سرکاری جامعات میں مداخلت کے خلاف اساتذہ کی دوسرے روز بھی ہڑتال امتحانات بھی نہ ہوسکے

درس گاہوں کے سیکڑوں اساتذہ اور ملازمین نے آج حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکل کر بھرپور احتجاج کا فیصلہ کرلیا


Staff Reporter May 28, 2014
حکومت کے نمائندے جامعات میں رجسٹراراورناظم امتحانات کی تقرری کیلیے اشتہارکیخلاف احتجاج روکنے میں ناکام۔ فوٹو: ایکسپریس/ فائل

حکومت سندھ کے سیکریٹری برائے جامعات اورتعلیمی بورڈ کی جانب سے سرکاری جامعات میں مداخلت کے خلاف اساتذہ کا احتجاج طول پکڑتا جارہا ہے، کراچی سمیت سندھ بھرمیں سرکاری جامعات 2 روز سے بند ہیں۔

حکومت سندھ اوروزیراعلیٰ ہائوس کی متعلقہ بیوروکریسی کی جانب سے سندھ کی جامعات میں تدریسی وامتحانی سلسلہ بحال کروانے کے لیے کوئی اقدام سامنے نہیں آسکاہے جس کے سبب سندھ کی سرکاری جامعات کی ہڑتال اوراساتذہ کااحتجاج آج تیسرے روزمیں داخل ہوجائے گا ، منگل کواحتجاج کے دوسرے روزبھی کراچی سمیت سندھ بھرکی سرکاری جامعات میں ہڑتال رہی، کلاسز اورامتحانات کے بائیکاٹ کاسلسلہ جاری رہا اساتذہ کلاسز میں نہیں گئے جس کے سبب جامعات میں تدریس ہوسکی اورنہ ہی سیمسٹرامتحانات کاآغاز ہوسکا جامعہ کراچی اوراین ای ڈی یونیورسٹی سمیت سرکاری جامعات ویران رہی اورجامعات میں متعلقہ اساتذہ انجمنوں کی مجلس عاملہ کے اجلاس منعقدہوئے جس میں احتجاجی شیڈول پرغورکرتے ہوئے اس پرعملدرآمد کا لائحہ عمل طے کیا گیا۔

جامعہ کراچی میں انجمن اساتذہ کے منعقدہ اجلاس میں یونیورسٹی انتظامیہ سے مطالبہ کیاگیاکہ وہ اکیڈمک کونسل ،سینیٹ اورسینڈیکیٹ میں ترمیمی ایکٹ کے خلاف منظورکی گئی قراردادوں کواجلاس کی رودادکاحصہ بنائیں واضح رہے کہ آج جامعہ کراچی اوراین ای ڈی یونیورسٹی سمیت سندھ کی سرکاری جامعات میں اساتذہ انجمنوں کااحتجاجی اجلاس عمومی منعقدہوگاجبکہ جامعہ کراچی میں اجلاس کے بعداساتذہ کی احتجاجی ریلی منعقد ہوگی۔

واضح رہے کہ سندھ کی سرکاری جامعات کے اساتذہ حکومت سندھ کے سیکریٹری برائے جامعات اورتعلیمی بورڈ ممتاز شاہ کی جانب سے حالیہ مداخلت اورجامعات میں رجسٹراراورناظم امتحانات کی تقرری کے حوالے سے جاری کیے گئے اشتہارکے خلاف احتجاج کررہے ہیں دوروزسے جامعات بند ہیں تاہم سندھ کی متعلقہ بیوروکریسی اساتذہ کااحتجاج ختم کرانے اورسندھ کی سرکاری جامعات میں تعلیمی سلسلے کی بحالی میں اپنا کردار ادا کرنے میں مکمل طورپرناکام ہوگئی ہے۔

بتایاجارہاہے کہ حکومت سندھ کے سیکریٹری برائے جامعات اورتعلیمی بورڈممتازشاہ اپنی جانب سے حالیہ مداخلت اورجامعات میں رجسٹراراورناظم امتحانات کے تقررکے سلسلے میں دیاگیا اشتہارواپس لینے کو تیار نہیں ہیں اورفیڈریشن آف آل پاکستان یونیورسٹیز اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن(فپواسا)سے ہونے والے رابطوں میں بھی انھوں نے اس بات پر اصرارکیاہے کہ یہ اشتہار سندھ کی جامعات کے ترمیمی ایکٹ 2013 کے تحت جاری کیا گیا ہے لہذااسے واپس نہیں لیاجائے گا۔

اساتذہ چاہیں تواپنااحتجاج روک سکتے ہیں تاہم فپواسا کاموقف ہے کہ اس ترمیمی ایکٹ میں تبدیلی کے حوالے سے سندھ کے وزراء سے فپواسا کی بات چیت جاری تھی اوریہ طے ہوچکا تھا کہ جب تک ترمیمی ایکٹ میں تبدیلی نہیں ہوگی ،ایکٹ کاعملی طورپرنفاذ نہیں کیاجائے گاتاہم اس یقین دہانی کے باوجود جامعات کی خود مختاری میں مداخلت کرتے ہوئے رجسٹراراورناظم امتحانات کے تقررکااشتہارجاری کردیاگیا۔