ایف بی آر کے ریونیو ہدف 3 بار کم ہونے پر بھی 55 ارب کا شارٹ فال

بجٹ میں مقررہ ہدف کو سامنے رکھا جائے توریونیو شارٹ فال 150ارب روپے سے بڑھ جائیگا


Irshad Ansari June 02, 2014
بجٹ میں مقررہ ہدف کو سامنے رکھا جائے توریونیو شارٹ فال 150ارب روپے سے بڑھ جائیگا۔ فوٹو:فائل

فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر)کی طرف سے ٹیکس وصولیوں کے ہدف میں تیسری مرتبہ کمی کے باوجود رواں مالی سال2013-14 کے پہلے گیارہ ماہ(جولائی تا مئی) کے دوران 55 ارب روپے کے لگ بھگ شارٹ فال کا انکشاف ہوا ہے تاہم اگلے چند روز میں ٹیکس وصولیوں کے حتمی اعدادوشمار موصول ہونے پر ٹیکس وصولیوں کے شارٹ فال میں کچھ کمی متوقع ہے۔

البتہ اگر بجٹ میں مقررکردہ ہدف کو سامنے رکھا جائے تو یہ ریونیو شارٹ فال ڈیڑھ سو ارب روپے سے تجاوز کرجاتا ہے۔ اس کے علاوہ رواں مالی سال کے پہلے دس ماہ کے دوران ٹیکس دہندگان کو97.44 ارب روپے ریفنڈ جاری کیے گئے ہیں۔ قابل ذکر امر یہ ہے کہ رواں مالی سال کے پہلے دس ماہ کے دوران باقی تمام ٹیکس وصولیوں میں اضافہ ہوا البتہ کسٹمز ڈیوٹی کی مد میں ہونے والی وصولیوں میں اضافے کے بجائے ڈیڑھ فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔

اس ضمن میں ،،ایکسپریس،،کو دستیاب ٹیکس وصولیوں کے عبوری اعدادوشمار کی دستاویز رواں مالی سال کے پہلے گیارہ ماہ(جولائی تا مئی)کے دوران فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) نے مجموعی طور پر 1922.60ارب روپے کی خالص ٹیکس وصولیاں کی ہیں جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے دوران حاصل ہونیوالی 1652.79ارب روپے کی ٹیکس وصولیوں کے مقابلے میں 16.3فیصد زیادہ ہیں تاہم رواں مالی سال کے پہلے گیارہ ماہ کیلیے مقرر کردہ 1978ارب روپے کی ٹیکس وصولیوں کے ہدف سے 55.4 ارب روپے کم ہیں۔

اس کے علاوہ رواں مالی سال کے پہلے دس ماہ کے دوران ٹیکس دہندگان کو 97.44 ارب روپے ریفنڈ جاری کیے گئے ہیں جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں جاری کردہ83.38 ارب روپے کے ریفنڈ کے مقابلے میں16.9 فیصد زیادہ ہیں جبکہ گزشتہ ماہ(مئی)کے دوران مجموعی طور پر 177.681ارب روپے کی ٹیکس وصولیاں کی گئی ہیں جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں حاصل ہونیوالی147.301 ارب روپے کی وصولیوں کے مقابلے میں20.6 فیصد زیادہ ہیں مگر گزشتہ ماہ کیلیے مقرر کردہ234 ارب روپے کی وصولیوں کے ہدف کے مقابلے میں55.4 ارب روپے کم ہیں۔

اعدادوشمار کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے دس ماہ کے دوران حاصل ہونے والی ٹیکس وصولیوں میں سے براہ راست ٹیکس(انکم ٹیکس)کی مد میں 712.91ارب روپے کی وصولیاں کی گئی ہیں جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں حاصل ہونے والی 598.56ارب روپے کی انکم ٹیکس وصولیوں کے مقابلے میں 19.1فیصد زیادہ ہیں جبکہ ان ڈائریکٹ ٹیکسوں میں سے سیلز ٹیکس کی مد میں883.1 ارب روپے کی وصولیاں کی گئی ہیں جو گزشتہ ماہ کے اسی عرصے میں حاصل ہونیوالی 741.20ارب روپے کی سیلز ٹیکسو صولیوں کے مقابلے میں19.1 فیصد زیادہ ہیں۔

دستاویز میں بتایاگیا ہے کہ عبوری اعدادوشمار کے مطابق فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں119.72 ارب روپے کی وصولیاں کی گئی ہے جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں کی جانیوالی 103.02ارب روپے کی وصولیوں کے مقابلے میں16.2 فیصد زیادہیں جبکہ کسٹمز ڈیوٹی کی مد میں مجموعی طور پر206.9 ارب روپے کی وصولیاں کی گئی ہیں جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں کسٹمز ڈیوٹی کی مد میں ہونے والی210.005 ارب روپے کی وصولیوں کے مقابلے میں 1.5 فیصد کم ہیں۔

دستاویز کے مطابق ایف بی آر کی طرف سے گزشتہ ماہ (مئی)کیلیے مقرر کردہ 234 ارب روپے کی ٹیکس وصولیوں کے ہدف کے مقابلے میں مجموعی طور پر 177.681ارب روپے کی عبوری خالص ٹیکس وصولیاں حاصل ہوئی ہیں جس میں سے براہ راست ٹیکس(انکم ٹیکس)کی مد میں 54.85ارب روپے کی وصولیاں کی گئی ہیں جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں حاصل ہونیوالی 45.02ارب روپے کی انکم ٹیکس وصولیوں کے مقابلے میں 21.8فیصد زیادہ ہیں جبکہ ان ڈائریکٹ ٹیکسوں میں سے سیلز ٹیکس کی مد میں87.92 ارب روپے کی وصولیاں کی گئی ہیں جو گزشتہ ماہ کے اسی عرصے میں حاصل ہونیوالی 71.84ارب روپے کی سیلز ٹیکس وصولیوں کے مقابلے میں22.4فیصد زیادہ ہیں۔

دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ عبوری اعدادوشمار کے مطابق فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں15.7 ارب روپے کی وصولیاں کی گئی ہے جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں کی جانیوالی 11.8ارب روپے کی وصولیوں کے مقابلے میں 33.1 فیصد زیادہیں جبکہ کسٹمز ڈیوٹی کی مد میں مجموعی طور پر 19.22 ارب روپے کی وصولیاں کی گئی ہیں جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں کسٹمز ڈیوٹی کی مد میں ہونے والی18.64 ارب روپے کی وصولیوں کے مقابلے میں صرف3.1 فیصد زیادہ ہیں۔