کراچی پولیس کے سربراہ امن و امان کی ابتر صورتحال پر قابو پانے میں ناکام

شہر میں پیدا ہونیوالی صورتحال پرغلام قادر تھیبو کی جانب سے شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کیلیے حکمت عملی نہیں بنائی گئی


Staff Reporter June 04, 2014
ہنگامی صورتحال میں غلام قادر کی ناقص حکمت عملی سامنے آگئی، شہری،پولیس کو ریڈ الرٹ کے احکام تھانوں تک ہی محدود رہے۔ فوٹو: عرفان علی/ ایکسپیریس/فائل

کراچی پولیس کے سربراہ ایڈیشنل آئی جی کراچی غلام قادر تھیبو گزشتہ روز شہر میں امن و امان کی ابتر صورتحال پر قابو پانے میں بری طرح ناکام ہوگئے۔

شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلیے کسی بھی قسم کی کوئی مؤثر حکمت عملی اپنائی گئی اور نہ ہی شہریوں کو تحفظ فراہم کیا گیا، تفصیلات کے مطابق پیر کی دوپہر شہر بھر میں امن و امان کی غیر یقینی صورتحال اور شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے میں کراچی پولیس کے سربراہ غلام قادر تھیبو بری طرح ناکام ہوگئے ، شہر میں دکانیں و کاروبار بند کرانے کے لیے دوران کئی علاقوں میں نامعلوم افراد کی جانب سے فائرنگ کے واقعات سے مارکیٹوں اور بازاروں میں آنے الے خریداروں خصوصاً خواتین اور بچوں میں بھگدڑ مچ گئی اور ان حالات میں شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے پولیس کا نام و نشان تک نہیں تھا۔

شہر میں اچانک پیدا ہونے والی غیر یقینی اور کشیدہ صورتحال کے پیش نظر کراچی پولیس کے سربراہ غلام قادر تھیبو کی جانب سے شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلیے فوری طور پر کوئی حکمت عملی نہیں اپنائی گئی جس کی وجہ سے شہری شدید خوف و ہراس میں مبتلا رہے اور ا پنی جان کی سلامتی کی دعائیں مانگتے ہوئے گھروں کی جانب روانہ ہوئے جبکہ گھروں میں موجود ان کے اہلخانہ بھی ان کے خیریت سے گھر پہنچنے کی بھی دعائیں کرتے رہے ، امن و امان کی ابتر صورتحال ، جلاؤ گھیراؤ اور فائرنگ کے واقعات کے دوران پولیس سڑکوں سے غائب رہی۔

شہریوں کا کہنا تھا کہ کراچی پولیس کے سربراہ کی اولین ذمے داری شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانا ہوتا ہے جبکہ شہر بھر کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے کراچی پولیس کے سربراہ کی ناقص حکمت عملی کھل کر سامنے آگئی جس کی وجہ سے شہری بے یقینی کی صورتحال میں انتہائی خوف و ہراس میں مبتلا رہے اور انھیں کہیں بھی پولیس دکھائی نہیں دی ، شہریوں کا کہنا تھا کہ کراچی پولیس کے سربراہ کی جانب سے پولیس کو ریڈ الرٹ کرنے کے احکامات صرف تھانوں تک ہی محدود رہے۔