھ کام ہوگا توکوئی خرابی نہیں ہوگی۔جسٹس آصف سعیدکھوسہ کا کہنا تھا بعض عناصر تصادم کی کوشش کرتے ہیں لیکن اداروں میں اتنی سمجھ بوجھ ہوتی ہے کہ تصادم کو نہ ہونے دیا جائے،ان کا کہنا تھا یہ اتنا بڑا مسئلہ نہیں تھا جتنا بنا دیا گیا،عدالت نے ہمیشہ تحمل کے ساتھ اس مسئلے کو دیکھا ۔وزیر قانون نے کہا وہ ایسا ڈرافٹ لانا چاہتے ہیں جس سے عدالت ہر حوالے سے مطمئن ہو۔عدالت نے وزیر اعظم کو استثنٰی دیتے ہوئے25 ستمبرکو اتھارٹی لیٹر اور خط کا ڈرافٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

این این آئی کے مطابق عدالت نے حکم دیاکہ وزیرقانون کو اختیار دیکر ایک دو روز میں ڈرافٹ تیارکرالیں،25ستمبرتک اقدامات مکمل کرکے آگاہ کیا جائے ،ثناء نیوزکے مطابق عدالت نے کہا خط لکھنے سے قبل خط کا مسودہ عدالت کو دکھایا جائے تاکہ اگر تبدیلی کی ضرورت ہوئی تو کی جا سکے ،آن لائن کے مطابق وزیراعظم کورٹ روم نمبر 4پہنچے تو جسٹس آصف سعیدکھوسہ نے وزیراعظم کو مخاطب کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ آپ کا عدالت کا دورہ بھی کامیاب رہے گا اس پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آپ نے صحیح اندازہ لگایا میں نے گزشتہ سماعت پرکہا تھا کہ مسئلے کے حل کی حقیقی کوشش کرونگا ۔