ایشین کرکٹ کی ترقی گوروں کو کھٹکنے لگی

آسٹریلیا اور انگلینڈ نے اے سی سی کو تحلیل کرنے کا مطالبہ کردیا، ایشیا کپ کا مستقبل بھی ہچکولے کھانے لگا


Sports Desk May 29, 2014
آئی سی سی نے6 ملین ڈالر سالانہ کی امداد بند کردی تو تنظیم ویسے ہی غیر فعال ہوجائے گی، فیصلہ 23 سے 26جون تک میلبورن کی میٹنگ میں ہوگا، اشرف الحق. فوٹو: فائل

KARACHI: ایشین کرکٹ کی ترقی گوروں کو کھٹکنے لگی، بگ ٹو آسٹریلیا اور انگلینڈ نے اے سی سی کو تحلیل کرنے کا مطالبہ کردیا، ایشیا کپ کا مستقبل بھی ہچکولے کھانے لگا۔

چنئی میں فنانس کمیٹی کے اجلاس میں سری نواسن نے باقی 2 بڑوں کی تجویز سے ممبران کو آگاہ کیا، آئی سی سی نے 6 ملین ڈالر سالانہ کی امداد بند کی تو اے سی سی ویسے ہی غیر فعال ہوجائے گی، چیف ایگزیکٹیو اشرف الحق کا کہنا ہے کہ ایشیائی تنظیم کے مستقبل کا فیصلہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے سالانہ اجلاس میں ہوگا، فنڈز نہ ملے تو پھر ہمیں خطے میں کھیل کے فروغ کیلیے اپنے تمام منصوبے ختم کرنا پڑیں گے۔ تفصیلات کے مطابق آئی سی سی میں ہونے والی اصلاحات سے ایشین کرکٹ کونسل اور ایشیا کپ کا مستقبل بھی خطرے سے دوچار دکھائی دے رہا ہے،عالمی تنظیم اب تمام ریجنل کرکٹ باڈیز کو ختم کرنے کی خواہاں ہے جس میں ایشیا، ایشیا پیسفک، یورپ، افریقہ اور امریکا شامل ہیں۔

اس خواہش کے بارے میں ایشین کرکٹ کونسل کی فنانس و مارکیٹنگ کمیٹی کے اجلاس میں ممبران کو آگاہ کیا گیا، یہ میٹنگ گذشتہ دنوں چنئی میں بھارتی کرکٹ بورڈ کے معطل صدر این سری نواسن کی زیرسربراہی ہوئی تھی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی سی سی کی جانب سے ان ریجنل باڈیز کو اپنے خطے میں کرکٹ کے فروغ کیلیے فنڈز فراہم کیے جاتے ہیں، مگر آسٹریلیا اور انگلش بورڈز محسوس کرتے ہیں کہ مختلف ممالک میں کھیل کے ڈیولپمنٹ کیلیے رقم کی تقسیم ان باڈیز کے ذریعے کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

اے سی سی ممبران کے مطابق اس قسم کے مطالبے کی وجہ یہ ہے کہ یورپیئن اور ایشیا پیسفک باڈیز پہلے ہی مردہ ہوچکیں جبکہ اے سی سی سب سے زیادہ سرگرم ہے، اس کی وجہ سے خطے میں کرکٹ کو کافی فروغ ملا، افغانستان، یو اے ای اور نیپال اس کی بہترین مثال ہیں۔ آئی سی سی کی جانب سے اے سی سی کو سالانہ 6 ملین ڈالر کی امداد ملتی ہے، یہ آئی سی سی کے علاوہ باقاعدگی سے ایک ون ڈے ٹورنامنٹ (ایشیا کپ) منعقد کرنے والی واحد باڈی ہے، ممبرز کو یہ بھی خدشہ ہے کہ اگر اے سی سی کو تحلیل کیا گیا تو پھر ایشیا کپ کا مستقبل بھی خطرے میں پڑجائے گا۔

ایشین کرکٹ کونسل کے چیف ایگزیکٹیو اشرف الحق نے کہاکہ آئی سی سی کا سالانہ اجلاس 23 سے 26 جون کے دوران میلبورن میں ہوگا، وہاں کئی اصلاحات سامنے آنے والی ہیں، اس میٹنگ کے بعد ہی ہمیں ایشین کونسل کے مستقبل کا علم ہوسکے گا، ہمیں خطے میں کھیل کے فروغ کیلیے آئی سی سی کے فنڈز پر انحصار کرنا پڑتا ہے کیونکہ ہماری آمدنی کا واحد ذریعہ ایشیا کپ ہے، باقی ایونٹس اور منصوبوں پر صرف رقم خرچ ہوتی ہے، اگر انٹرنیشنل کونسل نے فنڈز روکے تو پھر مختلف ممالک میں جاری منصوبے بھی بند کرنا پڑیں گے۔