بجٹ خسارہ کم کیا جائے

اگر بجٹ میں عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف ملے تو وہ عوام دوست بجٹ کہلائے گا ۔۔۔


Editorial June 02, 2014
اگر بجٹ میں عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف ملے تو وہ عوام دوست بجٹ کہلائے گا فوٹو: فائل

رواں مالی سال 2014-15 کے لیے 3937 ارب روپے کا بجٹ آج پیش کیا جائے گا۔ یہ بجٹ 1404 ارب روپے کے خسارے کا ہو گا۔ 2014-15 کا بجٹ مجموعی طور پر گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 400 سے 500 ارب روپے زیادہ ہو گا۔ موجودہ حکومت کا یہ دوسرا بجٹ ہے جو پیش کیا جائے گا۔ بجٹ کسی بھی حکومت کی صلاحیت کا امتحان ہوتا ہے' یہ حکومت کی مالی پالیسیوں کی سمت کا تعین کرتا اور ملک و قوم کی ترقی و خوشحالی کے لیے اس کی سوچ کا آئینہ دار ہوتا ہے۔

پوری قوم کی نظریں بجٹ پر ہوتی ہیں کہ حکومت ان کی قسمت کا کیا فیصلہ کرتی اور انھیں کیا ریلیف دیتی ہے۔ اگر بجٹ میں عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف ملے' تجارتی صنعتی' زرعی اور زندگی کے دوسرے شعبوں کو ترقی کی جانب مہمیز ملے تو وہ عوام دوست بجٹ کہلائے گا اور اگر اس میں عوامی توقعات کا خیال رکھنے کے بجائے ایک مخصوص طبقے کو زیادہ سے رعایتیں دی جائیں تو اسے عوام دوست قطعی نہیں کہا جا سکتا۔

نئے مالی سال کے بجٹ میں قرضوں اور سود کی ادائیگی کے لیے 12کھرب 80 ارب روپے رکھے جانے کی تجویز ہے۔ حکومت کو ہر سال بجٹ کا ایک بڑا حصہ قرضوں اور سود کی ادائیگی کے لیے مختص کرنا پڑتا ہے۔ اگر یہ خطیر رقم ملکی ترقی پر خرچ کی جائے تو اس سے معاشی خوشحالی کے نئے در وا ہو سکتے ہیں چونکہ حکومت نے ملکی معاشی نظام چلانے کے لیے غیر ملکی مالیاتی اداروں سے قرضہ لیا ہوتا ہے اس لیے اسے مع سود واپس بھی کرنا پڑتا ہے۔ آیندہ مالی سال کے دوران ملک کے مجموعی قرضے موجودہ سال کے 15468 ارب روپے کے مقابلے میں 16875 ارب روپے تک پہنچ جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

معاشی ماہرین اس بات پر معترض ہیں کہ موجودہ حکومت نے آئی ایم ایف سے قرضے لے کر قرضوں کے بوجھ میں مزید اضافہ کیا ہے جس سے خزانے پر مالی دبائو بڑھا ہے۔ حکومت کو غیر ملکی اداروں سے قرضے لینے کے بجائے ملکی وسائل کو زیادہ سے زیادہ بروئے کار لا کر اس مسئلے کو حل کرنے پر توجہ دینا چاہیے تھی۔ اگر ٹیکس نیٹ ہی بہتر بنا دیا جائے تو حکومت کی آمدن میں اربوں روپے کا اضافہ ہو سکتا ہے جس پر اسے ملکی اور غیر ملکی اداروں سے قرضے لینے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

حکومت کو بھی اس امر کا بخوبی ادراک ہے لہٰذا اس نے ٹیکسوں کی وصولی میں سختی کا فیصلہ کیا ہے' امیر اور مراعات یافتہ طبقے کے لیے 120 ارب روپے سے زائد کی ٹیکس رعایتیں ختم کیے جانے' سیلز ٹیکس شرح اور کم از کم سالانہ آمدنی پر ٹیکس چھوٹ موجودہ سطح ہی پر برقرار رکھے جانے کا امکان ہے' ٹیکس گوشوارے جمع نہ کرانے والوں سے دوگنا ٹیکس وصول کیا جائے گا' ٹیکس چوری میں معاونت کرنے والے ٹیکس افسروں کے خلاف کارروائی کی تجویز ہے لیکن آڈٹ کا دائرہ بڑھایا جائے گا' البتہ تنخواہ دار طبقے کو ٹیکس میں کوئی ریلیف نہیں دیا جائے گا۔ تجارتی حلقوں میں یہ بات عام ہے کہ بڑے لوگ ٹیکس افسروں کو رشوت دے کر ان ہی کی معاونت سے ٹیکس چوری کرتے ہیں' اس طرح قومی خزانے کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا جاتا ہے۔

