بھارتی قیادت کے عزائم

بھارتی قیادت کی یہ پرانی خواہش ہے کہ بھارت کو ایک عالمی قوت کے طور پر تسلیم کیا جائے ...


Editorial June 02, 2014
بھارتی قیادت کی یہ پرانی خواہش ہے کہ بھارت کو ایک عالمی قوت کے طور پر تسلیم کیا جائے. فوٹو؛فائل

بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی نے اپنے عہدے کا حلف اٹھانے کے بعد پہلی بار اپنی سیاسی جماعت بی جے پی کے ہیڈ کوارٹر کا دورہ کیا۔ اس موقع پر انھوں نے کہا کہ سارک ممالک کے سربراہان کو تقریب حلف برداری میں شرکت کی دعوت دینا درست اور بروقت فیصلہ تھا۔ اخباری اطلاعات کے مطابق اس موقع پر انھوں نے کہا کہ دنیا کو بھارت کی جمہوری طاقت کا ادراک کرنا ہو گا تاکہ بھارت کو اس کا وہ مقام اور عزت حاصل ہو سکے جس کا وہ حقدار ہے۔

بھارتی قیادت کی یہ پرانی خواہش ہے کہ بھارت کو ایک عالمی قوت کے طور پر تسلیم کیا جائے' کانگریس کی لیڈر شپ کی بھی یہی خواہش رہی ہے تاہم ہندو قوم پرستوں میں یہ خواہش بہت زیادہ ہے۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے اس خواہش کا برملا اظہار کر دیا ہے۔ بھارت کے ہمسایہ ممالک کے لیے یہ خواہش کئی خطرات لیے ہوئے ہے کیونکہ بھارت اس وقت تک عالمی قوت کا روپ نہیں دھار سکتا جب تک وہ جنوبی ایشیا میں اپنی حاکمیت قائم نہیں کرتا' اس سلسلے میں بھارت کے عزائم ڈھکے چھپے بھی نہیں ہیں۔ بھارت سری لنکا میں فوجی مداخلت کر چکا ہے' اس کے بعد مالدیپ میں بھی اس نے فوجی کارروائی کی تھی۔

1971ء میں بھارت نے مشرقی پاکستان میں فوجی کارروائی کی جس کے نتیجے میں پاکستان دو لخت ہو گیا' بھوٹان اور نیپال تو بھارت کی طفیلی ریاستیں بن چکی ہیں جب کہ بنگلہ دیش کی موجودہ حکومت بھی بھارت کی حاکمیت تسلیم کر چکی ہے' بھارت افغانستان میں بھی ایک کھلاڑی کے طور پر موجود ہے' افغانستان میں اس کے خاصے مفادات موجود ہیں' نریندر مودی کے بیان سے یہ لگتاہے کہ انھوں نے اپنی تقریب حلف برداری میں سارک ممالک کے سربراہان کو جو دعوت دی تھی اس کا مقصد بھی دنیا کو یہی پیغام دینا تھا کہ بھارت جنوبی ایشیا کی سب سے بڑی طاقت ہے۔

ایسی صورت حال میں اگر اس خطے میں بھارتی عزائم سے کسی کو سب سے زیادہ خطرہ ہے تو وہ پاکستان ہے۔ گو بھارت چین کے خلاف بھی عزائم رکھتا ہے لیکن چین دنیا کی ایک سپر پاور ہے' بھارت اسے فوجی اعتبار سے شکست دے سکتا ہے نہ اقتصادی شعبے میں اس کا مقابلہ کرسکتا ہے۔ بھارت کی یہ خواہش ہے کہ امریکا اور یورپ اسے ایسے ہی ٹریٹ کریں جیسے وہ چین کو کرتے ہیں۔ بھارت کی یہ خواہش اس وقت تک پوری نہیں ہو سکتی جب تک وہ امریکا اور یورپ کو یہ یقین نہیں دلا دیتا کہ جنوبی ایشیا پر مکمل طور پر حاکمیت قائم ہو گئی ہے۔ جنوبی ایشیا پر حاکمیت کا مطلب یہ ہو گا کہ ایک جانب وسط ایشیا اور ایران اور دوسری جانب برما سے تھائی لینڈ تک اس کے مفادات پھیل جائیں گے۔

بحرہند کی بھی وہ سب سے بڑی طاقت بن جائے گا۔ بحرہند پر کنٹرول کا مطلب یہ ہے کہ براعظم افریقہ اور آسٹریلیا تک کی تجارت اس کے کنٹرول میں آ جائے گی۔ جنوبی ایشیا پر حاکمیت قائم کرنے کے لیے اسے سب سے پہلے پاکستان کو اپنازیر نگیں کرنا ہو گا۔ جنوبی ایشیا میں حاکمیت کے بعد ہی بھارت عالمی سطح پر اپنے لیے کوئی کردار مانگ سکتا ہے'یوں دیکھا جائے تو بھارت میں بی جے پی کی موجودہ حکومت اور نریندر مودی کی قیادت پاکستان سے بے حد چوکسی کا تقاضا کرتی ہے۔ پاکستان کو بھارت میں ہونے والی تبدیلیوں پر گہری نظر رکھنی چاہیے۔ نریندر مودی نے فوج کے سابق سربراہ وی کے سنگھ اور خفیہ اداروں سے منسلک رہنے والے ایک سخت گیر افسر اجیت ڈودل کو نئی ذمے داریاں سونپی ہیں' وی کے سنگھ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ چین کے بارے میں بڑے سخت خیالات رکھتے ہیں۔

اسی طرح وہ پاکستان کے حوالے سے بھی خاصے سخت گیر موقف کے حامی ہیں۔ اجیت ڈودل بھارت کے خفیہ اداروں سے منسلک رہے ہیں۔ ان کے بارے میں بھی یہ تاثر ہے کہ وہ پاکستان کے بارے میں سخت گیر پالیسی کے حامی ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ نریندر مودی پاکستان کے ساتھ کس قسم کا رویہ اختیار کرتے ہیں۔ اب تک تو ان کے بارے میں یہی تاثر سامنے آ رہا ہے کہ وہ پاکستان کے بارے میں سخت گیر موقف رکھتے ہیں تاہم زمینی حقائق کو سامنے رکھ کر وہ پاکستان کے ساتھ کس قسم کے تعلقات رکھنا چاہتے ہیں' اس کے بارے میں ان کا طرز عمل ہی بتائے گا۔ پاکستان کو سارے حقائق سامنے رکھ کر اپنا لائحہ عمل تیار کرنا چاہیے۔