آئی سی سی اینٹی کرپشن یونٹ کا سالانہ بجٹ 55 لاکھ ڈالر

دبئی ہیڈ کوارٹر میں یونٹ کے فلور پرکسی غیرمتعلقہ شخص کو جانے کی اجازت نہیں


Sports Desk June 04, 2014
دبئی ہیڈ کوارٹر میں یونٹ کے فلور پرکسی غیرمتعلقہ شخص کو جانے کی اجازت نہیں۔ فوٹو: فائل

HYDERABAD: لاکھوں ڈالر اخراجات کے باوجود آئی سی سی کے اینٹی کرپشن یونٹ کی کارکردگی صفر ہے، اس کا سالانہ بجٹ 55 لاکھ ڈالر ہے، اس میں7 جاسوس بھرتی کیے گئے ہیں۔

دبئی ہیڈ کوارٹر میں یونٹ کے فلور پر کسی غیرمتعلقہ شخص کو جانے کی اجازت نہیں، تحقیقات کی رفتار انتہائی سست اور اے سی ایس یو اب تک کوئی بھی بڑا تیر مارنے میں ناکام رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے اینٹی کرپشن و سیکیورٹی یونٹ کا سالانہ بجٹ 5.5 ملین ڈالر ہے، اس کو سات جاسوسوں کی خدمات حاصل ہیں، 2010 سے انگلینڈ کے سابق چیف انسپکٹر آف کانسٹیبلری سر رونی فلینگن اس کے سربراہ ہیں،یونٹ کا آفس دبئی میں آئی سی سی کے صدردفتر میں ہے، اس کے فلور پر دیگر آئی سی سی اسٹاف کو جانے کی اجازت نہیں ہے۔ اس کے باوجودکارکردگی نہ ہونے کے برابر ہے، نیوزی لینڈ کے سابق کرکٹر لوونسنٹ نے 2008 سے 2012 کے دوران کرکٹ میں کرپشن کا اعتراف کیا مگر اس وقت وہ آئی سی سی کی پکڑ میں نہیں آئے اور اب بھی تحقیقات مکمل ہوتی دکھائی نہیں دے رہی ہیں۔

لوونسنٹ اور برینڈن میک کولم سمیت تین افراد نے سابق کیوی آل رائونڈر کرس کینز پر الزامات عائد کیے مگر ان سے پوچھ گچھ تک نہیں کی گئی۔ اے سی ایس یو کی جانب سے اب تک جو بڑا معرکہ سر انجام دیا گیا وہ کینیا کے موریس اوڈمبے کا کیس ہے، جس پر 2004 میں ایک بکی سے رقم لینے پر پابندی عائد کی گئی تھی۔ 2010 میں پاکستانی پلیئرز کے اسپاٹ فکسنگ میں ملوث ہونے کا انکشاف ایک جریدے 'نیوزآف دی ورلڈ' نے کیا تھا بعد میں یہ کیس آئی سی ایس یو نے اپنے ہاتھ میں لیا، کچھ عرصہ قبل اسی یونٹ کی جانب سے بنگلہ دیش پریمیئر لیگ میں کرپشن کا ایک بڑا کیس بے نقاب کیا گیا مگر تمام ملزمان بری ہوچکے ہیں۔