حکومت اگر ٹیکس چوری میں معاونت کرنے والے افسروں کے خلاف تادیبی کارروائی کرے اور اس قومی جرم کا خاتمہ کر دے تو اس کی آمدنی میں خاطر خواہ اضافہ ہونا یقینی امر ہے،اس کے علاوہ جاگیرداروں' بااثر سیاستدانوں' ارکان اسمبلی اور سرمایہ داروں کو بھی حقیقی معنوں میں ٹیکس نیٹ میں لایا جائے کیونکہ یہ باتیں بھی عام ہیں کہ یہ بااثر طبقات یا تو سرے سے ٹیکس ادا ہی نہیں کرتے یا بہت معمولی ٹیکس ادا کرتے ہیں جب کہ ان کا رہن سہن اور طرز زندگی شاہانہ انداز کی عکاسی کرتا ہے جب کہ ان سے کم آمدن کمانے والا سرکاری ملازم طے شدہ شیڈول کے مطابق ٹیکس ادا کرتا ہے۔ حکومت نے امرا اور مراعات یافتہ طبقے کے لیے 120 ارب روپے سے زائد کی ٹیکس رعایتیں ختم کر کے احسن قدم اٹھایا ہے۔

بجٹ کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو سب سے زیادہ شدت سے انتظار ہوتا ہے کہ اس بار حکومت ان کی تنخواہ یا پنشن میں کتنا اضافہ کرتی ہے۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہ اور پنشن کی مد میں دس سے پندرہ فیصد کی تجویز ہے۔ ذرایع کے مطابق آیندہ مالی سال میں دفاعی بجٹ 7 سو ارب روپے سے تجاوز کر جائے گا' قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ کے تحت صوبوں کو مجموعی طور پر 1703 ارب روپے دیے جائیں گے جب کہ بجلی کے شعبے میں سبسڈی کے لیے 226 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے۔ توانائی کے بحران کے حل کے لیے نئے منصوبوں کے لیے 260 ارب روپے مختص کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے.

ذرایع کے مطابق نئے منصوبوں میں دیامر بھاشا ڈیم اور داسو ٹیم شامل ہیں جن سے آٹھ ہزار میگاواٹ بجلی پیدا ہوگی' 969 میگاواٹ کے نیلم جہلم پن بجلی منصوبے پر کام کی رفتار تیز کی جائے گی' اسی طرح منگلا ڈیم پر بجلی پیدا کرنے والے یونٹ بہتر بنانے کے لیے خصوصی رقم مختص کی جا رہی ہے جس سے قومی گرڈ میں تین سو دس میگاواٹ بجلی کا اضافہ ہوگا۔ حکومت توانائی بحران پر قابو پانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔ ساہیوال میں کول پاور پلانٹ کا سنگ بنیاد رکھنے کے علاوہ نندی پور پراجیکٹ کا افتتاح کر دیا گیا ہے۔ حکومت جس سرعت سے پاور پراجیکٹ پر کام کر رہی ہے اسی دیکھ کہ یہ اندازہ لگانا قطعی مشکل نہیں کہ وہ آیندہ چند سالوں میں بجلی پر قابو پانے میں کامیاب ہو جائے گی، جب بجلی وافر مقدار میں ملے گی تو صنعتی اور تجارتی شعبے کی ترقی کی رفتار کو چار چاند لگ جائیں گے۔

مقامی سطح پر تیار ہونے والی گاڑیاں سستا کرنے کا فیصلہ بالکل درست ہے اس سے مقامی سطح پر آٹو مینو فیکچرنگ کو فروغ ملے گا اورروز گار کے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا ہوں گے۔ حکومت اسمال انڈسٹری کے فروغ کے لیے بھی جامع پالیسی تشکیل دے، اسمال انڈسٹری جہاں ملکی ترقی میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے وہاں عوامی خوشحالی کا بھی باعث بنتی ہے۔ جب تک روز گار کے مواقع وسیع نہیں ہوں گے' بیروز گاری پر قابو نہیں پایا جا سکتا۔ معاشی ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ماضی کی طرح پانچ سالہ ترقیاتی منصوبہ تشکیل دیا جانا چاہیے تاکہ تمام شعبوں میں ترقی کے عمل کی رفتار کو تیز کیا جاسکے ۔