اقتصادی سروے اور معاشی ثمرات

ارباب اقتصادیات کو یہ تلخ حقیقت مدنظررکھنا ہوگی کہ جب تک بندہ مزدورکے اوقات تلخ رہیں گے،غربت وبدحالی ختم نہیں ہوگی


Editorial June 04, 2014
ارباب اقتصادیات کو یہ تلخ حقیقت مدنظررکھنا ہوگی کہ جب تک بندہ مزدورکے اوقات تلخ رہیں گے،غربت وبدحالی ختم نہیں ہوگی فوٹو: فائل

GILGIT: ابھی زیادہ دن نہیں گزرے جب عالمی شہرت یافتہ اقتصادی ماہر جم اونیل نے پیشگوئی کی تھی کہ پاکستان 2050 تک دنیا کی 18 ویں بڑی معیشت بن جائے گا جس کی جی ڈی پی3.33 ٹریلین ڈالر اور اس کا حجم جرمنی کی موجودہ معیشت کے برابر ہو جائے گا ۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو حالیہ اقتصادی سروے رپورٹ میں قومی معیشت کی ترقی ، شرح نمو اور معاشی ثمرات کے حوالے سے اشاریے خاصے مثبت ہیں تاہم ابھی ملکی معیشت کے حقیقی ثمرات سے عوام کے بہر مند ہونے کا سفر صبر آزما ہے جس کے لیے ہمارے اقتصادی مسیحائوں کو معاشی اور سماجی نظام کی مکمل قلب ماہیت کرنا پڑیگی ۔

بہر کیف صورتحال یہ ہے کہ مہنگائی ،غربت اور قرضوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور یہ کہ اقتصادی ترقی کا ہدف پورا نہ ہوسکا جب کہ فی کس آمدن بڑھ گئی ۔بلاشبہ اعداد وشمار کے آئینے میں اگرچہ بجٹ کی طرح اقتصادی سروے رپورٹ کی ہیئت کچھ اور ہوتی ہے جو زمینی اقتصادی حقائق، ملکی و مقامی کاروبار،عالمی تجارت، منڈی کی حرکیات،اور اسٹاک مارکیٹ کے اتار چڑھائو کی مرہون منت ہوتی ہے اس لیے مسلم لیگ(ن)کی حکومت نے اپنے پہلے بجٹ میں اقتصادی ترقی اور مہنگائی میں کمی سمیت مقررکردہ دیگر اہم اقتصادی اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہنے کا اعتراف کیا۔ تاہم وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ بجٹ میں رکھے گئے اہداف میں 75 فیصد سے زائد حاصل کرلیے گئے ہیں اور چھ سال میں پہلی بار جی ڈی پی گروتھ چار فیصد سے زائد ہوئی ہے۔

اختتام پذیر مالی سال کی اقتصادی کارکردگی کے بارے میں سروے جاری کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ آیندہ تین سال کے دوران اقتصادی شرح ترقی کو7فیصد سے بڑھایا جائے گا۔ قرضوں کی ادائیگی سے سالانہ 42 ارب روپے کی بچت ہوگی۔ حکومتی پالیسیوں کے نتیجے میں کاروباری سرگرمیوں کو فروغ حاصل ہوا۔ کمپنیوں کی رجسٹریشن کی شرح میں 10فیصد سے زائد کا اضافہ ہوا۔ گزشتہ مالی سال میں صنعتوں کی شرح ترقی1.37فیصد تھی جو رواں سال بڑھ کر5.84فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ توانائی کے شعبے کے گردشی قرضے ختم کرنے کے اقدامات سے پیداوار میں بہتری آئی۔ 40 سے زائد چھوٹی بڑی صنعتوں کی کارکردگی گزشتہ سال منفی1.685فیصد تھی جو رواں سال بڑھ کر11.31فیصد ریکارڈ کی گئی ہے ۔

گزشتہ سال خدمات کے شعبے کی شرح ترقی 4.85 فیصد تھی جو رواں سال کم ہوکر 4.29 فیصد رہی ۔مزید برآں ہول سیل اور ریٹیل کے کاروبار میں شرح نمو 3.38فیصد سے بڑھ کر5.18فیصد تک پہنچ گئی۔ ٹرانسپورٹ، اسٹوریج اور کمیونیکیشن کے شعبوں میں0.10 فیصد کی ترقی ہوئی جو2.88فیصد بڑھ کر 2.98 فیصد ریکارڈ کی گئی ۔ رپورٹ کے مطابق زرعی شعبے کی مجموعی کارکردگی میں کمی آئی ۔ گندم، چاول اور گنے کی پیداوار میں کمی ہوئی تاہم گزشتہ سال کے مقابلے میں رواں سال کے دوران بڑی فصلوں کی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا ۔ گزشتہ سال ملکی درآمدات 36.7فیصد تھی جو بڑھ کر 37.1 ارب ڈالر ریکارڈ کی گئی ہیں۔

جولائی تا اپریل کے دوران ملکی برآمدات میں 4.24 فیصد اضافہ ہوا۔ روپے کی قدر میں ہونیوالے اضافے سے قرضوں کی ادائیگیوں کے حوالے سے42ارب روپے کی بچت ہوگی ۔قوم کو اپنے بیرون ملک مقیم ہم وطنوں کی مادر وطن سے محبت کا ثبوت ان کی مسلسل ترسیلات زر سے ملتا ہے ، اس بار بھی بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی گئی ترسیلات زر میں گزشتہ سال کے مقابلے میں11.5فیصد، غیرملکی سرمایہ کاری میں ایک ارب ڈالر سے زائد اضافہ ہوا ۔ غیرملکی سرمائے میں یورو بانڈ کی دو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری بھی شامل ہے ۔ زرمبادلہ کے ذخائر میں6ارب ڈالر سے زائد کا اضافہ ہوا اور اسٹیٹ بینک کے پاس آٹھ ارب ڈالر سے زائد کے ذخائر موجود ہیں۔ فی کس آمدنی میں3.5فیصد کی شرح نمو ریکارڈ کی گئی ہے ۔ گزشتہ سال فی کس آمدن1339ڈالر تھی جو رواں سال1386ڈالر تک بڑھ گئی ہے۔

اسٹاک مارکیٹ کی شرح نمو خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے ۔ ادھر رواں مالی سال دس ماہ کے دوران خدمات کا خسارہ دو ارب ڈالر سے بھی تجاوز کر گیا ۔ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ خدمات کا خسارہ براہ راست کرنٹ اکائونٹ بیلنس پر پڑے گا جو کے پہلے ہی سے بہت زیادہ خسارہ برداشت کر رہا ہے ملکی فاریکس ذخائر میں کروڑوں ڈالرز کنزیوم کر رہا ہے،خسارے پر قابو پانے کے لیے ضروری ہے طویل المدتی پالیسی کا نفاذ کیا جائے۔ یہ حقیقت ارباب اختیار کو پیش نظر رکھنی ہوگی کہ صنعتی ترقی اور سرمایہ کاری کے لیے امن وامان کی مثالی صورتحال ناگزیر ہوتی ہے جب کہ دہشت گردی نے قومی معیشت کا واقعی بھرکس نکال دیا ہے ۔

ادھر منی پاکستان کے صنعت کاروں نے بھتہ خوری اور اغوابرائے تاوان کی نہ رکنے والی وارداتوں سے دلبرداشتہ ہو کر کراچی کے تمام صنعتی علاقوں میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا مطالبہ کردیا ہے۔ ملک کے معاشی انجن کراچی کی مخدوش معاشی اور سماجی حالت حکمرانوں سے دوراندیشی اور معاشی وژن کا تقاضہ کرتی ہے ۔ یہ احسن فیصلہ ہے جس کے تحت حکومت نے پچھلے 3 سال کے دوران دہشت گردی کے سبب معیشت کو پہنچنے والے نقصانات اور پچھلے13سال کے دوران افغان جنگ میں پاکستان کے اخراجات کی تفصیل جاری کردی ہے۔

پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں کے سبب گزشتہ تین سال کے دوران معیشت کو28ارب 45کروڑ98لاکھ ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا جب کہ دنیا کے امن کی خاطر2002ء سے شروع ہونے والی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن اسٹیٹ کے طور پر پاکستان نے102.51ارب ڈالر (8ہزار264ارب روپے) جھونک دیے، سرمایہ کاری پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوئے تجارتی سرگرمیاں ماند ہونے سے ٹیکس وصولیاں بھی بری طرح متاثر ہوئیں ۔ ایکسپورٹ کی مد میں عالمی مارکیٹ میں بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔بزنس کمیونٹی نے اقتصادی سروے پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاشی اشاریے اور اعداد و شمار سے ثابت ہوتا ہے کہ ملکی معیشت ترقی کر رہی ہے لیکن اقتصادی مبصرین اس امر پر اصرار کرتے ہیں کہ ابھی معیشت کی سمت درست کرنے کی ضرورت ہے۔

ارباب معیشت و اقتصادیات کو یہ تلخ حقیقت مد نظر رکھنا ہوگی کہ جب تک بندہ مزدور کے اوقات تلخ رہیں گے ، غربت و بدحالی ختم نہیں ہوگی ، کوئی معیشت مثالی، مستحکم اور ٹریکل ڈائون کی دعویدار نہیں کہلائی جاسکے گی ۔ یہی وجہ ہے کہ ملک کو درپیش معاشی مسائل کا حوالہ دیتے ہوئے ملک کے سائنسدانوں نے ایک پریس کانفرنس میں حکومت کو متنبہ کیا ہے کہ ملک میں خوراک کی کمی کا مسئلہ شدت اختیار کر سکتا ہے، گزشتہ سال میں ملک میں گندم وافر مقدار میں پیدا ہوئی، تھر میں سیکڑوں بچوں کی اموات جاگیردارانہ نظام کی سفاکی کا نتیجہ تھی، بڑھتی ہوئی آبادی پر قابو پانا ہوگا، بائیوٹیکنالوجی میں قابل قدر ترقی سے ملک میں موجود غذائی قلت پر قابو پایا جاسکتا ہے، پاکستان نے بائیوٹیکنالوجی میں گراں قدر ترقی کی ہے ۔

وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ملک میں غُربت کا معیار جانچنے کے لیے ابھی تک کوئی تعین نہیں ہوسکا ہے ، کوئی ڈیڑھ ڈالر یومیہ تو کوئی دو ڈالر سے کم یومیہ آمدنی رکھنے والوں کو خط غُربت سے نیچے تصور کرتے ہیں ، اگر دوڈالر یومیہ تک کمانے والوں کو معیار بنایا جائے تو ملک کی آدھی آبادی خط غُربت سے نیچے زندگی گزارنے والوں میں شمار ہوگی ۔ بہر حال حکومت کو ایسا معاشی نظام لانا چاہیے کہ جو عوام کی خوشحالی کا باعث بنے اور کوئی یہ نہ کہے کہ پاکستان میں جو بھی کچھ ہے وہ صرف غربت کا پھیلائو ہے۔